68.8 F
Pakistan
Wednesday, May 6, 2026
HomeEntertainmentسیاستدانوں کے غیر قانونی رول یعنی من پسند لوگوں کی پوسٹنگ، اداروں...

سیاستدانوں کے غیر قانونی رول یعنی من پسند لوگوں کی پوسٹنگ، اداروں کی تباہی کا سبب بنی اور بعد میں وہ خود بھی اس سے محفوظ نہیں رہے

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 138لیکن صاحب ذی ہوش میرا جس ”مرغ صبح آگاہی“ سے اِن دنوں نزدیکی ہمسایہ کے گھر سے واسطہ پڑا ہوا ہے تو جناب اُن کا دورانیہ صبح کی اذان سے شروع کر کے اذان مغرب تک ہے۔ جب دیکھو چاک و چوبند ایک ہی دلیری سے بانگ دئیے جا رہے ہیں۔ اب مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اِس کی نسبت بانگِ درا سے ہے یا یہ کوئی ”را“ کا ایجنٹ اِدھر در آیا ہے کہ مسلمانوں کے ”مرغ صبح آگاہی“ کے فیصلے کو ہندوستان کے مودی کے ”ہندو توا“ میں بدلنے کا درس دے رہا ہے۔ جونہی کورونا کا زور ذرا تھمتا ہے مجھے اِس کے سارے ضروری ٹیسٹ بمعہ ”DNA“ کروا کے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کرنا ہے۔ بھئی ملک میں ہونے والی ان غیر معمولی حرکات و سکنات کا ہمیں فوراً پتہ چلانا چاہیے ورنہ پھر کیا فائدہ ”جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت“! !(At End of Book) پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کو جس طرح گورنمنٹ کی طرف سے بغیر کسی منصوبہ بندی کے بے تحاشا زمینیں الاٹ کی گئیں اس سے لوگوں میں امیر اور غریب کی تفریق نے جنم لیا اور جعلی الاٹمنٹوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پاکستان میں 1970ء کی دہائی تک یہ سلسلہ کھلم کھلا جاری رہا۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ بغیر محنت کے دولت چند لوگوں کے ہاتھ میں آگئی اور غریب آدمی مہنگائی، بیروزگاری کی وجہ سے غریب ہی رہا۔ اس غیر منصفانہ الاٹمنٹ نے دولت کو چند ہاتھوں میں آنے میں مدد اور سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ یہی لوگ دولت کے بل بوتے پر اسمبلیوں میں پہنچ کر حکمرانی کرنے لگ گئے۔ان جاگیرداروں اور دولت مند ممبران پارلیمنٹ نے عوام یا ملکی ترقی کے لیے قانون سازی کرنے کی بجائے اپنے مفادات کو ہمیشہ مد نظر رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد کسی حکمران ٹولے نے یکساں نظام تعلیم اور تعلیم عام کرنے کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی۔ ہمارے مذہب میں مل کر خرچ کرنے کا حکم ہے نہ کہ جمع کرنے کا کیونکہ بالآخر انسان نے قبر میں خالی ہاتھ ہی جانا ہوتا ہے اور دنیا میں جمع کیا ہوا مال آخرت میں اُس کے کسی کام نہیں آتا۔ ہمارے ہاں سرکاری سطح پر نہ سکول بنائے گئے اور نہ ہی معیاری یونیورسٹیاں بنائی گئیں۔ استاد جو کہ سب سے معزز پیشہ ہونا چاہیے تھا اس کو کوئی اہمیت نہ دی گئی اور نہ ہی سوسائٹی میں اُس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس کسٹم، پولیس اور طاقت کے حامل اداروں کے ملازمین کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ آج تک کسی بڑے کرپٹ آدمی کا احتساب نہیں ہوا، اسی وجہ سے کنبہ پروری اور اجارہ داری نے جنم لیا۔ قومی اقدار اور کردار کے فقدان کے حامل حکمرانوں نے صوابدیدی اختیارات کے ذریعے قومی جائیدادوں کی کھلے عام بندر بانٹ کی جس سے ملک کی معاشی حالت اور ابتر ہوگئی۔ سیاستدانوں کے غیر قانونی رول یعنی من پسند لوگوں کی پوسٹنگ، اداروں کی تباہی کا سبب بنی اور بعد میں وہ خود بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ حکومت پنجاب ملازمین کی کم ازکم اجرت 40ہزار روپے کو ریگولیٹ کرنے کیلئے پر عزم

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments