81.4 F
Pakistan
Saturday, April 25, 2026
HomeEntertainmentاب چلتے ہیں پرانے جدہ کی طرف جو بدوؤں کے زمانہ میں...

اب چلتے ہیں پرانے جدہ کی طرف جو بدوؤں کے زمانہ میں تھا، انڈیا کا سفارتخانہ، آگے مسجد جہاں سزا یافتہ قیدیوں کے سر قلم کیے جاتے ہیں

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 127دائیں طرف دیوار آگئی سمندر کا کنارہ اور وہاں ”مسجد فاطمہ“۔ عام طور پر انڈونیشیا کے لوگ اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔”شاہد اقبال“ 25 سال سے سعودی مالک کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ بڑی ایمانداری سے کام کرنے کی وجہ سے مالک بڑا خوش ہے۔ پھر عبد اللہ کے محل کے اندر بنی مسجد دیکھی۔ یہ محل اور مسجد ماضی کے آثار ہیں۔ اب تو سب شاہی خاندان ”الریاض“ جا چکا ہے۔ آگے دائیں طرف “Al-Danut Market” بقول شخصے اس میں ایک سابق وزیر اعظم کا بھی حصہّ ہے۔ اب چلتے ہیں پرانے جدہ کی طرف جو بدوؤں کے زمانہ میں تھا۔ ”اماں حوا“ کی قبر آگے دائیں طرف وزارت خارجہ، انڈیا کا سفارتخانہ، آگے مسجد جہاں سزا یافتہ قیدیوں کے سر قلم کیے جاتے ہیں۔ آگے وزارت دفاع اور پھر ”Diamond Mehmood Saeed Market“۔ دائیں طرف سعودی ائیر لائن کا ہیڈ آفس۔ اب آگیا علاقہ عزیزیہ پاکستانیوں کا وی آئی پی علاقہ۔ یہاں انڈیا پاکستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ اور لوگ کم ہی ہیں۔ یہاں سکول باہر کے ملکوں سے آکر لوگوں نے کھولے ہیں۔ لیکن ملکیت کفیل کے نام ہی ہے۔آخری روز شاہد اقبال نے کافی گفٹ لے کر ہمیں دئیے۔27-4-2014. .. .. . پانچ بجے شام جدہ سے روانگی عمرہ کا احرام باندھ کر شاہد اقبال کی گاڑی اور ڈرائیور سمیت سامان ہوٹل میں رکھا۔ سیدھے ”اللہ کے گھر“ کی طرف تلبیہ اور دعائیں پڑھتے ہوئے۔ وہاں ایک مزدور سے وہیل چیئر لی 50 ریال دے کر اور شان علی نے اُس کی کمان سنبھال لی۔ بیگم ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ شان نے عمرہ کی ادائیگی میں مدد کی۔ تلبیہ درود پاک اور دعاؤں التجاؤں کی چھاؤں میں 7 چکر پورے کیے اور پھر عشاء کی نماز با جماعت ادا کی۔ پھر باری آئی صفا و مروہ کی تو یہاں بھی وہیل چیئر پر 7 چکرّ لگے۔حرم سے باہر آکر حجام سے بال کٹوائے اور اِس طرح عمرہ کی ادائیگی اختتام پذیر ہوئی۔ واپس ہوٹل میں آگئے۔ کھانا کھایا تو شان علی اُسی گاڑی میں واپس جدّہ چلا گیا۔29-4-2014. .. .. . صبح اٹھ کر نہایا گیا، ناشتہ کیا اور دوائی کھائی اور ”بلال نامی“ ٹیکسی ڈرائیور گاڑی نمبر 8173 لے کر آیا۔ غار ثور پہنچے اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی کہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرتے وقت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے یہاں 3 روز قیام فرمایا تھا۔ پھر عرفات روڈ (طریق) یہاں 3 دن حج کے دوران بجلی سے ٹرین چلتی ہے۔ حاجی اس سے سفر کرتے ہیں۔ میدانِ عرفات جاتے راستے میں نیم کے درخت ان کو بونے کے لیے مٹی گجرات سے آئی تھی۔ جنرل ضیاء الحق آیا تو تحفہ لایا تھا۔ بائیں طرف پہاڑ کے ساتھ دیوار، نہر بنائی ملکہ زبیدہ نے حاجیوں کے لیے۔ کشادہ سڑکیں۔ اب آگیا میدان عرفات، جو اندر آگیا حج قبول، جو حج کے دوران فوت ہوجائے تو اُس کو عرفات کا چکّر لگا کر دفن کرتے ہیں۔ اُس کا بھی حج قبول ہوگا۔ مسجد نمرہ صرف حج کے دنوں میں کھلتی ہے۔ سال بھر بند رہتی ہے۔ اب جبل رحمت ہسپتال آگیا۔ یہ پہاڑ بابا حضرت آدم اور امّاں حوّا اِس پہاڑ پر300 سال بعد ملے۔ جبل رحمت، خطبہ ئ حجۃ الوداع یہاں دیا گیا۔ مزلفہ کا میدان، حج کے دوران یہاں رات کا قیام اور کنکریاں اُٹھانا۔ یہ مسجد المشعر الحرام، مزدلفہ، یہاں حاجی اکٹھی مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرتے ہیں۔آگے منیٰ، خیمے شروع ہوگئے ان پر نمبر لکھے ہوئے ہیں۔ آگے وادی منیٰ اور الجمرات آگے پیلی مسجد۔ یہاں پہاڑ کھودا تھا تو اندر سے مسجد برآمد ہوئی۔ اُس کو اُسی طرح رکھا ہوا ہے۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ مسئلہ کشمیر کا حل بھی مثبت سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments