69.8 F
Pakistan
Sunday, October 4, 2026
HomePoliticsایران پر امریکی حملے کی قیمت؟

ایران پر امریکی حملے کی قیمت؟

دنیا ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ نیویارک میں ہونے والی سفارتی کوشش ناکام ہو چکی ہے اور اب صدر ٹرمپ نے ایک اہم فیصلہ کرنا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ۔ بمباری کب اور کیسے کرنی ہے؟ مذاکرات کے دروازے بند ہوئے، مگر بند ہونے والے دروازوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی ذرا ئع دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں نیویارک آ نے والے وفد سے امریکہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد کی روانگی پہلے سے طے تھی۔ مگر امریکی ذرائع سے اس خبر کا ریلیز ہونا امریکی غصے کا اظہار ہے۔قطر اس وقت بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔ عمان بھی سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے بھی اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ ایران چاہتا ہے کہ اقتصادی اور بحری دباؤ کم کیا جائے۔ پابندیوں میں ریلیف ملے اور اس کی سلامتی سے متعلق ضمانتیں موجود ہوں۔ دوسری طرف امریکہ ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت شرائط چاہتا ہے۔ ٹرمپ کا لہجہ سخت ہو رہا ہے۔ وہ ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ رائٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام تیاری کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے دوبارہ بڑے حملے کئے تو اس مرتبہ ایران کا جواب پہلے سے سخت اور وسیع ہو گا۔ وہ جنگ کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ملک بھر میں جیٹ فیول 9 روپے 5 پیسے، مٹی کا تیل 7 روپے 68 پیسے فی لیٹر مہنگا تاریخ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ تاریخ سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ تاریخ سے ہم کچھ نہیں سیکھتے۔ جنگ کے متعلق تاریخ عجب سبق دیتی ہے۔ کبھی کبھی کوئی ملک جنگ جیت جاتا ہے۔ لیکن جنگ جیتتے جیتتے اپنی عالمی طاقت کھو دیتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے برطانیہ دنیا کی بڑی سپرپاور تھا۔ برطانوی سلطنت اتنی پھیلی ہوئی تھی کہ دنیا میں مشہور تھا ”برطانوی سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا۔“ پھر اس عظیم برطانوی سلطنت کو دوسری جنگ عظیم کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانیہ فاتح ملک تھا۔ ہٹلر کا جرمنی شکست کھا گیا۔ اس کی فوجی طاقت تباہ ہو گئی اور نازی حکومت کا خاتمہ ہو گیا مگر جنگ جیتنے کے بعد برطانیہ وہ برطانیہ نہ رہا جو جنگ سے پہلے تھا۔ اس کی معیشت تباہ ہو گئی۔ سلطنت تیزی سے سکڑنے لگی۔ اس کی بیشتر نو آبادیاں آزاد ہونے لگیں اور عالمی طاقت کا مرکز واشنگٹن اور ماسکو منتقل ہو گیا۔ جرمنی جنگ ہارا مگر برطانیہ جیت کر بھی اپنی پرانی عالمی بالادستی برقرار نہ رکھا سکا۔ ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 دہشت گرد ہلاک ابھی امریکہ اور ایران کی جنگ نہیں ہوئی۔ لیکن اگر جنگ ہوتی ہے تو کیا ہو سکتا ہے؟ سوال یہ نہیں کہ کیا امریکہ ایران کو تباہ کر سکتا ہے؟اس کا جواب سب جانتے ہیں۔ امریکہ کا دفاعی بجٹ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے پاس جدید فضائی طاقت، بحری قوت، سیٹلائٹ، سائبر صلاحیت اور دورمار ہتھیار موجود ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کے فوجی، ایٹمی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن جنگ کے متعلق کوئی قطعی پیشین گوئی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ مگر آج کا ایک بڑا سوال یہ ہے کہ ایران کو تباہ کرنے کی قیمت کیا ہو گی؟ اور یہ قیمت کیا صرف ایران ادا کرے گا یا آنے والے سالوں میں امریکہ اور اسرائیل کو بھی اس کی قیمت چکانا پڑے گی؟اور یہاں اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ جرمن خاتون بن کر شہریوں سے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے کا فراڈ کرنے والا گینگ گرفتار ایران عراق نہیں ہے۔ایران افغانستان بھی نہیں۔اس کی آبادی، جغرافیہ، میزائل صلاحیت اور پورے خطے میں حلیف اور حریف غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہیں اور سب سے اہم اس کے پاس جغرافیائی ہتھیار آبنائے ہرمز ہے۔ ایران آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کو بند کر کے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا سکتا ہے۔پورے کرہ ارض پر مہنگائی کا ناقابل بیان طوفان بپا ہو سکتا ہے۔ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو ایران کو امریکہ کو شکست دینے کے لئے واشنگٹن پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اسے صرف جنگ کی قیمت بڑھانی ہے۔ آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کو بند کرنا ہے۔ جس سے تیل کی قیمت بڑھے گی۔ امریکی فوجی اڈوں پر خطرات بڑھانے ہیں۔ اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ بڑھانا ہے اور اس کے ساتھ خلیجی ممالک کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔ ماضی کے واقعات تصدیق کرتے ہیں کہ ایران یہ سب کچھ کر سکتا ہے اور یہاں اس صورت حال میں اسرائیل کا سوال آتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم نے اسرائیل کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ مگر آج مشرق وسطیٰ کی طویل اور وسیع جنگ اسرائیل کی سلامتی کے لئے نئے امتحان پیدا کر رہی ہے۔ اسرائیل ایران کی نسبت بہت چھوٹا ملک ہے۔ مختصر جنگ میں اسرائیل کی جدید فوجی طاقت اسے بہت بڑا فائدہ دے سکتی ہے۔ لیکن جنگ طویل ہو جائے، جنگ پھیل جائے تو معاملات مختلف ہو جائیں گے۔مسلسل میزائل دفاع، فوجی اخراجات، کاروباری سرگرمیوں میں تعطل، سرمایہ کاری، فضائی سفر، شہری زندگی اور ریزرو فوسز سب پر دباؤ بڑھتا جائے گا تو اسرائیل کے لئے بھی بڑا سوال یہی ہے کہ وہ کتنی طویل جنگ برداشت کر سکتا ہے؟ حکومت نے 2 لاکھ میٹرک ٹن سرپلس چینی برآمد کا طریقہ کار طے کرلیا اور اب یہاں چین آتا ہے۔ چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ کا دشمن غلطی کر رہا ہو تو اسے غلطی کرنے دیں۔ اگر امریکہ اپنی فوجی، اقتصادی اور سفارتی طاقت کو طویل عرصے تک استعمال کرتا رہے تو اس کا سٹریٹجک فائدہ ایران کو نہیں چین کو ہو گا۔ امریکہ جنگ کرے گا۔ اپنے ہتھیار استعمال کرے گا۔ اپنا ڈیفنس بجٹ خرچ کرے گا۔ اقتصادی اور ڈیفنس مسائل کا سامنا کرے گا اور دوسری طرف چین اپنی معیشت، صنعت، ٹیکنالوجی، بحری قوت اور ایشیا میں اثرورسوخ بڑھائے گا اور امریکہ کو پیچھے چھوڑ جائے گا اور سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کی یہ پیشین گوئی درست ثابت ہو جائے گی کہ اکیسویں صدی چین کی صدی ہو گی۔ آئی ایم ایف مذاکرات میں پیشرفت، حکومت نے وفد کیساتھ ڈسکوز کی نجکاری کا پلان اور ٹائم لائن شیئر کردیا تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی عالمی طاقت کو زوال صرف ایک دن میں نہیں آتا۔ صرف ایک عالمی جنگ اس کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرتی۔ لیکن جنگ کسی ملک کی معیشت اور معاشرت کو اتنا نقصان پہنچا دیتی ہے کہ وہ جدید دور کے چیلنجوں سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ تو آج ٹرمپ کے سامنے یہ سوال نہیں ہے کہ کیا امریکہ ایران کو تباہ کر سکتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ ایران کو تباہ کرنا افورڈ کر سکتا ہے؟ امریکہ ایران کو بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن اگر ایران سے جنگ نے فوجی تصادم طویل کر دیا۔ عالمی توانائی کو غیرمستحکم کر دیا۔ اسرائیل کو مسلسل حالت جنگ میں رہنا پڑا۔ خلیج بڑے بحران کا شکار ہو گئی۔ وقت گزر جائے گا تو تاریخ اس صورتحال کو مختلف انداز سے دیکھے گی۔ امریکہ یا ایران کی تباہی سے زیادہ مورخ یہ دیکھ رہا ہو گا کہ جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایک طویل جنگ لڑ رہا تھا تو اس وقت چین کیا کر رہا تھا۔ ابھی وقت نے فیصلہ دینا ہے۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کا یہ اہم سبق ہمارے سامنے ہے کہ کسی جنگ کی فتح صرف میدان جنگ میں جیت سے نہیں ہوتی۔ اصل فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ جنگ کے بعد دنیا میں سپرطاقت کون رہتا ہے؟ ایشین گیمز میں میڈلز کی دوڑ میں کونسا ملک سب سے آگے؟

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments