پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے اتوار کو ہونے والے اہم اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس میں ملک کی سیاسی صورتحال، آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے انتخاب اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق قانونی و سیاسی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اتوار کو جاتی امرا میں مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان تقریباً دو گھنٹے طویل ملاقات ہوئی، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی موجود تھیں۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس کے ایجنڈے میں سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کا معاملہ سب سے نمایاں رہا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نواز شریف کو بانی پی ٹی آئی کا شفا انٹرنیشنل کی جگہ پمز (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) میں طبی معائنہ کرانے کی وجوہات اور حکومتی تدابیر سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کی طرف سے ممکنہ توہینِ عدالت کی درخواست اور اس کے مقابلے کے لیے دستیاب قانونی اور سیاسی آپشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت مزید کسی بھی سیاسی یا آئینی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے تمام اقدامات آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اٹھائے جائیں۔ علاوہ ازیں، ملاقات کے دوران آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے مختلف ناموں پر بھی غور کیا گیا تاکہ وہاں کی سیاسی صورتحال کو پائیدار بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حکومت اور اتحادیوں کو مل کر آئینی اداروں کے فیصلوں پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ ملکی استحکام کی پالیسی کو آگے بڑھانا چاہیے۔



