تھائی لینڈ کے معروف ساحلی شہر پٹایا میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود تقریباً پانچ ہزار امریکی فوجی اہلکار چار روز تک اپنی تھکن دور کرنے کے بعد روانہ ہوچکے ہیں۔ سمندر میں مسلسل نو ماہ کی طویل تعیناتی کے بعد ان اہلکاروں کی آمد پر پٹایا کی مقامی انتظامیہ نے شہر کے ریڈ لائٹ علاقوں پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں اور چالیس سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا تا کہ جسم فروشی کے دھندے کو لگام ڈالی جا سکے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق، تمام تر خدشات کے برعکس ان اہلکاروں کا یہ دورہ نہایت امن و امان اور شائستگی کے ساتھ مکمل ہوا اور اہلکاروں نے جسم فروشی کی جگہ تازہ خوراک اور خریداری پر توجہ مرکوز رکھی۔ تھائی لینڈ کا شہر پٹایا، جو اپنی نائٹ لائف کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، امریکی اہلکاروں کی آمد پر خریداروں سے بھر گیا۔ ایک اہلکار نے اپنے کھانے کے تجربے کے بارے میں صحافیوں کو بتایا کہ میں نے جی بھر کر کھانا کھایا، اور اس دورے کے بعد میں اور تھائی کھانا شاید بہترین دوست بن چکے ہیں۔ ایک اور امریکی خاتون اہلکار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہفتوں تک ایک ہی قسم کی خوراک کھانے کے بعد میں پٹایا میں صرف ایک ہرا بھرا اور تازہ سلاد کھانے کی منتظر تھی۔ کئی اہلکاروں نے شہر کے شاپنگ مالز کا رخ کیا اور بنیادی ضرورت کی اشیاء خریدی۔ ایک امریکی اہلکار نے نئے موزے خریدنے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ میرے لیے یہ نئے موزے خریدنا ہی ایک بہت بڑی خوشی اور سکون کی بات ہے۔ طویل عرصے تک سمندر میں محصور رہنے کے بعد خشک زمین پر قدم رکھنے سے متعلق ایک بحری اہلکار نے کہا کہ زمین پر قدم رکھتے ہی ایسا لگا جیسے میرے کندھوں سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مقامی پولیس اور انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شہر میں گشت بڑھا دیا تھا اور کچھ معمولی واقعات کے سوا کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ مقامی پولیس چیف انیک سراتھونگ یو نے امریکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ معمولی نوک جھونک کے علاوہ مجموعی طور پر صورتحال بالکل پرامن رہی اور کوئی بڑا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ چار روز کی اس مختصر تفریح کے بعد تمام امریکی اہلکار اپنے بحری جہاز پر واپس روانہ ہو گئے ہیں اور اب یہ بیڑا کیلیفورنیا کی طرف اپنے طویل سفر کا آغاز کر رہا ہے۔



