66.9 F
Pakistan
Thursday, October 8, 2026
HomeCrimeحوثیوں کا عدن ایئرپورٹ پر حملہ، یمن میں جنگ مزید شدت اختیار...

حوثیوں کا عدن ایئرپورٹ پر حملہ، یمن میں جنگ مزید شدت اختیار کرگئی

یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں مزید شدت آگئی ہے۔ تازہ حملے میں عدن کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب میزائل گرنے سے قاہرہ سے آنے والی پرواز کو جدہ موڑ دیا گیا، جب کہ باب المندب کے اطراف جاری لڑائی اور نئی فوجی پیش قدمیوں نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’ رائٹرز ‘ کے مطابق یمن کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ حوثیوں نے بدھ کو عدن کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور دھماکا خیز مواد سے بھرے ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ وزارت کے مطابق ایک میزائل ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب اس وقت گرا جب قاہرہ سے آنے والی ایک پرواز چند منٹ بعد لینڈ کرنے والی تھی۔ حکام نے پرواز کی لینڈنگ منسوخ کرتے ہوئے طیارے کو جدہ روانہ کردیا، جب کہ مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر رن وے پر موجود دو طیاروں کو بھی وہاں سے منتقل کیا گیا۔ حوثیوں کی جانب سے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں سے باہر موجود یمن کے بعض حصوں کے لیے مرکزی بین الاقوامی دروازہ ہے۔ یمن کے مغربی محاذ پر باب المندب کے نظاروں والے ذُباب ضلع میں لڑائی مرکوز ہے۔ یمنی فوجی اور حکومتی ذرائع کے مطابق حکومتی حمایت یافتہ فورسز ساحلی میدان کے مشرق میں واقع تزویراتی پہاڑی علاقوں کی جانب پیش قدمی کی کوشش کررہی ہیں، جہاں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان حملوں کو پسپا کردیا ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق سعودی قیادت میں اتحادی فضائی معاونت کے ساتھ یمنی حکومتی فورسز نے رواں ہفتے آبنائے کے قریب اور موخا کے اطراف میں تزویراتی علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے جوابی کارروائی شروع کی تھی۔ یہ علاقے حوثیوں نے ستمبر میں قبضے میں لیے تھے، تاہم حکومتی فورسز کی پیش قدمی برقرار رہنے کے بارے میں صورتِ حال واضح نہیں ہے۔ یمنی حکومت نے پیر کو دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فورسز موخا پہنچ گئی ہیں، جو تعز کے اہم محاذ تک رسد پہنچانے والے راستے کے ایک اہم سنگم پر واقع ہے، تاہم ’رائٹرز‘ کے مطابق زمینی سطح پر موجود یمنی فوجی حکام اور تجزیہ کاروں نے اس دعوے کو قبل از وقت قرار دیا۔ صنعاء سینٹر کے محقق حسام ردمن کے مطابق سدرن جائنٹس بریگیڈ سمیت حکومت کے حامی فورسز ذُباب پر قبضہ مضبوط کرنے اور اس کے مشرق میں پہاڑی علاقوں کی جانب پیش قدمی کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کے مطابق ان بلند علاقوں پر کنٹرول سے حکومتی فورسز کے لیے ساحل کے مزید شمالی علاقوں کی جانب پیش قدمی آسان ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب سعودی قیادت میں اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ اس نے سعودی دارالحکومت ریاض کے شمال میں ایک حوثی بیلسٹک میزائل کو بھی روک کر تباہ کردیا۔ اتحادی افواج کے مطابق یہ میزائل صنعاء کے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقے سے داغا گیا تھا۔ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ گروپ نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو متعدد ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ سعودی حکام نے فوری طور پر اس ایئرپورٹ پر حملے کی تصدیق نہیں کی۔ سعودی اتحادی افواج نے بدھ کو یہ بھی بتایا کہ اس نے جنوب مغربی سعودی شہر خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک حوثی بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کردیا۔ دوسری جانب یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط میں ایک ایئربیس کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، تاہم سعودی حکام نے ابہا ایئرپورٹ پر حملے کی فوری تصدیق نہیں کی۔ یمن میں حالیہ لڑائی وسیع تر امریکا۔ایران تنازع کے پھیلاؤ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق باب المندب کے اطراف میں جاری لڑائی اس لیے بھی اہم ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت محدود ہونے کے بعد یہ راستہ توانائی کی برآمدات کے لیے مزید اہم ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں دور کی لڑائی میں اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت نے خوراک اور پناہ کی بڑھتی ضروریات کے پیش نظر مزید فنڈنگ کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن کے بعض علاقوں میں ہر چار میں سے تین خاندان خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان تنازع 2014 میں اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کیا۔ سعودی عرب نے 2015 میں اتحادی فوج کے ساتھ یمنی حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔ اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 کی جنگ بندی سے شدید لڑائی بڑی حد تک رک گئی تھی، تاہم مستقل سیاسی تصفیہ نہ ہوسکا۔ سعودی قیادت میں اتحادی افواج ایران پر حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور مالی مدد دینے کا الزام عائد کرتی ہیں۔ حوثی اس الزام اور ایران کے علاقائی پراکسی نیٹ ورک کا حصہ ہونے کی تردید کرتے ہیں، جب کہ ایران بھی ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق ترکیہ سعودی عرب کو بنیادی طور پر دفاعی اور تکنیکی مدد فراہم کررہا ہے۔ یہ پیش رفت ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے نئے مکہ دفاعی اتحاد کے تحت اجتماعی دفاعی عزم پر عمل درآمد کے وعدے کے بعد سامنے آئی ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments