اذیت بھرے واقعات ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ دُکھ کی انی ہے کہ ہر روز چبھتی ہے ابھی اس خبر سے دِل مغموم تھا کہ ایک غریب باپ ملتان کے قبرستان میں اپنے جوان بیٹے مظہر الاسلام کی نعش بغیر کفن کے دفنانے پہنچ گیا، کیونکہ اس کے پاس کفن کے پیسے نہیں تھے۔یہ خبر مقامی تھانہ لوہاری گیٹ تک پہنچی تو پولیس والوں نے پیسے جمع کر کے کفن دفن کا اہتمام کیا۔اس خبر کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ راؤ مظہر الاسلام ایک اور جگہ خراش داستان لے آئے۔یہ داستان بھی ایک نعش کو دفنانے سے متلعق تھی،مگر اس کے پس پردہ جوکہانی راؤ مظہر الاسلام نے سنائی، دِل پاش پاس ہو گیا۔راؤ مظہر السلام میرا شاگرد ہے،ملتان کا ایک معروف سیاسی و سماجی رہنما ہے۔نت نئے فلاحی منصوبے بناتا اور اپنے وسائل سے اُن پر عمل کراتا رہتا ہے۔لوگ اُس کی خدمات کو مانتے بھی ہیں اور سراہتے بھی ہیں۔کل اُس نے اپنے احباب کو ایک ایسا واقعہ سنایا کہ زندگی سے اعتبار اُٹھ گیا،رشتوں کی قلعی کھل گئی اور انسانیت زندہ درگور ہو گئی۔انہوں نے ایمرسن کالج جو اب یونیورسٹی بن چکا ہے، کے ایک سابق پروفیسر حسام الدین قریشی کی بے یارو مددگار حالت میں موت کا ایک ایسا دردناک منظر پیش کیا کہ اپنے آپ سے شرم آنے لگی کیا ہم اس دور میں زندہ ہیں، جس میں انسان کی سوچ جانوروں سے بھی بدتر ہو گئی ہے۔ اس درد ناک کہانی کے مطابق پروفیسر حسام الدین قریشی کے بچے جن میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں، اپنی ماں کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہیں۔بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھیجا تھا وہ تعلیم کے بعد وہیں سیٹل ہو گیا، تین بیٹیاں بھی وہاں گئیں اور مستقل آباد ہو گئیں۔ اُن کے ساتھ والدہ بھی چلی گئیں، بیٹے نے وہاں شادی کر لی۔ پروفیسر حسام الدین قریشی بیوی کے جانے پر امریکہ جانے کے لئے آمادہ ہو گئے۔امریکہ میں بیٹے نے انہیں چند دن اپنے پاس رکھا اور پھر انہیں اولڈ ہوم میں داخل کرا دیا۔ اولڈ ہوم کی پابند زندگی پروفیسر حسام الدین قریشی کے لئے چند دِنوں میں ہی عذاب بن گئی،انہوں نے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کر لیا۔وہ پاکستان واپس آ گئے اور اکیلے گھر میں رہنے لگے،گھر کے ساتھ ہی اُن کی ایک دکان تھی، جو انہوں نے کرائے پر دے رکھی تھی کہ جس دن وہ گھر سے باہر نہ آئیں تو دروازہ کھٹکھٹا کر خیریت پوچھ لینا۔اس محرم الحرام کی وجہ سے دکاندار نے دکان بند رکھی،درمیان میں جمعہ بھی تھا اس لئے خیریت معلوم کرنے کا یہ سلسلہ رُک گیا۔ اسی دوران پروفیسر حسام الدین قریشی گھر کے چھوٹے سے صحن میں نجانے کس وقت انتقال کر گئے۔اُدھر امریکہ میں اُن کی اہلیہ کو فون پر بات نہ ہونے سے پریشانی ہوئی۔ عزیز و اقارب کو فون کئے کہ جا کر پتہ کریں۔ وہ آئے تو انہوں نے دکاندار سے پوچھا، اُس نے کہا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ پروفیسر صاحب نے کھولا نہیں انہوں نے دو تین بار دستک دی، نہ کھلا، اندر سے بُو آ رہی تھی۔دروازہ توڑکر اندر گئے تو وہاں پروفیسر حسام الدین قریشی کی مسخ شدہ نعش پڑی تھی۔ پولیس کو اطلاع دی گئی وہ آئی تو نعش کی تعفن زدہ حالت دیکھ واپس چلی گئی، پھر ایدھی فاؤنڈیشن والوں سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا پولیس اگر اس نعش کو لاوارث لکھ دے تو وہ تدفین کر دیں گے۔ پولیس والوں نے نعش کو لاوارث قرار دینے سے انکار کر دیا، کیونکہ اُن کی پہچان اور عزیز و اقارب تو دنیا میں موجود تھے۔ راؤ مظہر الاسلام نے صفائی کرنے والے خاکروبوں سے نعش اٹھوانے کی کوشش کی، مگر وہ بھی نعش کی حالت دیکھ کر غائب ہو گئے۔ سپریم کورٹ کا بہنوں کو 71 سال بعد وراثتی جائیدار میں حصہ دینے کا حکم کافی وقت گزر جانے کے بعد علاقے کی مسجد خضراء کے پیش امام مولا خالد سعیدی نے جو سکول کے مدرس بھی ہیں،اپنے شاگردوں کے ساتھ مل کر مسخ شدہ نعش نکالی، پانی ڈال کے غسل دیا، کفن پہنایا اور نمازِ جنازہ خود پڑھائی، جس میں کل چار افراد تھے۔ قاری صاحب کو پروفیسر حسام الدین قریشی کے بیٹے کا فون آیا۔ کہا وہ جلد آ کر آپ کا شکریہ ادا کرے گا۔ قاری صاحب نے کہا جب باپ زندہ تھا، تب تو آئے نہیں،اب تو صرف جائیداد بیچنے کے لئے آؤ گے، میرے شکریے کی ضرورت نہیں۔کہنے کو یہ ایک خاصہ ہے مگر درحقیقت یہ ہمارے اخلاقی سماجی زوال کی ایک بہت گھمبیر داستان ہے۔یہ واقعات عہد جدید کے زوال کی نشانیاں ہیں۔ایک زمانہ تھا اور وہ کوئی بہت پرانا زمانہ نہیں تھاکہ بچے اپنے والدین پر جان چھڑکتے تھے اب تو ایسے گھناؤنے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ بیٹے یا بیٹیوں نے اپنے والد کو جائیداد پر قبضے کے لئے مار دیا۔لاہور میں ایک معروف ہسپتال کے مالک ڈاکٹر کی بیٹے کے ہاتھوں موت تو حالیہ زمانے کی بات ہے پھر ذرا لاہور یا کسی بڑے شہر کے اولڈ ہوم میں پڑے بزرگوں کی کہانیاں تو سنیں۔انہوں نے اپنی زندگی جن بچوں کی زندگی سنوارنے میں صرف کر دی، وہ انہیں بڑھاپے کے وقت اولڈ ہوم میں چھوڑ گئے۔اتنا بھی نہ سوچا کہ جب وہ چھوٹے تھے تو انہیں اگر یہ والدین کسی یتیم خانے میں چھوڑ جاتے تو انہیں کیسا لگتا اُن پر کیا گذرتی، اب تو یہ بات عام ہوتی جا رہی ہے کہ کوئی بچہ اگر ملک سے باہر خصوصاً یورپ یا امریکہ چلا گیا ہے تو آپ اسے بھول جائیں۔اُس نے واپس نہیں آنا اور نہ مستقل والدین کو اپنے پاس بلانا ہے، چند ہفتوں کی ملاقات کے لئے جا سکتے ہیں،پھر انہیں لوٹ کر اپنے ملک ہی آنا ہے۔مردوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ ان بچوں کی محتاجی قبول نہیں کرتے، جنہیں پال پوس کر جوان کیا ہو۔ وہ جب اپنی بیگمات کو راضی کرنے کے لئے اپنے ولدین کو ناراض کرتے ہیں تو یہ بات شیر کی طرح لگتی ہے۔یہ درست ہے کہ سب کے بارے میں یہ بات نہیں کی جا سکتی۔ روس کی پاکستان، افغانستان سے اختلافات ختم کرنے کیلئے مذاکرات کی اپیل یہ کہنا بہت آسان ہے کہ دنیا گلول ویلج بن گئی ہے،حالات و روایات کا فرق تو بہرطور موجود رہتا ہے میں ایسے کئی دوستوں کو جانتا ہوں،جو عمر رسیدہ ہونے کے باوجود جب اپنے بچوں کو ملنے یورپ یا امریکہ جاتے ہیں تو بہت جلد واپس آ جاتے ہیں اکثر کا شکوہ یہی ہوتا ہے کہ وہاں تنہائی کا شکار رہتے ہیں۔ کسی پارک میں بیٹھ جاتے ہیں یا کسی سڑک کنارے رکھے بنچ پر بیٹھ کے رونق دیکھتے ہیں لیکن اندر سے تنہا ہوتے ہیں، بچوں کے پاس مصروف زندگی کی وجہ سے وقت نہیں ہوتا، ویک اینڈ پر بھی وہ زیادہ وقت نہیں دے پاتے، کیونکہ انہیں اپنے بچوں اور بیوی کو بھی وقت دیتا ہونا ہے۔ یوں اجنبیت کی ایک دیوار حائل رہتی ہے اور انسان واپس لوٹ آتا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے یہ ایک معاشرتی المیہ ہے اور ہم اُس کی بری طرح زد میں ہیں۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت اسی وقت ہو گی جب یہاں روزانہ آمدورفت بڑھے گی نہ کہ کم ہو گی: ایرانی سپیکر ٭٭٭٭٭



