امریکہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اس کی فوج نے ایران کے اندر اور باہر سمندری راستے سے ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روک دیا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اسی ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات آئندہ دو دن میں پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات کی قیادت کی تھی جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوئے، صورتحال کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ آنے والے دو دن اہم ہوں گے اور ان کا خیال ہے کہ 21 اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدہ زیادہ بہتر آپشن ہے کیونکہ اس سے ایران کو دوبارہ تعمیر کا موقع ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت مختلف ہے اور شدت پسند عناصر کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ادھر امریکی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کی سمندری تجارت مکمل طور پر روک دی ہے، جو ان کے مطابق ایرانی معیشت کا 90 فیصد حصہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے پیر سے شروع ہونے والی ناکہ بندی کے بعد ایران سے منسلک آٹھ آئل ٹینکرز کو روکا ہے۔ پاکستان، ایران اور خلیجی ممالک کے حکام کے مطابق امریکہ اور ایران کے مذاکراتی وفود دوبارہ اسلام آباد میں ملاقات کر سکتے ہیں، تاہم ایرانی ذرائع نے کسی حتمی تاریخ کی تصدیق نہیں کی۔ ادھر توانائی منڈیوں میں جنگ بندی اور سفارتی سرگرمیوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری اور ڈالر مستحکم رہا۔ تنازع کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی سپلائی کو متاثر کیا ہے، جبکہ مختلف محاذوں پر کشیدگی کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔



