81.5 F
Pakistan
Friday, July 17, 2026
HomeBreaking Newsایران کو ایک روز تو لڑنا ہی تھا

ایران کو ایک روز تو لڑنا ہی تھا

کوئی شخص تا قیامت زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسے موت کا مزہ چکھنا پڑتا ہے، اسی طرح کوئی شخص تمام عمر سرکاری نوکری نہیں کر سکتا، اسے ایک یا دو بار ایکسٹنشن مل بھی جائے تو جب بھی اسے ایک روز ریٹائر ہونا ہی پڑتا ہے۔ میرے ایک عزیز دوست بریگیڈئیر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ، ان کا تعلق ایس ایس جی سے رہا، ان کے کریڈٹ پر کئی کارنامے ہیں، ان کا سینہ میڈلز اور اعزازت سے بھرا ہے۔ نہایت صاحب علم شخصیت ہیں۔ انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ فارسی پر دسترس رکھتے ہیں۔ انداز بیان ایسا کہ محو کلام ہوں اور سامنے سے پانی کی گاگریں سر پر رکھے دوشیزاؤں کی قطار گزر رہی ہو تو انسان انہیں نظر اٹھا کر نہ دیکھے۔ بریگیڈئیر صاحب کی گفتگو میں مگن رہے۔ میرے دوست ریٹائر ہوئے تو انہیں قواعد و ضوابط کے مطابق اوکاڑہ اور دیپالپور کے قریب زرعی زمین الاٹ ہوئی۔ یہ ایسی زمین تھی جہاں گھاس کا ایک تنکا بھی نظر نہ آتا تھا۔ میرے دوست نے ٹیم تیار کی جس نے دو سال کی محنت کے بعد زمین تیار کی۔ ٹیوب ویل ٹریکٹر کھاد بیج کا اہتمام کیا، جب پہلی فصل لہلانے لگی تو ساتھ کی زمین کے مالک کے درجنوں افراد بندوقیں لے کر ایک حصے پر قابض ہو گئے اور کہنے لگے آپ نے ہماری زمین کے کچھ حصے پر فصل لگا دی ہے۔ یہ پٹواری تحصیلدار کے کاغذات ہیں جو ہماری بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ میرے دوست کو اس قبضے کی اطلاع ملی تو وہ لاہور میں تھے۔ انہوں نے تمام مصروفیات اور ٹی وی کے ٹاک شوز چھوڑے اور اپنی زمین پر پہنچ گئے وہاں حالات وہی تھے جو بتائے گئے تھے۔ فوجی افسران کو جب زمین الاٹ کی جاتی ہے تو پٹواری تحصیلدار ریونیو آفیسر ڈپٹی کمشنر اور کمشنر لیول پر چھان بین کے بعد سرکاری زمین کی تصدیق کے بعد اسے الاٹ کیا جاتا ہے۔ اس کیس میں بھی ان تمام دفاتر نے اپنا کام دیانتداری سے انجام دیا تھا لیکن قبضہ گروپ کسی کی سننے کے لئے تیار نہ تھا۔ میرے دوست علاقے کے ایس پی کے پاس گئے اور انہیں تمام واقعہ بیان کیا، جس نے پہلے تو خوب مہمان نوازی کی، مکمل پروٹوکول دیا پھر کہنے لگا سر یہ سول معاملہ ہے، آپ کو سول کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے۔ بریگیڈئیر صاحب نے کہا یہ قبضہ گروپ ہے۔ یہ میری چار دیواری توڑ کر میرے گھر میں گھس آئے ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ ایس پی صاحب نے جواب دیا سر جب تک ڈانگ سوٹا نہ چلے۔ سر نہ پھٹیں گولی نہ چلے کوئی زخمی نہ ہو کوئی مارا نہ جائے معاملہ فوجداری نہ بنے ہم کیسے کارروائی کر سکتے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب ناامید ہو کر اٹھنے ہی والے تھے کہ ایس پی نے انہیں بٹھا لیا اور کہنے لگا سر مائنڈ نہ کیجئے گا، آپ ان قبضہ گروپوں کے ساتھ عدالتوں میں پورے نہیں آسکتے۔ ایک دفعہ تو آپ کو ان سے لڑنا ہی پڑے گا۔ بریگیڈیئر صاحب نے نکتہ پلے باندھ لیا، واپس آئے اور ایک دوسری ٹیم تیار کی جس نے قبضہ گروپ کو زبردست پھینٹا لگایا، سب لوگ بھاگ گئے، قبضہ چھڑا لیا گیا۔ طاقت کے مظاہرے کے بعد پھر کسی طرف سے کوئی حرکت نہ ہوئی۔ جب سے اب تک ہر طرف چین ہی چین ہے۔امریکہ اور ایران کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ امریکہ، عراق، شام، فلسطین، لبنان، مصر، وینزویلا، اردن اور کویت کے ساتھ بذریعہ اسرائیل جو کچھ کر چکا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ وہ ہی کچھ ایران کے ساتھ کرنا چاہتا ہے، پس ایران کو ایک روز اپنی بقا کے لئے لڑنا ہی تھا۔ اب وہ دو ایٹمی طاقتوں اور دو درجن غیر ایٹمی طاقتوں کے ساتھ لڑ رہا ہے اور بے جگری سے لڑ رہا ہے۔ اس نے اپنے خلاف جارحیت کرنے والوں کے چھکے چھڑا دیئے ہیں۔خطے میں جاری جنگ کو دور سے دیکھنے والے لرزہ براندام ہیں۔ اب تو ان پر ایک ہذیانی کیفیت طاری ہے۔ کہتے ہیں امن سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ جنگ بند ہونی چاہئے لیکن ذرا یہ بھی دیکھا جائے، جارح کون ہے اور کیوں بار بار بلاجواز جارحیت کرنے سے باز نہیں آرہا۔ وہ کیوں کئے گئے معاہدوں کا پاس نہیں کرتا۔ 2015ءکے معاہدے کو کس نے یکطرفہ منسوخ کیا اورحملہ آور ہوا۔ ایم او یو پر کس نے دستخط کرنے کے باوجود اس کی خلاف ورزی کی۔ ایران کے تیل پر قبضے کے بہانے کون ڈھونڈ رہا ہے۔ اگر سب سوالوں کا جواب ہے یہ سب کچھ کیا دھرا امریکہ کا ہے جو اسرائیل کو خوش کرنے کے لئے اور اس کی سرحدیں وسیع کرنے کے لئے سب کچھ کر رہا ہے تو پھر یہی رک جائیں، بہت کر لی ثالثی اب چھوڑ دیں وہ ثالثی جس کا فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو ہو رہا ہے۔ گزشتہ پون صدی سے امریکہ اور اسرائیل یہی کچھ کر رہے ہیں۔ کسی میں ہمت نہ ہوئی ان کا ہاتھ روکیں۔ وہ یکے بعد دیگرے آگے بڑھتا رہا اور خاص طور پر مسلمان ممالک کے وسائل پر قبضہ کرتا رہا۔ کوئی اس کا ہاتھ نہ روک سکا، کوئی اس کا سامنا کرنے کی جرا¿ت نہ کر سکا۔ اگر ماضی میں مصر یا عراق نے اپنی سی کوشش کی بھی تو تمام مسلمان ملک دور سے کھڑے ہو کر تماشہ دیکھتے رہے۔ کسی کو میدان بدر یا احد یاد نہ آیا، کسی کو جنگ خیبر و جنگ خندق میں چھپا فلسفہ بھی یاد نہ آیا۔مسلمان ملکوں پر فرض ہے اگر اس جنگ میں کوئی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ایران کے ساتھ تن من دھن سے کھڑے ہو جائیں۔ اس جنگ میں امریکہ کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے ہاتھ نہ پکڑیں بلکہ ایران کے ہاتھ مضبوط کریں۔ امریکہ اور اسرائیل کو سبق سکھانے کا یہ پہلا اور آخری موقع ہے پھر یہ موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔ جن اسلامی ملکوں پر تیل مہنگا ہونے کا خوف طاری ہے۔ وہ اس خوف کو اپنے تک رکھیں۔ تیل مہنگا ہو گیا تو قیامت نہیں آجائے گی، نہیں چلائیں گے گاڑیاں، نہیں چلائیں گے موٹرسائیکلیں، سائیکل چلا لیں گے۔ پیدل گھوم لیں گے۔ ماں کے پیٹ سے نکلے تھے تو گاڑی میں بیٹھ کر نہیں نکلے تھے۔ آج بجلی اور گیس مہنگی خرید رہے ہیں، جس کی مہنگائی میں ایران کی جنگ کا کوئی کردار نہیں۔ تیل نہ ملا تو لالٹین جلا لیں گے لیکن امریکہ اور اسرائیل کا اس خطے سے کردار ختم کرنے کےلئے کسی خوف میں مبتلا ہو کر یہ نہیں کہیں گے کہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی بات مان کر ان کی شرائط پر اپنا سب کچھ ان کے حوالے کر دینا چاہئے۔ امریکہ اور اسرائیل کے گماشتے اہل وطن کو یہی سبق پڑھا رہے ہیں کہ ایران کسی معاہدے کی طرف نہیں آرہا حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایران نے ہر مرتبہ معاہدہ کیا۔ امریکہ نے ہر مرتبہ اسے توڑا کیوں؟ کسی بے غیرت کے پاس ہے اس کا جواب تو سامنے لائے ورنہ اپنی زبانوں کو لگام دے۔ ابرہہ، فرعون، شداد اور ابوجہل کے ساتھ کھڑے ہونے والے ان کے ساتھ ہی ختم ہو گئے۔ امریکہ اور اسرائیل کا راتب کھانے والے بھی نہیں بچیں گے۔ ایران نے نصف صدی تک پابندیاں برداشت کی ہیں، اسے ایک روز تو لڑنا ہی تھا۔ وہ حیران کن جرا¿ت و بہادری سے لڑ رہا ہے۔ وہی فاتح ہو گا، گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments