تباہی کے اس منظر میں محفوظ رہ جانے والے ہر شخص کی کہانی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ قدرتی آفت کے چند لمحے زندگی کا رخ یکسر بدل سکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال نیپالی مزدور بیبیک کومل کی ہے، جو اچانک آنے والے سیلابی ریلے میں بہتے بہتے ایک آم کے درخت میں جا پھنسا اور یوں موت کے منہ سے نکل آیا۔ نیپال میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کے دوران ایک 24 سالہ نوجوان مزدور کا کہنا ہے کہ سیلاب آنے سے پہلے کے لمحات میں وہ تقریباً ڈیڑھ میٹر گہرے گڑھے میں کام کر رہا تھا کہ اچانک اسے پانی کے تیز شور جیسی آواز سنائی دی۔ اس کے چار ساتھی، جو گڑھے کے اوپر موجود تھے انہوں نے اسے فوراً باہر نکلنے اور بھاگنے کے لیے کہا۔ کمل کسی طرح گڑھے سے باہر نکلا، لیکن اس وقت تک اس کے ساتھی وہاں سے بھاگ چکے تھے۔ وہ بھی جان بچانے کے لیے دوڑنے لگا، مگر چند ہی لمحوں بعد پانی، کیچڑ اور پتھروں کا ایک بڑا ریلا گرجتا ہوا اس کی طرف آیا اور اپنے راستے میں موجود ہر چیز کو بہا لے گیا۔ کومل نے کھٹمنڈو کے نیشنل ٹراما سینٹر میں زیر علاج ہونے کے دوران بتایا کہ اسے یوں محسوس ہوا جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ سیلابی پانی اسے ملبے کے ساتھ بہاتا ہوا لے گیا، تاہم وہ خوش قسمتی سے ایک آم کے درخت میں پھنس گیا۔ اس کے مطابق اگر آم کا درخت نہ ہوتا تو وہ بھی پانی کے ساتھ بہہ جاتا اور اس کی جان بچنا ممکن نہ تھا۔ پولیس اہلکار بعد میں اس تک پہنچے اور اسے درخت سے نکال کر محفوظ مقام پر لے گئے۔ سیلابی ریلے کے دوران پہلے پانی اور بعد میں ایک بڑے پتھر کی زد میں آنے سے اس کی دائیں ٹانگ زخمی ہوئی۔ کومل نے بتایا کہ جس مکان میں وہ کام کر رہا تھا، اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اسے غائب ہوتے دیکھا۔ تاہم اس کا اپنا گھر، جو کسی دوسرے مقام پر واقع ہے، محفوظ رہا۔ یہ سیلاب نیپال میں حالیہ برسوں کے بدترین قدرتی سانحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس تباہی میں کم از کم 469 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سیکڑوں افراد لاپتا ہیں، جن میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں عمارتوں، گاڑیوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چین کی سرحد کی جانب نصب سکیورٹی کیمروں کی ریکارڈنگ میں بھی لوگوں کو پانی، کیچڑ اور پتھروں کے بڑے ریلے سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ چند ہی لمحوں میں سیلابی ریلے نے متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ تباہی دریائے میں کیچڑ اور چٹانوں کے بڑے پیمانے پر گرنے کے بعد آنے والے سیلاب سے منسلک ہے، تاہم اس کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہوئی۔ جرمن ریسرچ سینٹر فار جیو سائنسز کے مطابق سکیورٹی کیمروں کی ریکارڈنگ میں درج وقت سے تقریباً سات منٹ پہلے 4. 4 شدت کا زلزلہ بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاہم زلزلے اور اس تباہی کے درمیان براہِ راست تعلق کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد بھی کومل کے ساتھ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اسپتال کے باہر متاثرہ افراد کے رشتہ داروں، دوستوں اور دیگر لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے جمع ہیں۔ اسی اسپتال میں 11 سالہ ریحانہ لامیچھانے بھی زیر علاج ہے، جو سیلابی ریلے میں پھنسنے کے بعد زخمی ہوئی۔ ریحانہ نے بتایا کہ وہ اسکول میں تھی، جہاں سیلاب کے خطرے کے باعث چھٹی کر کے بچوں کو گھروں کو جانے کے لیے کہا گیا۔ گھر جاتے ہوئے جب وہ ایک دریا عبور کر رہی تھی تو اچانک تیز سیلابی پانی آ گیا۔ سیلاب کے دوران ریحانہ کے سینے اور ٹانگ پر چوٹیں آئیں، تاہم وہ جان بچنے پر خوش ہے۔ اس نے بتایا کہ اسے اپنے ان دوستوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں جن کے ساتھ وہ اسکول سے نکلی تھی۔ ریحانہ کی والدہ ریتا نے بتایا کہ ایک دوست کی فون کال موصول ہونے کے بعد وہ اپنی بیٹی کو تلاش کرنے کے لیے فوراً نکل پڑیں۔ بیٹی کو محفوظ دیکھ کر انہیں اطمینان ہوا کہ اسے کوئی سنگین نقصان نہیں پہنچا۔ نیپال کا زیادہ تر علاقہ پہاڑی ہے اور ہر سال مون سون کے موسم میں شدید بارشوں کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ملک کو زلزلوں سمیت کئی قدرتی آفات کا بھی سامنا رہتا ہے۔ کمل خود بھی 2015 کے تباہ کن زلزلے سے بچ چکا ہے، جس میں تقریباً 9 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم اس بار آم کے ایک درخت نے اسے ایک ایسے سیلابی ریلے سے بچا لیا جس نے اس کے آس پاس موجود کئی چیزوں کو چند لمحوں میں تباہ کر دیا۔
آم کے درخت نے نوجوان کی جان بچا لی، نیپال سیلاب کی لرزہ خیز داستان
RELATED ARTICLES



