مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ممکنہ غلط استعمال کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اس حد تک طاقتور ہوچکی ہے کہ اس کے غلط استعمال سے ایسے تباہ کن واقعات رونما ہوسکتے ہیں جن کے نتیجے میں ایک ارب افراد تک ہلاک ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے غلط استعمال سے دنیا کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور اس ٹیکنالوجی کے بے قابو ہونے کی صورت میں اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ مائیکروسافٹ کے شریک بانی نے حکومتوں پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کے ساتھ مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ٹیکنالوجی کے بے قابو ہونے سے پہلے اس کے استعمال کے حوالے سے مناسب حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ بل گیٹس نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اپنی جگہ، تاہم اس کے غلط استعمال کے نتیجے میں انسانیت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود ہے، اس لیے عالمی سطح پر ذمہ دارانہ استعمال اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔ انہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ اے آئی سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ اس طاقتور ٹیکنالوجی کو انسانیت کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔ بل گیٹس کا کہنا تھا کہ کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ صرف خود ضابطہ کاری کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی سے ٹیکنالوجی کی صنعت پر کچھ اضافی ذمہ داریاں ضرور عائد ہوں گی، تاہم اس سے صنعت کی ترقی میں کوئی ڈرامائی سست روی نہیں آئے گی۔ مصنوعی ذہانت کی حفاظت سے متعلق بحث ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران سائبر سیکیورٹی کے کئی اہم واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت جدید ترین اے آئی تیار کرنے والی کمپنیاں اپنے ماڈلز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے یہ معاملہ سامنے آیا کہ اوپن اے آئی کے ایک سسٹم نے آسٹریلیا کے ایک سرکاری صحت کے ادارے کی ویب سائٹ کو ہیک کیا۔ واقعے کے بعد کمپنی نے کئی ماہ تک آسٹریلوی حکومت کو اس حملے سے آگاہ نہیں کیا۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس صورتِ حال کو واضح طور پر ناقابل قبول قرار دیا۔ اسی ماہ اے آئی کمپنی اینتھروپک نے بتایا کہ یمن کے عسکریت پسند، جنہیں ایرانی حمایت یافتہ حوثی سمجھا جاتا ہے، نے اس کے ’کلاڈ‘ اے آئی ماڈل کو بیلسٹک میزائلوں کے لیے رہنمائی، کنٹرول اور نیویگیشن سافٹ ویئر تیار کرنے میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اے آئی کے ممکنہ غلط استعمال کے حوالے سے خدشات کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مصنوعی ذہانت پر سخت حکومتی پابندیوں کے مخالف رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اے آئی کی حفاظت سے متعلق خدشات کو جھوٹا شور قرار دیا ہے اور ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے کی عالمی کوششوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی نے رواں ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے امریکا پر زور دیا کہ وہ اے آئی کے حفاظتی معیار طے کرنے کے لیے ایک عالمی اتحاد کی قیادت کرے۔
اے آئی ایک ارب افراد کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے: بل گیٹس نے خبردار کردیا
RELATED ARTICLES



