تاریخ کبھی صرف واقعات کا اندراج نہیں کرتی، بلکہ وہ قوموں کی اجتماعی نفسیات، اداروں کے احول اور اقتدار کے سرچشموں کا بھی حساب رکھتی ہے۔ بعض اوقات تاریخ کے صفحات پر ایسے کردار نمودار ہوتے ہیں جو عوامی جدوجہد، سیاسی تربیت اور انتخابی عمل کے طویل سفر سے نہیں گزرتے بلکہ کسی غیر متوقع



