مصنف: اللہ دتہ نجمی قسط: 73ستمبر 2016ء کا واقعہ ہے۔ رات کے وقت مجھے فون پر اطلاع ملی کہ علی کو سانپ نے ڈس لیا ہے اور وہ بی وی ہسپتال، بہاولپور میں داخل ہے۔ ڈاکٹروں نے خون کی 4 بوتلوں کا فوری بندوبست کرنے کو کہا ہے۔ رات کے وقت فون کال آنے، علی کے ہسپتال میں داخل ہونے اور اُس کے لئے خون کا بندوبست کرنے کی تاکید کرنے پر وسوسوں نے میرے ذہن کو بحرِ تشویش کی بے رحم اور سفاک لہروں کے سپرد کر دیا تھا۔ میرے لاڈلے بھتیجے اور میرے بھائی کے اکلوتے بیٹے علی کا بچپن میرے پاس گزرا تھا۔ اُس کی والدہ وفات پا چکی تھیں۔ انتہائی عجلت میں ضروری سامان پیک کیا اور کچھ ہی دیر میں ہماری گاڑی موٹر وے پر فراٹے بھرتی ہوئی بہاولپور کی طرف دوڑ رہی تھی۔ میرا سب سے چھوٹا بھائی، مقصود احمد گاڑی چلا رہا تھا اور پچھلی سیٹ پر براجمان میری بیوی ہماری اڑھائی سالہ نواسی ہانیہ اسد کو گود میں بٹھا کر دافع بلیات کے وظائف کر رہی تھی۔ میں خاموش بیٹھا دو تین ایسے دوستوں کو فون کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا، جن کی ممکنہ طور پر بی وی ہسپتال میں اچھی جان پہچان ہو سکتی تھی۔ سورج نکلتے ہی پہلا فون اشرف بھٹی کو کیا جس کا کزن وہاں نیورو وارڈ کا انچارج تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں اشرف بھٹی نے بتایا،”ڈاکٹر صاحب تو چند ہفتے قبل ریٹائر ہو گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے میڈیسن وارڈ کے انچارج ڈاکٹر قاضی (پورا نام بھول گیا ہوں) کو مریض کا خاص خیال رکھنے کو کہہ دیا ہے اور اُن کی طرف سے آپ کو بھرپور تعاون ملے گا“۔ دوسرا فون ریاض الحق کو کیا۔ ریاض چھٹی جماعت سے لے کر کالج تک میرے کلاس فیلو رہے تھے۔ تعلق انتہائی پڑھے لکھے اور خوشحال خاندان سے تھا۔ اُن کے ایک ماموں ہمارے سکول کے زمانے میں اِسی بی وی ہسپتال کے ایم ایس ہوا کرتے تھے اور دوسرے ماموں ارشد بدر محکمہ ٹی اینڈ ٹی، اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ تب ٹی اینڈ ٹی کا شمار اہم ترین محکموں میں ہوا کرتا تھا۔ اِن سب حقائق کے باوجود ریاض الحق اور تعلیم کی آپس میں کوئی خاص نہیں جمتی تھی۔ چنانچہ بی اے کے دوران ہی اُنہوں نے پاسکو میں ملازمت کر لی۔ شادی بھی ساتھ والے گاؤں کے ایک پڑھے لکھے اور معزز گھرانے میں ہو گئی۔ اُن کا کزن بی وی ہسپتال میں نیوروسرجن، چھوٹا بھائی ڈسپنسر جبکہ 2بیٹیاں نرسنگ کے شعبے سے منسلک تھیں۔ ریاض الحق نے مجھے بے فکر ہو کر آنے کو کہا اور وقفے وقفے سے ہماری لوکیشن دریافت کرتے رہے۔ ملتان کے قریب پہنچ کر تیسرا فون چوہدری جعفر کو کیا۔ چوہدری جعفر کا شمار میرے یونیورسٹی کے اچھے دوستوں میں ہوتا ہے۔ اُس زمانے میں وہ ایس ایس پی موٹر ویز ملتان تعینات تھے۔ قبل ازیں وہ ایس پی بہاولپور بھی رہ چکے تھے۔ انہوں نے ہسپتال وزٹ کرنے کا وعدہ کیا۔ صبح11بجے کے قریب بی وی ہسپتال پہنچے تو ریاض الحق اپنے چھوٹے بھائی اور زاہد (ہمارا بی اے کا کلاس فیلو) کے ساتھ میرا انتظار کر رہے تھے۔ وارڈ میں پہنچ کر سب سے پہلے علی کی خیریت دریافت کی۔ اُسے حوصلہ دینے کے بعد میں ڈاکٹر قاضی سے ملنے چلا گیا۔6 فٹ پلس ڈاکٹر قاضی قد کے تناسب سے صحت مند اور خوش اخلاق نکلے۔ مجھے ساتھ لیا اور وارڈ میں علی کے بیڈ پر آ گئے۔ فائل دیکھی، علی کا جسمانی معائنہ کیا، ضروری سوال و جواب کئے، ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو کچھ ہدایات دیں اور اُسی انداز میں مجھے تسلی دینے لگے جس طرح آدھا گھنٹہ پہلے میں علی کو دے رہا تھا۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس یکم اکتوبر کو طلب کرنے کا فیصلہ
رات کے وقت فون پر اطلاع ملی کہ سانپ نے ڈس لیا ہے،خون کا بندوبست کرنے کی تاکیدنے ذہن کو بحرِ تشویش کی بے رحم اور سفاک لہروں کے سپرد کر دیا
RELATED ARTICLES



