امید کھو دی تو سبھی کچھ کھو دیا۔ امید باقی رہے تو عزم اور تدبر کی کونپلیں بھی پھوٹتی ہیں۔ یہ جملہ محض ایک فلسفیانہ نکتہ نہیں بلکہ اقوام کی سفارتی زندگی کا بھی ایک بنیادی اصول ہے۔ جب کوئی ملک عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ہر قدم پر رکاوٹوں، ناکامیوں اور بظاہر بے سود کوششوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہی وہ لمحہ ہوتا ہے، جب امید کا دامن تھامے رکھنا ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ امید ہی وہ قوت ہے، جو تھکے ہوئے قدموں کو دوبارہ چلنے کی سکت دیتی ہے۔پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی میں ثالثی کا کردار ادا کیا، ایک ایسا کردار جو آسان ہرگز نہ تھا۔ دو ایسی طاقتوں کے درمیان مصالحت کی راہ نکالنا ،جن کے مفادات، نظریات اور خطے کے بارے میں نقطہ ہائے نظر یکسر مختلف ہوں، کسی بھی ملک کے لیے ایک کٹھن سفارتی امتحان ہوتا ہے۔ پاکستان نے یہ ذمہ داری قبول کی، اپنے تعلقات کی گہرائی اور دونوں فریقین کے ساتھ موجود اعتماد کو بروئے کار لاتے ہوئے کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کی۔ یہ کوشش خطے میں امن کی ایک کرن ثابت ہوئی اور کچھ عرصے کے لیے حالات بہتری کی طرف بڑھتے دکھائی دیے۔مگر اب صورتحال یہ ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔امریکی صدر اپنی چودھراہٹ قائم کرنا چاہتے ہیں جب کہ صدیوں سے قائم ایران کی اپنی اَنا ہے۔فریقین کی یہ صورتحال پاکستان کے لیے یقیناً مایوس کن ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے پرامید تھے کہ شاید خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ کچھ حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان کی یہ کوششیں رائیگاں گئیں؟ کیا ثالثی کا یہ کردار محض ایک بے نتیجہ کوشش تھی؟ ایسے سوالات فطری ہیں، مگر ان کا جواب مایوسی میں نہیں بلکہ حقیقت پسندی میں تلاش کرنا چاہیے۔سفارت کاری کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امن کے قیام کا سفر کبھی سیدھی لکیر میں طے نہیں ہوا۔ جنگیں رکتی ہیں، پھر شروع ہوتی ہیں، مذاکرات ٹوٹتے ہیں، پھر بحال ہوتے ہیں، یہی نشیب و فراز اس عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔دنیا کی بڑی بڑی جنگیں اور تنازعات، چاہے وہ مشرقِ وسطیٰ کے پرانے تنازعات ہوں یا یورپ کی تاریخ کے سنگین باب، سب میں یہی دیکھنے میں آیا کہ ثالثی کرنے والے ممالک اور اداروں کو بارہا ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، مگر جن ممالک نے ہمت نہ ہاری اور اپنی کوششیں جاری رکھیں، وہی بالآخر تاریخ میں امن کے ضامن کے طور پر یاد رکھے گئے۔ اس لیے جنگ کا دوبارہ آغاز پاکستان کی ثالثی کی ناکامی کا ثبوت نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ تنازعہ کتنا پیچیدہ اور تاریخی جڑوں کا حامل ہے ۔پاکستان کے لیے یہ وقت پیچھے ہٹنے کا نہیں بلکہ اپنی سفارتی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور اپنی کوششوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھانے کا ہے۔ اگر اس نازک مرحلے پر پاکستان مایوس ہو کر اپنا کردار محدود کر لے تو نہ صرف اس کی اب تک کی محنت رائیگاں جائے گی بلکہ خطے میں امن کے امکانات بھی مزید معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر پاکستان ثابت قدمی کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھے تو یہی استقامت اسے عالمی برادری میں ایک قابلِ اعتماد اور ذمہ دار ملک کے طور پر منوانے کا سبب بن سکتی ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے سفارتی رابطوں کو کسی صورت منقطع نہ ہونے دے۔ ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ باضابطہ اور غیر باضابطہ چینلز کو فعال رکھا جائے تاکہ کشیدگی کے کسی بھی مرحلے پر بات چیت کی گنجائش موجود رہے۔ اسی طرح دیگر مسلم ممالک، اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس ثالثی کے عمل کو مزید وسعت دی جانی چاہیے، تاکہ یہ کوشش صرف پاکستان کی نہ رہے بلکہ ایک وسیع تر عالمی کاوش کی شکل اختیار کر لے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو ہر حال میں غیر جانبداری کا دامن تھامے رکھنا ہوگا، کیونکہ کسی ایک فریق کی طرف معمولی سا جھکاؤ بھی دوسرے فریق کے اعتماد کو مجروح کر سکتا ہے اور اعتماد ہی ثالثی کی بنیاد ہوتا ہے۔سب سے بڑھ کر پاکستان کو صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ فوری نتائج کی توقع رکھنا نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی بجائے طویل المدتی حکمتِ عملی اپنانا، مسلسل رابطے میں رہنا اور ہر ممکنہ موقع پر امن کی طرف قدم بڑھانا ہی وہ راستہ ہے ،جو بالآخر کسی مستقل حل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ثالثی کا کردار محض ایک واقعے یا معاہدے تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں وقتاً فوقتاً پسپائی بھی آتی ہے اور پیش رفت بھی۔جنگ کا دوبارہ شروع ہونا افسوسناک ضرور ہے، مگر یہ پاکستان کے لیے اپنی سفارتی بصیرت اور عزم کو مزید مضبوط کرنے کا موقع بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امن کی راہیں ہمیشہ ناکامیوں کے دشوار گزار راستوں سے گزر کر ہی کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس مرحلے پر ہمت نہ ہارے، بلکہ اپنی کوششوں کو مزید فعال، مربوط اور جامع بنائے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم نے آغاز میں کہا، امید ہی وہ قوت ہے جو عزم اور تدبر کو جنم دیتی ہے، یہی عزم بالآخر خطے کو جنگ کی تباہ کاریوں سے نکال کر امن کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔شوپنہار نے کہا تھا: آدمی کا المیہ یہ ہے کہ فیصلہ وہ پہلے کرتا اور دلیل بعد میں ڈھونڈتا ہے۔انسانی صلاحیت اور امکانات کی کوئی حد نہیں‘ مگر مایوسی ، بے دلی کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ اللہ کی آخری کتاب شاید اسی لیے مایوسی کو کفر کہتی ہے۔یاد رکھیں! جب حکمرانوں سے کوئی اچھا کام سرزد ہو جائے۔ تب ان کی مدد کی جانی چاہیے،مزاحمت نہیں۔ کتاب یہ کہتی ہے کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون کیا کرو،گناہ اور زیادتی میں ہرگز نہیں۔
امید کھو دی تو سبھی کچھ کھو دیا
RELATED ARTICLES



