تاریخ عجیب چیز ہے۔ یہ صرف ماضی کے قصے نہیں سناتی بلکہ حال کے چہروں سے نقاب بھی اٹھاتی ہے۔ بعض کردار مر جاتے ہیں، مگر ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں۔ میر جعفر بھی ایسا ہی ایک کردار ہے۔ وہ 1757 میں مر گیا، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی نسل ختم نہیں ہوئی، بلکہ وقت کے ساتھ زیادہ طاقتور، زیادہ مہذب اور زیادہ خطرناک ہو گئی ہے۔ ہم نے بچپن سے سنا کہ میر جعفر نے سراج الدولہ سے غداری کی، چند سکوں اور اقتدار کی خاطر اپنی قوم کو بیچ دیا، اور انگریزوں کو برصغیر کا مالک بنا دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا میر جعفر واقعی مر گیا تھایا پھر وہ آج بھی ہمارے درمیان زندہ ہے؟ ذرا غور کیجیے۔ آج کا میر جعفر سر پر پگڑی نہیں باندھتا، نہ وہ انگریزوں کے خیمے میں جا کر معاہدے کرتا ہے۔ وہ تھری پیس سوٹ پہنتا ہے، قومی مفاد کے بھاری بھرکم لیکچر دیتا ہے، حب الوطنی کے نعرے لگاتا ہے، اور کبھی کبھی تو قوم پرستی کا جھنڈا بھی سب سے اونچا اٹھائے دکھائی دیتا ہے۔ مگر جب ذاتی مفاد اور قومی مفاد آمنے سامنے آ جائیں تو وہ ہمیشہ اپنے مفاد کا انتخاب کرتا ہے۔ آج کا میر جعفر صرف سیاست دان نہیں، ایک ذہنیت کا نام ہے۔ وہ سرکاری دفتر میں فائل روک کر بیٹھا کلرک بھی ہو سکتا ہے، وہ ٹھیکے کے عوض اصول بیچنے والا افسر بھی ہو سکتا ہے، وہ ووٹ کو ضمیر کے بجائے قیمت سے تولنے والا نمائندہ بھی ہو سکتا ہے، اور وہ کاروباری شخصیت بھی جو اپنی تجوری بھرنے کے لئے پوری قوم کی جیب خالی کر دیتی ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ آج کا میر جعفر ہمیشہ اپنے عمل کے لئے خوبصورت الفاظ تلاش کر لیتا ہے۔ کرپشن کو مجبوری، اقربا پروری کو اعتماد، لوٹ مار کو بزنس اور قومی مفاد کے سودے کو مفاہمت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ الفاظ بدل جاتے ہیں مگر کردار وہی رہتا ہے۔ مذہب کے میدان میں بھی میر جعفر نے نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ اب وہ تلوار نہیں اٹھاتا بلکہ منبر اور مائیک استعمال کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو جوڑنے کے بجائے توڑتا ہے، اختلاف کو دشمنی میں بدلتا ہے اور مقدس نعروں کو ذاتی مفادات کی سیڑھی بنا لیتا ہے۔ اس کے لئے دین اصلاح کا ذریعہ نہیں بلکہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ معاشی میدان میں اس کا روپ اور بھی خطرناک ہے۔ وہ مصنوعی مہنگائی پیدا کرتا ہے، ذخیرہ اندوزی کرتا ہے، ٹیکس چوری کو ذہانت سمجھتا ہے اور پھر قوم کو معاشی حب الوطنی کے لیکچر دیتا ہے۔ عوام آٹے، چینی، بجلی اور روزگار کے لئے پریشان ہوتے ہیں جب کہ وہ اپنے منافع کی شرح کا حساب لگا رہا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کو ہمیشہ بیرونی دشمن تباہ نہیں کرتے، اکثر انہیں اندر کے میر جعفر کھوکھلا کرتے ہیں۔ بیرونی حملہ آور دروازے پر کھڑے رہتے ہیں، مگر دروازہ اندر سے کوئی اپنا ہی کھولتا ہے۔ پلاسی کے میدان میں انگریزوں کی تعداد ہزاروں میں تھی، مگر ان کی اصل طاقت میر جعفر تھا۔ آج بھی سوال دشمن کی طاقت کا نہیں، سوال یہ ہے کہ دروازہ کھولنے والے کتنے ہیں شاید اسی لئے اقبال نے کہا تھا جعفر از بنگال و صادق از دکنننگِ ملت، ننگِ دیں، ننگِ وطن آج اگر اقبال زندہ ہوتے تو شاید شعر میں چند نئے نام شامل کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، کیونکہ اب میر جعفر کسی ایک شخص کا نام نہیں رہا، یہ ایک رویہ، ایک سوچ اور ایک بیماری کا نام بن چکا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ میر جعفر کون تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب ہم آئینہ دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنے اردگرد کتنے میر جعفر نظر آتے ہیں، اور کہیں ایسا تو نہیں کہ ان میں سے ایک ہمارے اندر بھی چھپا بیٹھا ہو۔



