73.6 F
Pakistan
Friday, September 11, 2026
HomeCrime’استاد پر ہاتھ اٹھانا سنگین جرم ہے،‘ پروفیسرعارف ساقی کا ملزم کے...

’استاد پر ہاتھ اٹھانا سنگین جرم ہے،‘ پروفیسرعارف ساقی کا ملزم کے والد سے صلح سے انکار

جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر عارف ساقی پر تشدد کے کیس میں ملزم کے والد علی گوہر شاہ نے پروفیسر کے گھر پہنچ کر صلح کی کوشش کی، تاہم عارف ساقی نے سمجھوتے سے انکار کردیا۔ دوسری جانب کیس کے مرکزی ملزم کونین شاہ راشدی نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی ہے۔ جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر عارف ساقی پر تشدد کے کیس میں ملزم کے والد علی گوہر شاہ پروفیسر عارف ساقی کے گھر پہنچے اور ان سے ملاقات کی۔ پروفیسر عارف ساقی کے مطابق ملزم کے والد نے معاملہ سمجھوتے کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے صلح سے انکار کردیا۔ پروفیسر عارف ساقی کا کہنا ہے کہ استاد پر ہاتھ اٹھانا سنگین جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لڑائی کسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ بدمعاشی کلچر سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، اصل مسئلہ استاد کے احترام کا ہے۔ دنیا بھر میں اساتذہ کی عزت کی جاتی ہے، مگر یہاں استاد کو سرعام تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پروفیسر عارف ساقی نے مزید کہا کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ استاد کا مقام بحال ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزم پولیس کے سامنے سرنڈر کرے اور سرعام معافی مانگے۔ ان کے مطابق ملزم کو اعتراف کرنا چاہیے کہ استاد پر ہاتھ اٹھا کر اس نے سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ پروفیسر عارف ساقی نے کہا کہ استاد کی تضحیک پورے تعلیمی معاشرے کی تضحیک ہے۔ دوسری جانب پروفیسر عارف ساقی پر تشدد اور انہیں حبسِ بے جا میں رکھنے کے کیس میں نامزد مرکزی ملزم کونین شاہ راشدی نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی ہے۔ فرسٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر کی عدالت نے ملزم کونین شاہ کی 20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کی۔ عدالت نے ملزم کو تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوکر تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی، جبکہ ضمانت کی توثیق کے لیے مقررہ تاریخ پر بھی پیش ہونے کا حکم دیا۔ ادھر پولیس نے سندھ گرین ریسٹورنٹ پر چھاپا مار کر مزید دو سیکیورٹی گارڈز گل شیر اور تاج محمد کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق کیس میں گرفتار ملزمان کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کونین شاہ راشدی کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا، تاہم اس کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ واقعے پر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے بھی پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی پر مبینہ تشدد اور انہیں حبسِ بے جا میں رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انجمن اساتذہ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اساتذہ کا تحفظ یقینی بنانے اور واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ خیال رہے کہ دو روز قبل صفورا چورنگی کے قریب جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین پروفیسر عارف ساقی پر تشدد کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق پروفیسر عارف ساقی کی گاڑی کو ٹکر لگنے کے معاملے پر فریقین کے درمیان تنازع ہوا، جس کے بعد ان پر تشدد کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے مالک کے بیٹے کے گن مینوں پر پروفیسر عارف ساقی کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔ واقعے کے بعد عارف ساقی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جب کہ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments