67.7 F
Pakistan
Sunday, October 11, 2026
HomeSports13سال میں 100کیوں نہیں؟

13سال میں 100کیوں نہیں؟

نوید شیخ پڑھے لکھے اور سمجھدار صحافی ہیں ۔میرے دوست بھی ہیں اور کولیگ بھی رہے ۔پاکستان کے نامور اینکرز کے پروگرام ہیڈ کرچکے ہیں ۔بلوچستا ن کے وزٹ کے دوران بھی ساتھ تھے تو کافی وقت ساتھ گزرا۔بہت سے قومی ایشوزپر ان کی رائے اور تحریریں کمال کی ہوتی ہیں زیادہ تر بین الاقوامی موضوعات پر لکھتے ہیں لیکن اب ملک میں پی ٹی آئی لانگ بلکہ گول مارچ میں مصروف ہے تو اس پر ان کی تحریر میرے سامنے ہے ۔اس میں شیخ صاحب نے وہ سوال اٹھایا ہے جوواقعی حقیقی اور پی ٹی آئی کی حکومت سے پوچھا جانے والا اصل سوال ہے ۔میں کوئی تحریف ،ترمیم و اضافے کے بغیر یہ تحریر کالم میں شامل کررہا ہوں۔ لکھتے ہیں۔”جب پورا ملک دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اور اس جنگ میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ لہولہان ہے۔ اس نقصان کو روکنے کیلئے وفاق نے ایک سیدھی بات کی۔ صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دے۔ ورنہ آئین میں ایمرجنسی بھی ہے، اور گورنر راج بھی۔ اور جواب میں پی ٹی آئی نے کیا کیا؟ لانگ مارچ کا اعلان۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے قافلہ جان بوجھ کر لکی مروت، بنوں، کرک، کوہاٹ اور خیبر سے گزارا۔ یہ وہ اضلاع ہیں جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ مقصد یہ دکھانا تھا کہ دیکھو، ہم یہاں سے خیریت سے گزر گئے۔ تو پھر ایمرجنسی کس لیے؟۔اللہ کا شکر ہے کہ کوئی سانحہ نہیں ہوا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا قافلہ پولیس کے کڑے پہرے میں گزرا۔ سرکاری سیکیورٹی ساتھ تھی۔ اور وزیر اعلیٰ سرکاری ہیلی کاپٹر میں۔ بنوں کا وہ عام شہری، جو روز اسی سڑک پر گولیوں کا نشانہ بنتا ہے، اس کے پاس نہ کوئی ہیلی کاپٹر ہے اور نہ کوئی سرکاری محافظ۔ تو کیا یہ لانگ مارچ امن وامان کا ثبوت تھا، یا عوام کے ٹیکس سے ہونے والا ایک فوٹو سیشن؟ کیا دہشت گردی کے خلاف معاہدے پر دستخط سے انکار، دراصل اس جنگ سے انکار ہے؟ تیرہ سال کی حکومت کے بعد یہ صوبہ امن کا گہوارہ کیوں نہیں بنا؟ اور جو جماعت ہر چھ مہینے سڑکوں پر نکلتی ہے، اس نے کبھی پیٹرول اور آٹے کے لیے مارچ کیوں نہیں کیا؟۔یہ سوال تلخ ہیں۔ مگر ان کا جواب اس سے بھی تلخ ہے۔ معاہدہ عمران خان کی ملاقات پر نہیں ٹوٹا۔ بلکہ معاہدہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر ٹوٹا۔ یعنی جس صوبے میں روز جنازے اٹھ رہے ہیں، اس صوبے کی حکومت نے دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑنے سے انکار کیا۔اور انکار یہیں نہیں رکا۔ سہیل آفریدی نے اپنے ہی چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے کہا ہے کہ گورنر کے احکامات نہ مانیں۔ ذرا سوچیں۔ جنگ کے بیچ، صوبے کی پولیس کا سربراہ پریشان ہے کہ کس کا حکم مانے۔ اس الجھن کا فائدہ کس کو ہوگا؟۔پی ٹی آئی کہتی ہے کہ ان کیخلاف سازش رچائی جا رہی ہے۔دہشتگردی کو جواز بنا کر انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔ لیکن وزیر دفاع خواجہ آصف کا الزام ہے کہ اس صوبے میں دہشت گردی کی جڑیں عمران خان کے دور کی پالیسیوں میں ہیں۔ اور ریکارڈ یہ ہے کہ پی ٹی آئی 2013 سے اس صوبے پر حکمران ہے۔ تیرہ سال۔ ایک بچہ اتنے عرصے میں اسکول سے کالج پہنچ جاتا ہے۔ مگر اس صوبے کی پولیس آج بھی شکایت کر رہی ہے، اور عوام آج بھی جنازے اٹھا رہے ہیں۔آفریدی صاحب کا دعویٰ ہے کہ اختیار ملا تو وہ سو دن میں امن لے آئیں گے۔ میرا سیدھا سوال ہے کہ تیرہ سال میں یہ سو دن کیوں نہیں آئے؟ اور جس وقت صوبے کو وزیر اعلیٰ کی ضرورت تھی، اس وقت وزیر اعلیٰ کنٹینر پر کیوں تھے؟۔اب آپ کہیں گے کہ اگر پی ٹی آئی اتنی کمزور ہے، تو حکومت گورنر راج لگا کیوں نہیں دیتی؟ یہی تو اس کہانی کا سب سے دلچسپ موڑ ہے۔حکومت جانتی ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک ہی چیز چاہیے۔ اور وہ ہے ”مظلومیت“۔ صوبے کے گورنر کہتے ہیں کہ گورنر راج آخری آپشن ہے، کوئی اسے نہیں چاہتا۔ نقوی اور کنڈی بھی پی ٹی آئی کو مذاکرات کا ایک اور موقع دینے کو تیار ہیں۔ یعنی حکومت بندوق میز پر رکھ کر بیٹھی ہے، مگر انگلی ٹریگر سے دور ہے۔ یہ کمزوری نہیں۔ یہ سیاسی دانشمندی کا مظاہرہ ہے۔ سیاست میں حریف کو وہ تحفہ کبھی نہیں دیتے جو وہ مانگ رہا ہوتا ہے۔آپ دیکھیں کہ لانگ مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کی اپنی صفوں میں دراڑیں نظر آتی ہیں۔ پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی مارچ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ بعض دوسرے اہم رہنما بھی ایمرجنسی کا خطرہ ظاہر کر رہے ہیں۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر کہتے ہیں کہ نہ صوبائی حکومت چھوڑیں گے، نہ اسمبلی توڑیں گے۔ یعنی ان لوگوں کو کرسی بھی چاہیے، اور کنٹینر بھی۔ اقتدار کے مزے بھی، اور اپوزیشن کا نعرہ بھی۔پی ٹی آئی کے اس دوہرے کھیل کی اصل قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ ۔عام آدمی۔۔۔۔عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کہتی ہے کہ مشرق وسطیٰ سے افغانستان تک، پورے خطے کے آدھے انتہائی غریب لوگ پاکستان میں رہتے ہیں۔ پیٹرول چار سو روپے کو چھو رہا ہے۔ مہنگائی گیارہ فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔یہ ہیں عوام کے حقیقی مسائل۔۔۔اب آپ پی ٹی آئی کے مطالبات کی فہرست دیکھیں۔ عمران خان سے ملاقات۔ بشریٰ بی بی سے ملاقات۔ اس فہرست میں آٹا کہاں ہے؟ پیٹرول کہاں ہے؟ بیروزگار نوجوان کہاں ہے؟ دو ہزار بائیس کے مارچ میں مہنگائی کا ذکر تقریروں میں ہوا، مگر مطالبہ فوری انتخابات کا تھا۔ آج مطالبہ ایک ملاقات کا ہے۔ عوام ہر بار ان کی تقریروں کا حصہ بنے۔ ایجنڈے کا حصہ کبھی نہیں بنے۔یعنی عوام کو قافلے میں لایا تو جاتا ہے، مگر قافلے کی منزل عوام نہیں ہوتے۔اور اس قافلے کی اگلی منزل کیا ہوگی؟۔یہ بہت جلد واضح ہو جائے گا۔اگر قافلہ اٹک کی طرف بڑھا، تو ٹکرا¶ پی ٹی آئی کا اپنا انتخاب ہوگا۔ کیونکہ مذاکرات کا دروازہ آج بھی کھلا ہے۔اگر پی ٹی آئی نے وزیراعظم کی یہ دعوت بھی ٹھکرا دی، تو گورنر راج یاایمرجنسی کا جواز وہ خود حکومت کو پلیٹ میں رکھ کر دے دے گی۔ اگر سہیل آفریدی کی کرسی گئی، تو یہ وفاقی حکومت کے ہاتھوں نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی اپنی ضد کے ہاتھوں جائے گی۔ اور جو جماعت پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو، وہ اپنی ضد کا بوجھ زیادہ دیر نہیں اٹھا سکتی۔دو ہزار چودہ میں کنٹینر اسلام آباد میں تھا۔ دو ہزار چھبیس میں کنٹینر خیبر پختونخوا میں ہے۔ بارہ سال گزر گئے، مگر کنٹینر وہی ہے۔ نعرے وہی ہیں۔ اور جو چیز نہیں بدلی، وہ ہے عام آدمی کی حالت۔ بیانیے کی دکان چلتی رہے گی، جب تک عوام اس سے سودا خریدتے رہیں گے“۔نوید شیخ کا مرکزی سوال کہ تیرہ سالوں میں وہ سو دن کیوں نہیں آئے جن میں عوام کی حالت بدلنی تھی۔ صوبے میں دہشتگردی کا خاتمہ کرنا تھا۔ وہ سو دن جو عوام کے نام کرنے تھے وہ سو دن اگر تیرہ سالوں میں نہیں آسکے تو ایسی حکمرانی میں اگلے تیرہ سو سالوں میں بھی عوام کو نصیب نہیں ہوں گے۔تو پھر نعرے مارتے رہیں اس مار دھاڑسیاست کا ایندھن بنتے رہیں ۔فیصلہ آپ کا! !

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments