جمہوریت اور عوامی حقوق کے نعروں کے باوجود دنیا میں جہاں کہیں بھی دیکھیں آپ کو اشرافیہ کا قبضہ نظر آئے گا۔ مشرق وسطیٰ کی حالیہ جنگوں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ دنیا کی اشرافیہ کو عوام الناس کے مسائل، مشکلات اور تکلیفوں سے کچھ لینا دینا نہیں۔ ان کی ساری پالیسیوں کا مرکز چند ہزار امرا کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ان جنگوں سے نہ صرف مصیبت زدہ علاقوں میں عام آدمی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ جنگ کے اثرات پوری دنیا کے غریب عوام پر بھی پڑے۔ تاہم ہتھیار اور تیل کی کمپنیوں نے خوب مال بنایا جب کہ سٹاک ایکسچینچ کے سٹے بازوں اور ٹیک کمپنیوں کے مالکان نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کا جنازہ نکال رہے تھے تو دوسری طرف اسرائیل لبنان کی عوام پر عرصہ حیات تنگ کر رہا تھا۔ جہاں اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے جبکہ لبنان کے کئی علاقے تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے اسرائیل نے غزہ اور مقبوضہ علاقوں کے کئی حصوں کو بھی پتھروں کے دور میں دھکیلا، جہاں 70 ہزار سے زیادہ افراد کو قتل بھی کیا گیا جبکہ اس جنگ سے پیدا ہونے والا انسانی المیہ آج بھی مقبوضہ علاقوں کی عوام کی زندگیوں میں زہر کھول رہا ہے۔ ایران میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی اموات و زخمی ہوئیں جبکہ کئی علاقوں میں تباہی مچائی گئی۔ دوسری طرف ٹرمپ کے خاندان کے افراد کہیں ڈرون کے معاہدے کر رہے تھے اور کہیں ان کی دوست یار سٹے بازیوں میں مال بنا رہے ہیں۔ تاہم دولت کی یہ دیوی ہر امریکی پر مہربان نہیں تھی بلکہ اس جنگ سے امریکی عوام کے مسائل میں اضافہ ہوا، جنہیں تیل اور دوسری اشیا مہنگے داموں میں خریدنی پڑیں۔ اشرافیہ عام آدمی کو صرف جنگوں کے ذریعے ہی نقصان نہیں پہنچا رہی بلکہ عالمی اشرافیہ کے کئی کارندے امریکہ و یورپ اور انڈیا سمیت کئی علاقوں میں نفرت کا کاروبار بھی کر رہے ہیں۔ ایکس کے مالک ایلون مسک پر الزام ہے کہ وہ برطانیہ میں انتہائی دائیں بازو کے عناصر کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ اپنی کمپنی اور اپنی شخصیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض مرتبہ جھوٹ پھیلانے کی بھی کوشش کرتے ہیں جس کی ایک مثال اُن کا یہ دعوی ہے کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام افراد کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ اس نسل کشی کے حوالے سے نہ کسی عالمی ادارے نے کوئی رپورٹ دی اور نہ کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے اس پر کوئی تحقیقات کر کے اس بات کو ثابت کیا کہ وہ سچ بول رہے ہیں۔ مسک برطانیہ میں نجیل فراج اور ٹومی روبنسن جیسے سیاسی رہنماؤں کی سرپرستی کر رہے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ غیر سفید فام برطانویوں کے خلاف انتہائی قابل اعتراض زبان استعمال کرتے ہیں اور عام برطانوی کو ان کے خلاف نفرت پہ ابھارتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں برطانیہ کے کچھ علاقوں میں پرتشدد مظاہرے ایک سفید فام فرد پر ایک سیاہ فام فرد کی طرف سے چاقو کے حملے کے بعد شروع ہوئے۔ برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم اور برطانیہ کی ملکہ کمیلا 18 ستمبر، 2025 کو ونڈسر میں واقع ونڈسر کیسل سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کو ان کے دوسرے سرکاری دورے کے دوسرے روز رسمی الوداع کہتے ہوئے ان کے ساتھ تصویر بنوا رہے ہیں (اے ایف پی) ناقدین کے مطابق پرتشدد مظاہرے کرنے والوں میں کچھ نے وہی لب و لہجہ تارکین وطن کے خلاف استعمال کیا جو نجیل فراج اور ٹومی روبنسن جیسے لوگ کرتے ہیں۔ برطانیہ میں کئی سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسک روبنسن کے مقدمات کے حوالے سے ان کی مالی معاونت کرتے ہیں جبکہ ایکس کے مالک پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ جرمنی میں اے ایف ڈی نامی پارٹی کی بھی حمایت کر رہے ہیں جس کے کچھ رہنماؤں کو نازی نظریات کا ہمدرد سمجھا جاتا ہے۔ امریکی اشرافیہ کے کچھ اور لوگ جیسا کہ جے ڈی وینس بھی ان کے حمایتی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی قوتوں کے پیچھے صرف مسک ہی نہیں ہے بلکہ کینیڈا کے ایک امیر صیہونی اور کچھ ٹیک کمپنیوں کے مالکان بھی ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے کئی ممالک سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے عمر کی حد مقرر کرنا چاہتے ہیں جنہیں ٹیک کمپنیاں اپنے بزنس کے لیے بہت خطرناک قرار دیتی ہیں۔ اسی لیے وہ ایسی تنگ نظر سیاسی جماعتوں کی سرپرستی کر رہی ہیں جو ان کے خیال میں اقتدار میں آکر اس طرح کے قوانین کو یا تو منسوخ کر دیں گی یا انہیں نافذ کرنے سے پہلے ہی رکھوا دیں گی۔ لیکن اپنے ان مفادات کے لیے وہ یورپ کے کروڑوں افراد کی بلی دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں، جن کی پچھلی نسلوں نے قوم پرستی اور نسل پرستی کی آگ کی وجہ سے دو عالمی جنگیں دیکھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹیک کمپنیوں کے مالکان نے نسل پرستی پھیلانے والے ان عناصر کو اپنے جدید پلیٹ فارمز فراہم کر دیے ہیں، جہاں پر وہ بغیر کسی روک ٹوک کے نفرت پھیلا رہے ہیں اور اس کے اثرات ایک عام برطانوی، یورپی اور امریکی شہری پہ پڑ رہے ہیں۔ اسی بنا پر نفرت پھیلانے والے یہ رہنما عوام کے اذہان پر چھا گئے ہیں اور وہ ٹیک کمپنی کی اشرافیہ اور دوسرے ارب پتیوں کے مفادات کے خاطر عوام الناس کو کٹھ پتلیوں کی طرح چلا رہے ہیں۔ انڈیا میں بھی کئی ارب پتی ہندو انتہا پسند تنظیموں کو بلاواسطہ طور پر یا بالواسطہ طور پر سپورٹ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سماج کے رگ و پے میں نفرت کا زہر تیزی سے سرایت کر رہا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ہندو انتہا پسند تنظیمیں ہر مسئلے کی ذمہ داری وہاں کے مسلمانوں یا دوسرے طبقات پہ ڈال رہی ہیں۔ ریاست کا جبر دن بدن بڑھ رہا ہے اور تنقیدی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کی عوام خواب غفلت سے بیدار ہوں اور یہ سوچے کے کھربوں ڈالرز کمانے والی یہ کمپنیاں مناسب ٹیکس کیوں نہیں دیتی؟ موثر دولت ٹیکس کی مخالفت کیوں کرتی ہیں؟ سرکار سے سبسڈیز کیوں لیتی ہیں؟ آف شور کمپنیاں کیوں بناتی ہیں؟ بیل آوٹ پیکیچیز کی کیسے حقدار قرار پاتی ہیں؟ لابیاں کیوں بناتی ہیں؟ سیاسی جماعتوں کو چندے دے کر پالیسی سازی پر کیوں اثر انداز ہوتی ہیں؟ میڈیا گروپس پر قبضہ کر کے رائے عامہ کو اپنے مفاد کے لیے کیوں استعمال کرتی ہیں؟ اجارہ داری کو کیوں فروغ دیتی ہیں؟ جنگوں کو چھیڑ کر کیوں لاکھوں لوگوں کو ہلاکت کی آگ میں جھونکتی ہیں؟ عوام کو صرف ان سوالوں پر سوچنا ہی نہیں ہوگا بلکہ اس کے حل کے لیے عملی جدوجہد کرنی پڑے گی تاکہ پاکستان جیسے غریب ملک میں اشرافیہ کو 17 ارب ڈالر کا سالانہ بھتہ بند کیا جائے اور یورپ و امریکہ میں بیل آوٹ اور سبسڈیز کے نام پر کارپوریشنز اور بینکوں کو ملنے والے غنڈہ ٹیکس کو روکا جا سکا۔ عوام کو جنگوں اور ہتھیاروں کے خلاف بھی سراپا احتجاج بننا پڑے گا تاکہ منافعے کی خاطر انسانی سماج کو تباہی کی طرف پھینکنے کے اس عمل کو روکا جا سکے۔ نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ پاکستان امریکہ ایران اسرائیل انڈیا جمہوریت جمہوریت اور عوامی حقوق کے نعروں کے باوجود دنیا میں جہاں کہیں بھی دیکھیں آپ کو اشرافیہ کا قبضہ نظر آئے گا۔ آغا عبدالستار سوموار, جون 15, 2026 – 08: 30 Main image:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایلون مسک سے 30 مئی 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں مصافحہ کر رہے ہیں (ایلیسن رابرٹ / اے ایف پی)
نقطۂ نظر type: news related nodes: ورلڈ اکنامک فورم یا عالمی اشرافیہ کلب؟ اشرافیہ کی ہیش ٹیگ شادیاں اور عوام آئی ایم ایف بےرحم اشرافیہ کی سہولت کار؟ پاکستان: اشرافیہ مخالف رویوں میں اضافہ SEO Title: اشرافیہ کا قبضہ، عوامی مزاحمت کی ضرورت copyright: show related homepage: Hide from Homepage



