76.4 F
Pakistan
Saturday, August 29, 2026
HomeCrimeکراچی: پولیس کی سرپرستی میں خواتین کا فیملی پر تشدد، ڈی آئی...

کراچی: پولیس کی سرپرستی میں خواتین کا فیملی پر تشدد، ڈی آئی جی ساؤتھ کا انکوائری کا فیصلہ

کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 کے خیابانِ بخاری میں دو خواتین کے درمیان جھگڑے کے واقعے پر پولیس نے انکوائری کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا نے واقعے کی مکمل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں مقدمے کے اندراج کی وجوہات اور کیس کے حقائق کی چھان بین کی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق انکوائری کی ذمہ داری ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ کو سونپ دی گئی ہے۔ واقعے کی فوٹیج میں دکھائی دینے والے پولیس اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ تفتیشی پولیس کے مطابق کیس کا چالان تاحال عدالت میں جمع نہیں کرایا گیا، جبکہ مقدمے سے چھینا جھپٹی اور چوری کی دفعات خارج کردی گئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کے اندراج میں جانبداری ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ کراچی میں ڈیفنس کے علاقے خیابانِ بخاری میں واقع ایک فلیٹ میں دو خواتین کے درمیان شدید جھگڑے کا واقعہ پیش آیا، جہاں پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود ایک خاتون اور اس کے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ منظرِ عام پر آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز کے مطابق ایک خاتون دو باوردی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ سیڑھیوں سے نیچے اتریں جن کے ہاتھ میں ورزش کرنے والا ڈمبل تھا، خاتون نے اس ڈمبل سے دوسری خاتون پر حملہ کر دیا اور گالیاں بھی دیں۔ اس تمام تر صورتِ حال کے دوران وہاں موجود باوردی پولیس اہلکار بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کرتے رہے، لیکن وہ خاتون مسلسل حملہ آور رہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب سیڑھیوں پر ہاتھا پائی جاری تھی تو فلیٹ کے اندر سے ایک خاتون نے متاثرہ عورت اور اس کے شوہر کو اندر کھینچ کر دروازہ بند کر لیا۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد ایک سادہ لباس شخص ایک پولیس اہلکار کے ساتھ اوپر پہنچا اور دروازہ کھلوانے کی کوشش کرنے لگا۔ اسی اثنا میں جھگڑا کرنے والی خاتون نے اس شخص کو کہا کہ اس کیمرے کو توڑو سب کچھ ریکارڈ ہورہا ہے، جس پر اس سادہ لباس شخص نے ساتھ کھڑے پولیس اہلکار کی سرکاری کلاشنکوف لے کر سی سی ٹی وی کیمرے کو مار کر توڑ دیا اور ریکارڈنگ ختم ہو گئی۔ آج نیوز کو موصول ہونے والی ایک اور نئی فوٹیج سے انکشاف ہوا ہے کہ اس تمام تر واقعے کے بعد پولیس نے تشدد کرنے والی خاتون یا کیمرہ توڑنے والے شخص کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے الٹا متاثرہ فیملی پر ہی پل پڑی۔ پولیس اہلکار تشدد کی شکار خاتون کے بھائی کو کسی دہشت گرد کی طرح گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ تھانے لے گئے، جہاں متاثرہ فیملی کو مقدمہ درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے نے پولیس کی کارکردگی اور غیر جانبداری پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہری حلقوں اور متاثرین کی جانب سے اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر شفاف تحقیقات اور ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments