بھارت میں احتجاج اور فساد معمول بنتے جا رہے ہیں۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت تو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت گردانتا پھرتا ہے تو جمہوری نظام میں ہر مسئلے پر احتجاج، ہڑتال اور دھرنے نے وہاں کیسے جگہ بنا لی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے زیر انتظام بھارتی نوجوان جین ذی، سوشل میڈیا ایکسٹیویٹس اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں متحد ہو کر دارلحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر احتجاج کر رہی ہیں۔ اس احتجاج کے مطالبات اور نوعیت گزشتہ احتجاج سے مختلف ہیں۔ یہ احتجاج بھارتی حکومت یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے سنبھالنا ہر گز آسان نہیں ہے کیونکہ اس مرتبہ یہ احتجاجی مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ طلب کر رہے ہیں۔ جبکہ گزشتہ احتجاج میں ملک کے سرکاری امتحان نیٹ کے پیپر مبینہ طور پر لیک ہونے پر کاکروچز نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے لیے تقریباً سینتیس روز احتجاجی دھرنا دیا تھا اور بالآخر وزیر تعلیم نے وزیراعظم نریندر مودی کے احکامات پر استعفی دے دیا تھا۔ مگر اب کی بار چیف الیکشن کمشنر کا ممکنہ استعفی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو سب سے زیادہ بھاری پڑے گا۔ اس وقت بھارتی الیکشن کمیشن پر نئی ووٹر لسٹوں میں ہیر پھیر، اپوزیشن کے ووٹرز کم کرنے اور حکمران جماعت بی جے پی کے ووٹرز کی تعداد بڑھانے کے سنگین الزامات عائد ہیں۔ ان الزامات کے پیش نظر چیف الیکشن کمشنر کا استعفی جین ذی دہلی میں مانگ رہے ہیں مگر یہ احتجاج ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا بلکہ خونی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ موجودہ الیکشن کمیشن کی نئی ایس آئی آر ووٹر لسٹوں سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو ریاستی انتخابات میں شکست ہوئی ہے اور اب آنے والے اتر پردیش اور دیگر ریاستوں کے انتخابات میں مزید نقصان ہو سکتا ہے۔ تاہم اس وقت بھارت کی اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ چیف الیکشن کمیشن گیانیش کمار استعفی دیں اور ایس آئی آر کی متنازعہ ووٹر لسٹوں کو غیر فعال بنا کر بقایا ریاستوں میں انتخابات پرانی ووٹر لسٹوں کے تحت کرائے جائیں۔ دیکھا جائے تو کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج اور دھرنا خطرناک حد تک طویل ہو سکتا یے۔ اس کے لئے حکومت نے بیس ہزار سے زائد پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار نئی دہلی میں طلب کر لئے ہیں۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونے کے لئے بھارت کی مختلف ریاستوں سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان پہنچ چکے ہیں۔ نئی دہلی کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندی، چیکنگ کے باوجود کاکروچز کی دن بہ دن بڑھتی ہوئی تعداد بھاجپا راج کے لئے اچھا شگون نہیں ہے۔ نئی دہلی پولیس اور کاکروچز کے درمیان جھڑپوں کی ہوش ربا ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں جن میں بھارتی نوجوان پولیس کی سر عام ٹھکائی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ کسی جگہ خواتین پولیس اہلکار چیخ رہی ہیں کہ انکو ہراساں کیا گیا ہے۔ کہیں سے ویڈیوز سوشل میڈیا پر آ رہی ہیں کہ مرد پولیس افسران نے احتجاجی دھرنے میں خواتین صحافیوں کو ہراساں کر دیا ہے۔ مکے، گھونسے، لاتیں، لاٹھی، گالم گلوچ، پکڑ دھکڑ، توڑ پھوڑ دہلی میں پولیس پٹ رہی ہے۔ ایسا اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ بی جے پی نے دھرنے سے نمٹنے کے لئے کوئی پالیسی نہیں اپنائی۔ یہی فیصلہ کیا گیا ہے کہ دہلی کی سڑکوں پر پولیس کو مرنے مارنے دو۔ کاش بھاجپا سرکار پچھلے دھرنے سے ہی کچھ سبق حاصل کر لیتی اور بروقت کاکروچز سے مذاکرات کر لیتی تاکہ باوردی فورس کی کچھ عزت ہی بچ جاتی۔ اس سب میں بھلا اپوزیشن کیسے پیچھے رہ سکتی تھی۔ اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی بھی جنتر منتر کے مقام پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شریک ہوئے اور گرفتار ہوئے اور چھوٹے اور پھر بھی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج میں نوجوانوں جین ذی کی حمایت کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی متنازعہ ووٹر لسٹوں کا معاملہ اپوزیشن یا بھارتی بے روزگار نوجوانوں کا کم اور انتخابی نظام کی غیر شفافیت کا زیادہ مسئلہ ہے۔ اگرچہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے مگر جب ادارے کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت کے آلہ کار کے طور پر کام کریں گے تو وہاں عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک کے اہم ترین ادارے عوامی دشمن بنا کر رکھ دئیے ہیں۔ پولیس کا کام شہریوں کی سیکیورٹی اور قانون نافذ کروانا ہے مگر دہلی پولیس کو کاکروچز کے سامنے آ کر لینے کے دینے پڑ گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن ایک آئینی آزاد ادارہ تھا مگر یہ سیاسی مفاد کے لئے قربان کر دیا گیا جسے آج بھارت کے نوجوان بی جے پی کی ٹیم بی کے نام سے انتخابی دھاندلی کا ادارہ مان رہے ہیں۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں پڑھے لکھے نوجوان فساد سے نہیں بلکہ پولیس اور انتخابات سے نفرت کر رہے ہیں۔ ریاستی ادارے ملک کی ترقی کا زینہ ہوتے ہیں مگر بھارت میں یہ ادارے اپنی وقعت کھو بیٹھے ہیں اور رہی بات کاکروچز کی تو وہ تو صدیوں زندہ رہتے ہیں۔ بے روزگاری، لاقانونیت، مذہبی تقسیم، سیاسی انتشار میں بھارتی نوجوان دھرنے جلسے کر کے ملک کے سب سے بڑے اداروں سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ نام نہاد جمہوریت کی ناکامی کی اول درجے کی مثال ہے۔



