81.5 F
Pakistan
Friday, July 17, 2026
HomeBreaking Newsجنگ ایسے نہیں رُکے گی

جنگ ایسے نہیں رُکے گی

جنگ ایسے نہیں رکے گی۔ مشرق وسطیٰ میں لڑی جانے والی اسرائیل اور امریکہ کی ایران سے جنگ کا مالک ٹرمپ یا نیتن یاہو نہیں ہے۔ یہ جنگ ہرگز کسی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں ہے نہ ہی یہ ٹرمپ کے غلط اندازوں کے نتیجے میں یا نیتن یاہو کی چغل خوری سے چھڑی ہے۔ حالیہ جنگ تاریخ کے ابواب میں پوشیدہ استعماری کارروائی اور نوآباد کاروں کی جارحیت سے بھی مختلف ہے۔ اس کا کینوس ان تمام جنگوں سے نہایت مختلف اور بڑا ہے۔ گزشتہ دنوں مذاکرات کے بعد اس جنگ کا دوبارہ شروع ہونا عین فطری تھا۔ ایک سادہ لوح شخص بھی بآسانی اس بات کی پیشین گوئی کر سکتا تھا۔یہ تہذیبوں کی جنگ ہونے کے ساتھ در اصل نظاموں کی جنگ ہے۔ اس جنگ کا فاتح کوئی ملک نہیں ہو گا بلکہ ایک طرز کی تہذیب اور ایک خاص نظام فاتح یا مفتوح کہلائیں گے۔ امریکہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے درو دیوار یا عوام کو گرانا مقصود نہیں ہے بلکہ اس نظام کو گرانا مقصود ہے جو دنیا کے عالمی مالیاتی نظام اور سیاسی ڈھانچے کے لیے خطرہ ہے۔ اس کی کوشش پہلے فسادات کی صورت میں کی گئی، دنیا میں کئی دہائیوں تک بد ترین پروپیگنڈا بھی اسی ضمن میں کیا گیا اور بعد ازاں ایک کے بعد دوسری جنگ۔ 2022 میں ایران میں شدید احتجاجی مظاہرے کرائے گئے۔ سیکڑوں افراد کو فسادات پر اکسایا گیا اور قتل کیا یا کرایا گیا۔ 2026 کے فسادات کرانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ان فسادات میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے۔ علاہ ازیں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش، کاروباری نقصانات اور دیگر معاشی و سماجی مسائل پیدا ہوئے۔ 46، 47 برس معاشی پابندیاں لگانے کے باوجود عالمی استعمار کو اس میدان میں کامیابی نہ مل سکی۔ جدید دور میں یہ معاشیات کی نظریات کے آگے سب سے بڑی شکست تھی۔ طاقت اور سرمائے کو دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ثابت کرنے والے نظریاتی حقیقت کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔ یہ جنگ اب شام، لبنان، فلسطین، یمن، عراق، نائیجریا اور بحرین سے بڑھ کر براہ راست ایران تک پہنچ گئی ہے۔ اب جنگ اس مرکز پر ہے جسے دہائیوں سے مزاحمت کا استعارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی دنیا بھی اتنی سادہ نہیں ہے جتنی بظاہر نظر آتی ہے۔ یہاں موجود امریکی اڈے، نیٹو کی معاونت سے چلنے والے مراکز حفاظت اور خیر خواہی کی نیت سے یقینا پیدا نہیں ہوئے۔ یہ خطہ اپنے مالیاتی سسٹم، سیاسی ساخت اور جغرافیائی اعتبار سے نہایت پیچیدہ ہے۔ صرف اس کے معاشی ماڈل کی طرف ہی توجہ کی جائے تو عالمی بینکاروں اور مالیاتی ادارہ ساز خاندانوں کا سراغ ملنے لگتا ہے۔ مثلاً صرف متحدہ عرب امارات میں ہی گوگل، مائیکروسافٹ، ایپل، سسکو، ایمازون، آئی بی ایم، اوبر اور کئی مالیاتی اور توانائی کی کمپنیوں کے اہم ترین اور بنیادی مراکز موجود ہیں۔ اسی طرح امریکی کلاو¿ڈ کمپیوٹنگ، ای کامرس، بینک، سیاحتی کمپنیاں اور توانائی کی بڑی بڑی کمپنیاں یہاں کا معاشی نظام چلاتی ہیں۔ دیگر عرب ممالک کی صورت بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ دنیا کی سیکریٹ ایلیٹ کو جانے والا پیٹرو ڈالر کا سرمایہ بھی اسی معاشی ڈھانچے کے سہارے چل رہا ہے جس کا منصوبہ ہمیں بیسویں صدی کے آخری میں تیار ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا میں طاقت کے توازن میں تین چار بڑے ویٹ اور بھی ہیں جو ترازو اوپر نیچے کر سکتے ہیں۔ ان میں چائنا اور روس سر فہرست ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ حیرت ہے کہ ان دونوں نے براہ راست اب تک اس جنگ میں ظہور نہیں فرمایا۔ میری رائے میں جلد یا بدیر ان ممالک کو براہ راست یہ جنگ لڑنا پڑے گی۔ یہ جنگ ہر اس ملک اور قوم کے حصے میں آئے گی جو کسی بھی سطح پر ایک خاص طرز کے عالمی مالیاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہو گا۔ایران امریکہ جنگ کے دوران پاکستان نے بھی موقع کی حساسیت کو بھانپتے ہوئے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس تناظر میں نہایت دانشمندی اور احتیاط سے کام لیا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم بھی اپنے سب سے بڑے دشمن کی اپنے ہمسائے میں در اندازی کو دیکھ رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا نفوذ خود پاکستان کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گا۔ تاریخ کے اہم اور فیصلہ کن موڑ کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ صورت حال روس کی افغانستان میں در اندازی سے کہیں زیادہ حساس اور خطرناک ہے۔ تاہم پاکستان کی ذمہ داری اس ساری صورتحال میں مزید بڑھ گئی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پوری دنیا نے پاکستان کی طاقت اور اس کی سیاسی و جغرافیائی اہمیت کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ سراہا بھی ہے۔ دوسری جانب اس جنگ نے پاکستان کے لیے بھی بڑے چیلنجز کھڑے کر دئیے ہیں۔ یہ بات بعید از قیاس ہے کہ صیہونی ایجنڈا بردار پاکستان میں متحرک نہیں ہوں گے یا اسرائیلی، بھارتی اور دیگر طاغوتی قوتوں کے ہرکارے پاکستان میں بد امنی کے فروغ، فسادات اور بد امنی پیدا کرنے میں مصروف نہیں ہوں گے۔ دنیا کی سیکریٹ ایلیٹ کے مہرے کم و بیش تمام خطوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ملک میں کسی بھی طرح کی دھڑے بندی اور بد امنی پھیلانے والے شخص یا گروہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی گروہ روایتی مسائل اور اختلافات کو بھی اس موڑ پر ہوا دے رہا ہے تو اس کے بیرونی وسائل تلاش کرنا ضروری ہیں۔ موجودہ صورت حال دنیا کے نظاموں کی بڑی جنگ ہے۔ ہمیں نہایت دانشمندی کے ساتھ استبداد سے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے صحیح سمت پر کھڑے رہنا ہے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments