73.9 F
Pakistan
Monday, April 27, 2026
HomePoliticsاللہ کا دوست بننے کا آسان طریقہ؟

اللہ کا دوست بننے کا آسان طریقہ؟

ہمارے محلے میں ایک صاحب کرائے دار ہو کر آئے۔ وہ نمک کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ بڑے نفیس، متوازن اور شائستہ انسان دکھائی دیتے تھے۔”میرے عزیز“ ان کا مخصوص تکیہ کلام تھا۔ اکثر صبح کی سیر کے دوران ان سے ملاقات ہو جاتی،وہ بھی میری طرح خاموشی سے واک کرنے کے عادی تھے، کیونکہ وہ واک کے دوران تسبیحات پڑھتے تھے۔میں تین چار دن واک پر نہ جا سکا۔ پانچویں چھٹے دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے خلافِ معمول تسبیح لپیٹ کر جیب میں رکھی ہوئی تھی اور مسکراتے ہوئے بولے۔ میرے عزیز! آج میرے ساتھ چلیں، اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پلاتا ہوں۔میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ جب ان کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو حیرت ہوئی، کہ وہ ڈرائنگ روم کم اور لائبریری زیادہ لگ رہی تھی۔ دیواروں پر قیمتی، تاریخی اور قدیم کتب سجی ہوئی تھیں، گویا علم کا ایک خزانہ وہاں موجود تھا۔وہ مجھے وہاں بیٹھا کر کچن میں چلے گئے۔ میں نے کتابوں پر نگاہ ڈالنا شروع کی تو واقعی نایاب اور قیمتی کتابوں کا ذخیرہ وہاں موجود تھا۔ مطالعہ کی میز پر تصوف سے متعلق چند کتابیں کھلی پڑی تھیں،ساتھ ایک نوٹ بک اور اس کے بیچ میں پنسل رکھی ہوئی تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ابھی ابھی نوٹس لکھتے ہوئے اُٹھے ہوں،اتنی دیر میں شیخ صاحب ایک ٹرے لے کر آ گئے، جس میں چائے کے دو کپ، نمکین بسکٹ، چند کھجوریں اور دو موتی چور کے لڈو بھی تھے۔گفتگو کا آغاز ہوا تو ان کی علمیت، سادگی اور گہرائی کا اندازہ ہوتا چلا گیا۔ سوال و جواب، دین اور زندگی کے موضوعات پر بات چلتی رہی، پھر اچانک وہ کہنے لگے: “میرے عزیز! زندگی میں ایک سوال ایسا تھا جس کا جواب میں نے ان کتابوں میں بہت تلاش کیا۔ جواب ملے بھی، مگر دِل کو سکون نہ ملا۔ ایک دن ملازم چھٹی پر تھا،میں خود بیکری کا سامان لینے مارکیٹ چلا گیا۔ پیدل جا رہا تھا کہ ایک چھ سات سال کا بچہ میرے آگے آگے چل رہا تھا۔ غور کیا تو اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے تھے۔ میں نے آواز دے کر اسے روکا۔وہ میرے پاس آ گیا۔میں نے پوچھا‘بیٹا، تمہارے جوتے کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟اس کے جواب نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔وہ بس اتنا بولا: میرے ابو جی فوت ہو گئے ہیں۔۔۔اور خاموش ہو گیا۔میں چند لمحے مبہوت کھڑا رہا، پھر اس کا ہاتھ تھاما اور کہاچلو بیٹا، میں تمہیں جوتے لے دیتا ہوں۔میں اسے جوتوں کی دکان پر لے گیا، دکاندار سے کہا،اس بچے کو سب سے اچھے جوتے پہنا دو۔بچہ جوتے پہن کر خوشی سے کھل اٹھا۔ میں نے اسے کچھ نقد رقم بھی دی اور خدا حافظ کہہ کر چل دیا۔چند لمحوں بعد وہ بچہ دوڑتا ہوا میرے پیچھے آیا، میری ٹانگوں سے لپٹ گیا اور پوچھنے لگا ”آپ اللہ ہو؟“میں نے اسے اُٹھا کر پیار سے کہا نہیں بیٹا، میں تو ادنی سا ایک انسان ہوں۔وہ بولا: اچھا تو پھر آپ اللہ کے دوست ہوئے نا۔ میں نے رات کو دُعا مانگی تھی۔ ابو کہتے تھے جو اللہ سے مانگو، اللہ دے دیتا ہے۔ میں نے کہا تھا: اللہ جی! میرے جوتے ٹوٹ گئے ہیں، مجھے نئے جوتے دے دو۔یہ سن کر میں شدتِ جذبات سے کانپ اُٹھا۔ آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔شیخ صاحب یہ بتاتے ہوئے رُک گئے۔ان کی آنکھیں نم تھیں۔ وہ بولے اس دن مجھے سمجھ آیا کہ اللہ کا دوست بننا کوئی مشکل کام نہیں۔ کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دو، کسی بیوہ کی مدد کر دو، کسی محتاج کی ضرورت پوری کر دو۔ بس۔یہی دوستی ہے۔”وہ بار بار یہی الفاظ دہرا رہے تھے: “ میرے عزیز! اللہ کا دوست بننا بہت آسان ہے، بس کوئی کوشش تو کرے۔”اللہ تک پہنچنے کے لئے لمبے سفر کی ضرورت نہیں، بس کسی ضرورت مند کا سہارا بننا پڑتا ہے،اللہ خود قریب آ جاتا ہے۔قارئین کرام۔ میرا دِل بھی چڑیوں کی طرح بہت نرم اور نازک ہے، میں کسی کا دکھ دیکھ نہیں سکتا۔جب میں سکول میں پڑھتا تھا تو اس وقت بھی مجھے والدین کی جانب سے جو جیب خرچ ملتا تھا،اس معمولی رقم میں سے بھی ضرورت مندوں کی مدد کردیا کرتا تھا،میں ایک مرتبہ اپنے ایک کلاس فیلو کو ملنے اس کے گھر گیا تو میں نے اس کی والدہ کو دیکھا جو سخت بیمار تھیں اور غربت ان کے چہرے سے عیاں تھی میری جیب میں جو کچھ تھا وہ میں اُنہیں دے کر جیسے ہی گھر سے باہر نکلا تو میں نے محسوس کیا کہ سائیکل کی چابیاں وہیں بھول آیا ہوں جیسے ہی میں وہ چابیاں لینے کے لئے گھر کے اندر پہنچا تو میں حیران رہا گیا کہ بڑا بیٹا اپنی ماں سے وہ پیسے چھین رہا تھا جو میں نے ان کو دیئے تھے۔یہ دیکھ کر مجھے سخت غصہ آیا اور میں نے غصے کے عالم میں اسے ڈانٹ کر کہا کہ تم اپنی ماں کو اگر کچھ دے نہیں سکتے تو چھین کیوں رہے ہو۔ بہرکیف یہ تو ایک واقعہ تھا جو گزر گیا۔آج میں اپنے خاندان میں جابجا دیکھتا ہوں تو رشتے میں میر ی چار خواتین جوانی کے عالم میں شوہر کی وفات کی وجہ سے بیوہ ہو چکی ہیں،میں شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ وہ کس قدر مشکل حالات کا سامنا کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہوں گی۔حُسنِ اتفاق سے میرے رابطے میں چند ایسے مخیر حضرات موجود ہیں جن سے عید یا خوشی کے کسی بھی تہوار پر میں رابطہ کرکے موبائل پر مسیج بھیجتا ہوں اور انہیں بتاتا ہوں کہ اپنے لئے تو سب جیتے ہیں مزہ تو تب ہے کہ غریب بیواؤں اور یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھا جائے اور ان کی خوشیوں میں بھرپور طریقے سے شریک ہو اجائے۔ اس لمحے مجھے ان کا نام بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ ان میں سب سے پہلے ارشاد حسن خان صاحب سابق چیف جسٹس آف پاکستان،بنک آف پنجاب کے سابق جنرل منیجر حاجی محمد اسلم صاحب، ممتاز ادیب جناب سعید جاوید صاحب، حاجی عبدالغفور صاحب،کرنل(ر) امجد حسین امجدصاحب شامل ہیں، میں جب بھی یتیم بچوں کے سر پر شفقت اور محبت سے ہاتھ رکھنے کے لئے انہیں دعوت دیتا ہوں تو وہ لبیک کہتے ہوئے جتنی توفیق ہوتی ہے وہ مالی مدد کرتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے دوستوں میں شامل ہیں، جو میری پکار پر لبیک کہتے ہیں۔آپ حیران ہوں گے کہ ایک بیوہ عورت کی بیٹی کی شادی کا جب وقت آیا تو اس نے مجھے مدد کے لئے پیغام بھیجا میں نے جیسے ہی جناب ارشاد حسن خاں صاحب کے گوش گزار کیا تو انہوں دوسرے ہی دن دو خوبصورت ریشمی سوٹوں کے ہمراہ دس ہزار روپے بھیج کر میرا مان رکھ لیا اور یتیم بیٹی کی دُعا لی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میں مالی طور پر اس قابل نہیں ہوں کہ کسی کی مدد کرسکوں،لیکن میرے کہنے پر جو مخیر افراد مددکرتے ہیں وہ یقینا اللہ کے دوست کہلانے کے مستحق ہیں اور اپنے دوستوں کو اللہ کبھی مایوس نہیں کرتا۔آخرت میں یقینا ان کا اجر ِعظیم محفوظ ہو گا۔ اداکارہ حنا رضوی آئی سی یو منتقل، دعاؤں کی اپیل ٭٭٭٭٭

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments