خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں مقامی نوجوان دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں شجرکاری کے لیے ایک مختلف طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ وہ پودے لے جانے کی بجائے مٹی، نامیاتی کھاد اور درختوں کے بیج سے تیار کیے گئے چھوٹے گولوں یعنی سیڈ بالز کے ذریعے ان علاقوں تک درختوں کے بیج پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں روایتی انداز میں شجرکاری کرنا آسان نہیں۔ ان نوجوانوں میں 25 سالہ شبیر خان بھی شامل ہیں، جنہوں نے 2019 میں اپنے طور پر یہ مہم شروع کی۔ بعد میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کلائمیٹ واریئر بونیر کے نام سے ایک رضاکار گروپ قائم کیا، جو شجرکاری کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی پروگرام بھی منعقد کرتا ہے۔ پودوں کی بجائے مٹی، نامیاتی کھاد اور درختوں کے بیج سے تیار کیے گئے سیڈ بالز استعمال کیے جا رہے ہیں (لائبہ حُسن/انڈپینڈنٹ اردو) سیڈ بالز کیا ہیں؟ سیڈ بال مٹی، نامیاتی کھاد اور ریت سے تیار کیا جانے والا ایک چھوٹا سا گولا ہوتا ہے، جس کے اندر درخت یا مقامی پودوں کا بیج رکھا جاتا ہے۔ ان گولوں کو ایسے پہاڑی یا بنجر علاقوں میں پھینکا جاتا ہے، جہاں عام طریقے سے پودے لگانا مشکل ہو۔ اگر بارش اور مٹی کے حالات سازگار ہوں تو بیج زمین میں جڑ پکڑ سکتا ہے۔ شبیر خان کے مطابق اس طریقے کا مقصد روایتی شجرکاری کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان علاقوں تک بیج پہنچانا ہے جہاں انسان کے لیے ہر پودا لے جا کر لگانا ممکن نہیں۔ یہ مہم کیوں شروع کی گئی؟ شبیر خان کہتے ہیں کہ کئی برسوں سے وہ اپنے علاقے کے پہاڑوں پر جنگلات کی کٹائی دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میں نے محسوس کیا کہ ایک طرف درخت تیزی سے کاٹے جا رہے ہیں لیکن دوسری طرف اسی رفتار سے نئے درخت نہیں لگ رہے، اسی لیے میں نے پہلے خود پودے لگائے اور بعد میں سیڈ بالز کے ذریعے کام شروع کیا۔‘ ان کے مطابق گذشتہ برس بونیر میں آنے والے کلاؤڈ برسٹ نے انہیں یہ احساس بھی دلایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب مقامی سطح پر واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ ’اس واقعے کے بعد ہمیں یقین ہو گیا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور اس کے لیے عملی اقدامات کرنا ضروری ہیں۔‘ سیڈ بال مٹی، نامیاتی کھاد اور ریت سے تیار کیا جانے والا ایک چھوٹا سا گولا ہوتا جس میں بیج ہوتے ہیں (لائبہ حُسن/انڈپینڈنٹ اردو) بونیر کے جنگلات کی صورت حال بونیر سطح سمندر سے تقریباً 1200 فٹ سے لے کر شمال میں دوسرا سر چوٹی پر 9550 فٹ تک بلند علاقوں پر مشتمل ضلع ہے۔ اس کے بیشتر پہاڑ قدرتی چیڑ کے جنگلات سے ڈھکے ہوئے ہیں جبکہ زیادہ تر آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور زراعت ان کا بنیادی ذریعہ معاش ہے۔ محکمہ جنگلات کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ضلع بونیر میں تقریباً 41 ہزار ہیکٹر رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے، تاہم مقامی رضاکاروں کے مطابق غیر قانونی کٹائی، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات، بے ہنگم چرائی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت ان جنگلات پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ شبیر خان کہتے ہیں کہ مقامی لوگوں کے مشاہدے کے مطابق چند برس پہلے گرمیوں میں درجہ حرارت تقریباً 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا تھا، جبکہ اب بعض اوقات 40 درجے سیلسیئس سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اب تک کیا کام ہوا؟ شبیر خان کے مطابق ان کی ٹیم اب تک تقریباً 20 ہزار درخت لگا چکی ہے جب کہ مختلف پہاڑی علاقوں میں لاکھوں سیڈ بالز بھی پھیلائے جا چکے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وہ کہتے ہیں: ’جہاں مٹی کا کٹاؤ زیادہ ہو یا ڈھلوان اتنی تیز ہو کہ پودا لگانا ممکن نہ رہے، وہاں سیڈ بالز ایک متبادل طریقہ بن سکتے ہیں۔‘ ان کے مطابق ان کی تنظیم سکولوں، کالجوں اور مقامی کمیونٹی کے ساتھ آگاہی سیشن بھی منعقد کرتی ہے تاکہ شجرکاری کو صرف ایک موسمی سرگرمی کے بجائے ماحولیات کے تحفظ کی مستقل کوشش بنایا جا سکے۔ شبیر خان کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی رکاوٹ صرف درخت لگانا نہیں بلکہ انہیں محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا: ’غیر قانونی کٹائی، جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور آگاہی کی کمی اب بھی ہمارے لیے بڑے چیلنج ہیں۔ اگر مقامی کمیونٹی، تعلیمی ادارے اور سرکاری محکمے مل کر کام کریں تو ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔‘ سیڈ بالز شجرکاری کا واحد حل نہیں سمجھے جاتے، تاہم بونیر میں یہ طریقہ ان پہاڑی علاقوں تک مقامی درختوں کے بیج پہنچانے کی ایک ایسی کوشش بن چکا ہے جہاں روایتی انداز میں شجرکاری ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ بونیر جنگلات درخت پہاڑ ماحولیات بونیر کے نوجوان پہاڑوں پر جنگل اگانے کے لیے روایتی شجرکاری کی بجائے سیڈ بالز سے مدد لے رہے ہیں۔ لائبہ حُسن سوموار, اگست 3, 2026 – 09: 45 Main image:
ضلع بونیر میں نوجوان دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں شجرکاری کے لیے سیڈ بالز استعمال کر رہے ہیں (لائبہ حُسن/انڈپینڈنٹ اردو)
ماحولیات jw id: 5tp81zV5 type: video related nodes: کراچی: استعمال شدہ پانی سے شجرکاری کا کامیاب تجربہ ’کوئی بھی گھر واپس نہیں جانا چاہتا‘: بونیر کے رہائشی مزید بارشوں سے خوف زدہ پنجاب کے جنگلات میں کان کنی کی اجازت دینے پر ماہرین کو تشویش اسلام آباد میں صرف پولن الرجی والے درخت کاٹ رہے ہیں: حکام SEO Title: بونیر: پہاڑوں پر درخت اگانے کے لیے سیڈ بالز کا استعمال کتنا کامیاب؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



