85.6 F
Pakistan
Tuesday, July 21, 2026
HomePoliticsسائل کے متلاشی ”معززین“ اور گم صم ریاست

سائل کے متلاشی ”معززین“ اور گم صم ریاست

ہماری بستی کا انتظام ایک منتخب کمیٹی چلاتی ہے۔ پہلے نو سال ہم نے اس کمیٹی کو بھگتا۔ پھر مقابلے پر نئے لوگ آگئے۔ نوشتہ دیوار پڑھ کر پہلے ٹولے نے سال تک انتخاب نہ ہونے دیا جب ہوئے تو وہ ہار گیا۔حیلوں بہانوں سے اس نے دو انتخابات کالعدم کرا دیے۔ تیسری دفعہ بھی وہ پیران تسمہ پا ہارے تو نئی کمیٹی کی راہ میں روڑے اٹکانا ان کا مقصد وحید تھا لیکن نئے لوگوں نے صرف ایک سال میں ہمارے دل جیت لیے، اتنے والہانہ پن اور خدمت خلق کے جذبے سے کام کیا کہ بیان سے باہر۔ تین سال بعد پھر انتخاب ہوا تو پرانا ٹولہ 90 سے زیادہ ووٹ نہ لے سکا۔ باقی 2600 سے زائد تمام ووٹ نئے لوگوں کو ملے۔ پرانا جتھہ پہلے تو بد زبانی، سوشل میڈیا اور جھوٹ سے کام چلاتا رہا، پھر مجرمانہ کاموں پر اتر آیا۔ رات کے اندھیرے میں کسی نے واٹر پائپ کاٹ کر بستی کو کربلا بنا دیا۔ ثبوت تو نہیں لیکن صغیر صدیقی نے ایسوں کے لیے یہ کہہ رکھا ہے: حافظ طاہر اشرفی نے مولانا فضل الرحمان کو مناظرے کا چیلنج دے دیا ظاہر تو ہر جگہ ہے ثابت نہیں کہیں سے خون وفائے بسمل جرم نگاہ قاتل چنانچہ آج آپ کو اقتدار سے باہر کا کوئی شخص زبان سے آگ برساتا اور دشمن کی بولی بولتا ملے تو تعجب نہ کیجئے۔ وسائل کا کیک بلدیاتی ہو یا ملکی، حصہ نہ ملنے پر بستی کے فسادی اور قومی ”معززین“ کے طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی۔ یہاں ناکام لوگ مخلوق خدا کو پانی سے محروم کردیں تو وہ معززین ہر دہشت گرد اور ہر ملک دشمن سے اظہار یکجہتی کرتے نظر آئیں۔ آئین شکن جرنیل دشمنی میں یہ اتنا آگے نکل گئے ہیں کہ آج وہ شہداء کی ماؤں کے کلیجوں پر تیزاب چھڑک رہے ہیں۔ مفت کی روٹیاں توڑنے کی لت لگ جائے تو کون سی حیا اور کدھر کا اسلام، یہ رہی سرمایے کی ابلیسی للکار: ملتان: جاوید ہاشمی کیخلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج کیا امان سیاست کیا کلیسا کے شیوخ سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو ایران امریکہ کے مابین ثالثی پر 7 جون کو لکھا تھا: ”اب ان دونوں سے پنڈا چھڑا کر اپنے کام کیجئے“۔ 14 جون کو مکرر التجا کی کہ: ”اس ثالثی سے جو کچھ کمانا تھا وہ ہم کما چکے، اس سے زیادہ ہمیں کچھ نہیں ملنا“۔ ثالثوں نے بھی یہی نتیجہ نکال لیا ہو گا۔ یہ جنگ دنیا بھر کیلئے مسئلہ ہے، تو ہمارے لیے اپنا کام کرنے کا سنہرا موقع ہے۔ بدباطنوں کی توجہ ہم سے ہٹی ہوئی ہے،حالات سازگار ہیں، طاقت کے ابھرتے مرکز میں ہمارا مقام بلاشبہ کلیدی ہےِ، اسے تقویت ملنا چاہیے۔ یہ کام دفتر خارجہ، وزیراعظم اور بھلے فیلڈ مارشل جاری رکھیں لیکن ان سب کا اصل کام سیاسی و معاشی استحکام کا حصول ہے۔ خیبر اور بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کیا کم تھی کہ اب آزاد کشمیر میں بھی بھارت آ دھمکا ہے۔ فوجی ہسپتال پر حملہ آور اور آزاد کشمیر سے فوج نکالنے کا کہنے والے چند ہی سہی لیکن ہیں یہیں کے جو کسی رعایت کے لائق نہیں۔ باقی چند ہزار ورغلائے گئے ناراض بھائیوں کا معاملہ حق اور باطل کا مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار ندیم نے زندگی کی 85 بہاریں دیکھ لیں گلگت تا گوادر اور چمن تا واہگہ کسی سے پوچھ لیں، یہی کہے گا کہ اختیار حکومت کے پاس نہیں بلکہ مقتدرہ نے ہر جگہ پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے یا درست، کہنے والے کے پاس ٹھوس دلائل ہوتے ہیں۔ آئے دن اجنبی افسر اس جگہ حاکم لگا دئے جاتے ہیں جس کا وہ بنیادی علم تو کیا رکھیں گے وہ تو کبھی وہاں اندر بھی نہیں گئے ہوتے۔ مجھے البتہ فیلڈ مارشل سے ہمدردی ہے۔ اندر خانہ وہ اس طاقتور جتھے سے نمٹ رہے ہیں جس نے فاتح جلال آباد کی گود میں بھی پرورش پا رکھی ہے۔ 35 سال کم نہیں ہوتے۔ فیلڈ مارشل پوری ایک نسل سے نمٹ رہے ہیں۔ ”جھیل“ کا کھارا پانی میٹھا کرنے کو 35 نہیں تو 10 سال یقینا چاہئیں۔ یوں اپنے ”ووٹ بینک“ کی طرف ان کے جھکاؤ کا ایک نتیجہ تو وہی ہے جو کئی سول محکمے آج بھگت رہے ہیں۔ شیخوپورہ: سٹیج ڈرامےکے دوران تماشائی کا اداکارہ پر تشدد، مقدمہ درج فصل کو وہی کھاد دیجیے جو اسے درکار ہو۔ ایسا نہ ہونے پر حال یہ ہے کہ ادھر کسی محکمے میں ”غیر متعلقہ“ افسر آتا ہے تو ادھر فوج کے خلاف طوفان بدتمیزی مچ جاتا ہے۔ جنرل کیانی نے چیف بنتے ہی حکم دیا تھا کہ تمام فوجی افسر سول سے واپس آ جائیں۔ سرکار دربار میں کسی شخص کی ہوا چل پڑے تو اسے ہر متعلقہ غیر متعلقہ کمیٹی میں ڈالنا لازم ہوتا ہے۔ آبادی کم کرنیوالی کونسل میں فیلڈ مارشل کا نام ڈالنا یقینا کسی ففتھ کالمسٹ کا کام ہے۔ یوں اسے شاہ کی خوشنودی ملی تو دوسری طرف اس نے ملک دشمن قوتوں کو پٹرول بھرا گیلن تھما دیا: ”جاؤ فوج مخالف مہم کے انگاروں کو مزید دہکاؤ“۔ عام مزدور بھی جانتا ہے کہ جرنیل کا فیملی پلاننگ سے رتی بھر تعلق نہیں ہوتا، نہ اسکے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ توپ سے مچھر مارتا پھرے۔ ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول، ایمباپے نے میسی کو پیچھے چھوڑ دیا آئیے اس آگ پر پانی ڈالیں۔ موثرترین کام یہ ہے کہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف ہر ہفتے ٹی وی پر ملکی مسائل پر کھل کر بحث کریں۔کوئی الزام ہو تو جواب بھی وہیں اسی جگہ۔ یہ ممکن نہ ہو تو وزیراعظم قوم سے ماہانہ خطاب کر کے الزامات کے جواب دیا کریں۔ سبھی جانتے کہ ایران پر داغے میزائل سے ”بلوچ مسنگ پرسن“ مرے اور ٹرین چھڑاتے وقت 33 دہشت گردوں مرے تو ماہ رنگ بلوچ بھی لاشیں لینے پہنچ گئی کہ یہ ہمارے مسنگ پرسنز ہیں۔ وہ ”مسنگ پرسنز“ جن کے لیے لانگ مارچ ہوتے رہے، سیاست دان اور صحافی اظہار یکجہتی کرتے رہے۔ آزاد کشمیر میں فوجی ہسپتال پر حملہ آوروں اور وہاں سے فوج نکالنے کا مطالبہ کرنے والوں کی گرفتاری پر اگر ایک ایک کروڑ کا انعام ہے تو یقیناً ٹھوس ثبوت بھی ہوں گے جو اس ماہانہ تقریر میں یہ سب کچھ بتایا جائے۔ بند حکومتی منہ مسائل کا سرچشمہ ہے۔ آج پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو چیلنج کیا جا رہا ہے: وزیر دفاع فوج ایک منظم ادارہ ہے جہاں بدعنوانی نہ ہونے کے برابر ہے جہاں بدعنوان سے فورا نمٹا جاتا ہے۔ سول اس کے برعکس ہے۔ کوئی فوجی سول میں جائے تو وہ وہاں سے ”بہت کچھ“ سیکھ لیتا ہے، چنانچہ فوج مخالف مہم سے نمٹنے اور اپنی مسلح افواج کو مزید طاقتور بنانے کے لیے بڑی دلسوزی سے التجا ہے کہ مزید کوئی فوجی سول میں نہ بھیجا جائے۔ جو فوجی سول میں موجود ہیں، دورانیہ پورا ہو تو انہیں ریٹائر کیا جائے نہ کہ انہیں واپس لیا جائے۔ یہ لوگ سول سے جو ”تربیت“ لے چکے ہوتے ہیں وہ فوج جیسے مقدس ادارے کے لیے موت کی آہٹ کے سوا کچھ نہیں۔ ہماری محافظ، جانباز اور مجاہد فوج کو دوہری شہریت والے ان افسروں سے بچائیے۔ اللہ گواہ ہے کہ بڑی دلسوزی سے التجا کر رہا ہوں۔ فیلڈ مارشل یقینا اس پر غور کر کے عمل کریں گے۔

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments