پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ رواں مون سون سیزن کے دوران ملک کے بڑے آبی ذخائر میں تقریباً 70 فیصد ذخیرہ کرنے کی گنجائش دستیاب ہے، جس کے باعث 2022 جیسی وسیع پیمانے کی سیلابی صورت حال کا امکان کم ہے۔ تاہم این ڈی ایم حکام نے رواں مون سون سیزن میں ملک کے زیر انتظام گلگت بلتستان، جموں و کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا اور دریائے سندھ کے بالائی کیچمنٹ کے علاقےکو سب سے زیادہ حساس قرار دیا ہے، جہاں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلاف)، ندی نالوں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے کی ڈائریکٹر ڈاکٹر بشریٰ خالد نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ بالائی دریائے سندھ کے علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے اور معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے باعث برف اور گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’صوبہ پنجاب کے علاقوں ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بالائی سندھ کے بعض علاقوں اور بلوچستان کے علاقے سبی سمیت مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہر متوقع ہے، تاہم گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ صرف شمالی علاقوں تک محدود ہے کیونکہ پاکستان کے گلیشیئرز انہی علاقوں میں واقع ہیں۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ڈاکٹر بشریٰ خالد کے مطابق: ’رواں سال 2022 جیسی وسیع پیمانے کی سیلابی صورت حال کا امکان کم ہے کیونکہ مون سون شروع ہونے کے وقت ملک کے بڑے آبی ذخائر میں صرف 30 فیصد پانی موجود تھا جبکہ تقریباً 70 فیصد ذخیرہ کرنے کی گنجائش دستیاب ہے، جس سے اضافی پانی کو محفوظ کرنے میں مدد ملے گی۔‘ انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایم اے نے مون سون شروع ہونے سے قبل ہی قومی مون سون سے نمٹنے کا ہنگامی پلان تیار کیا، جس کے تحت صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ اس ضمن میں ادارے نے امدادی سامان، ادویات، عارضی شیلٹرز، مواصلاتی نظام اور بھاری مشینری حساس علاقوں میں پہلے ہی پہنچا دی ہے۔ ڈاکٹر بشریٰ خالد نے کہا کہ ’این ڈی ایم اے نے پہلی مرتبہ impact-based forecasting متعارف کروائی ہے، جس میں صرف موسم کی پیش گوئی نہیں بلکہ اس کے ممکنہ اثرات، جیسے انفراسٹرکچر کو نقصان، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، سیلاب اور صحت عامہ پر پڑنے والے اثرات کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ادارے نے مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ مانیٹرنگ، ریموٹ سینسنگ، جیو سپیشل اینالیٹکس اور ہائیڈرو اینالیٹکس کو یکجا کرکے ایک جدید ارلی وارننگ سسٹم تیار کیا ہے، جس کے تحت مختلف خطرات کے لیے الگ الگ مقامی پورٹلز بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ بروقت وارننگ جاری کی جا سکے۔ ماہر موسمیات ڈاکٹر بشریٰ کے مطابق این ڈی ایم اے ہر ہفتے مون سون کوآرڈینیشن کانفرنسز منعقد کر رہا ہے، جن میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی ادارے شریک ہوتے ہیں تاکہ پیشگی تیاریوں اور خطرات کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔ ملتان میں 17 ستمبر، 2025 کو جلالپور پیروالہ کے قریب سیلابی پانی سے متاثرہ اور بند موٹر وے کے پاس لوگ آمدورفت کے لیے کشتی استعمال کر رہے ہیں (اے ایف پی) دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ یا موبائل سگنلز کی عدم دستیابی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایم اے نے مختلف ٹیلی کمیونیکیشن اور کمیونیکیشن سروس فراہم کرنے والے اداروں کے ساتھ اشتراک کیا ہے، جن کے ذریعے مقامی حالات کے مطابق انتباہی پیغامات متاثرہ آبادی تک پہنچائے جاتے ہیں۔ سیلاب کے دوران جانی نقصان کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر بشریٰ خالد نے کہا کہ کئی بار بروقت وارننگ جاری ہونے کے باوجود لوگ محفوظ مقامات پر منتقل نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق عوام میں آگاہی کی کمی اور بعض علاقوں میں نقل مکانی سے گریز بھی جانی نقصانات کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’حالیہ بونیر واقعے میں جنگلات کی کٹائی (deforestation) نے بھی تباہی میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ درخت اور قدرتی نباتات مٹی کو باندھے رکھتے ہیں، جبکہ ان کی عدم موجودگی میں شدید بارشوں کے دوران مٹی اور پتھروں کا بہاؤ تیزی سے نیچے آتا ہے۔‘ ڈاکٹر بشریٰ خالد کے مطابق این ڈی ایم اے پاکستان محکمہ موسمیات کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے اور محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں کو اپنے ارلی وارننگ سسٹم میں شامل کرکے انہی کی بنیاد پر امپیکٹ بیسڈ فورکاسٹنگ اور خطرات کی نشاندہی کر رہا ہے۔ این ڈی ایم اے قدرتی آفات سیلاب این ڈی ایم اے کے مطابق رواں مون سون سیزن کے دوران ملک کے بڑے آبی ذخائر میں تقریباً 70 فیصد ذخیرہ کرنے کی گنجائش دستیاب ہے، جس کے باعث 2022 جیسی وسیع پیمانے کی سیلابی صورت حال کا امکان کم ہے۔ قرۃ العین شیرازی بدھ, جولائی 15, 2026 – 11: 00 Main image:
مون سون کی شدید بارشوں کے بعد دریائے چناب میں طغیانی آنے سے 17 ستمبر 2025 کو پنجاب کے ضلع ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا میں سیلابی پانی سے ڈوبے ہوئے ایک گھر کے قریب ایک امدادی ٹیم کشتی کے ذریعے گزر رہی ہے (شاہد سعید مرزا / اے ایف پی)
ماحولیات jw id: LX7RxwDV type: video related nodes: 2026 کا مون سون شدید ہو سکتا ہے: این ڈی ایم اے این ڈی ایم اے کے پاس 100 کلو وزن اٹھانے والے ڈرونز بھی ہیں: چیئرمین پاکستان کے شمالی علاقوں میں سیلاب الرٹ جاری پاکستان میں معاشی استحکام آیا، مگر سیلاب نے خطرات بڑھا دیے: عالمی بینک SEO Title: بڑے آبی ذخائر میں 70 فیصد گنجائش، اس سال 2022 جیسے سیلاب کا خدشہ کم: این ڈی ایم اے copyright: show related homepage: Show on Homepage



