88.4 F
Pakistan
Friday, July 31, 2026
HomePoliticsسعودی عرب کا بین الاقوامی بحری دفاعی اتحاد بنانے کا اعلان، پاکستان...

سعودی عرب کا بین الاقوامی بحری دفاعی اتحاد بنانے کا اعلان، پاکستان کی حمایت

سعودی عرب نے جمعرات کو ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر کے خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ اقدام یمن میں حوثیوں کی جانب سے حملوں کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے بحری جہازوں پر حملے کر کے دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک کو متاثر کیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی جہاں اس مجوزہ اتحاد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ منصوبے کے تحت سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور قائد ملک ہوگا اور اس کا ہیڈکوارٹر بھی مملکت میں قائم کیا جائے گا۔ سعودی عرب نے 30 جولائی 2026 کو کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام پر غور کے لیے اجلاس کی میزبانی کی (ایس پی اے) سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ اتحاد بحری سلامتی کو مضبوط بنائے گا، جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائے گا، عالمی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کی لائنوں کو محفوظ کرے گا اور آبنائے باب المندب اور خلیجِ عدن میں مشترکہ بحری مفادات کا تحفظ کرے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان، ترکی، مصر، سوڈان اور جبوتی سمیت 14 ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس مجوزہ اتحاد کی حمایت کی تاہم خلیجی عرب ممالک میں سے عمان اور متحدہ عرب امارات ان ممالک میں شامل نہیں تھے جنہوں نے اس اعلامیے کی تائید کی۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ایک روز قبل ذرائع نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ سعودی عرب بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں سے جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک عالمی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ادھر حوثیوں نے 20 جولائی کو کہا تھا کہ وہ بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کریں گے، اور اس کے بعد انہوں نے سعودی مفادات سے منسلک جہازوں پر کئی حملوں کا دعویٰ بھی کیا۔ بحیرۂ احمر میں کشیدگی دراصل ایران جنگ کا ایک نیا محاذ ہے، جہاں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حملوں سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والی آبنائے باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے۔ یورپی یونین نے 2024 میں بحیرۂ احمر میں ایک بحری مشن کا آغاز کیا تھا تاکہ جہاز رانی کی آزادی کو بحال اور محفوظ بنایا جا سکے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی جہاں اس مجوزہ اتحاد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ روئٹرز جمعرات, جولائی 30, 2026 – 23: 45 Main image:

سعودی عرب نے 30 جولائی 2026 کو کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام پر غور کے لیے اجلاس کی میزبانی کی (ایس پی اے)

دنیا type: news related nodes: آبنائے باب المندب: بحیرہ احمر کی گزرگاہ کے بند ہونے سے تجارت پر کیا اثر پڑے گا؟ سعودی ولی عہد سے گفتگو میں برنم کی حوثی حملوں کی مذمت یمن: سعودی فوجی اتحاد کے حدیدہ میں حوثیوں کے فوجی اہداف پر حملے حوثیوں کی سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیاں ناقابل قبول: پاکستان SEO Title: سعودی عرب کا بین الاقوامی بحری دفاعی اتحاد بنانے کا اعلان، پاکستان کی حمایت copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments