83.1 F
Pakistan
Sunday, July 12, 2026
HomeEntertainment1851ء میں پہلا کیمرہ ایجاد ہوا،جس میں کم روشنی کی ضرورت ہوتی...

1851ء میں پہلا کیمرہ ایجاد ہوا،جس میں کم روشنی کی ضرورت ہوتی تھی اور اس کیساتھ ہی چلتا پھرتا ڈارک روم بھی ہوتا تھا،یہ ایک ساکت کیمرہ ہوتا تھا

مصنف: محمد سعید جاویدقسط: 7یہ سلسلہ1850ء تک چلا۔ پھر 1851ء میں پہلا کیمرہ ایجاد ہوا،جس میں کم روشنی کی ضرورت ہوتی تھی اور اس کے ساتھ ہی چلتا پھرتا ڈارک روم بھی ہوتا تھا۔ جہاں فوٹو کو دھو سنوار کر پہلے نیگٹو اور پھر پازیٹو بنا لیا جاتا تھا۔ یہ ایک ساکت کیمرہ ہوتا تھا جس کے پیچھے موٹے کپڑے کا ایک ہْڈ ہوتا تھا جو ڈارک روم کا کام کرتا تھا۔ عام زبان میں اسے تین ٹانگوں والا کیمرہ بھی کہتے تھے۔ ایک مقررہ وقت کے لیے اس کے شٹر سے ڈھکن کو اٹھا کر روشنی کو اندر جانے کا موقع دیا جاتا اور پھر ڈھکن بند کرکے کیمرہ مین اس کے پیچھے جا کر اس پردے میں گھس کر اندر ہی اندر فلم نکالتا، وہیں اس کو دھو کر نیگٹو بناتا اور پازیٹو پرنٹ نکال کر پسینے سے شرابور اپنا سر باہر نکالتا اور صاحب تصویر کو نام نہاد گیلی گیلی تصویر تھما دیتا۔ اس کام کو کم از کم پندرہ منٹ تو لگتے ہوں گے۔ روشنی کے اونچ نیچ سے بسا اوقات تصویر کیا سے کیا بن جاتی تھی اور صاحب تصویر اسے اپنی تصویر ہی ماننے سے انکار کر دیتا۔ پْر لطف بات یہ ہے کہ گو اس کیمرے کو ایجاد ہوئے ڈیڑہ سو برس سے زائد ہو گئے ہیں لیکن یہ کیمرہ ابھی بھی پاکستان میں کہیں کہیں چھوٹے شہروں یا دیہاتوں کی چوک چوباروں پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کیمرے کے کرشمے میں نے اس وقت دیکھے تھے۔ جب یہ کیمرہ کراچی کیفٹ پاتھ پر جگہ جگہ کھڑانظر آتا تھا۔یہ ایسے ہی کیمرے کے بارے میں میری اس زمانے کی یادداشتیں ہیں جب میں سکول میں پڑھتا تھااور انہیں میں نے اپنی کتاب”اچھی گزر گئی“میں تحریر کیاہے: ”سکول سے تھوڑا سا آگے سڑک کے اس پار فٹ پاتھ پر ایک تصویر بنانے والے کا اڈہ تھا،جس کا تین ٹانگوں والا بڑا سا برقع پوش کیمرہ بیچ فٹ پاتھ کے کھڑا رہتا تھااور ہر آنے جانے والے کو اپنی تصویر بنوانے کی ترغیب دیتا تھا۔سامنے دیوار پر برف پوش پہاڑوں، گل پوش وادیوں اور خوبصورت درختوں کی تصویر والا ایک پردہ ٹنگا ہوا ہوتا تھا اور ساتھ ہی ایک بڑا سا کاغذی گْلدستہ،ایک لکڑی کی بندوق،گلے میں ڈالنے والی لکڑی کے بنے ہوئے جعلی کارتوسوں کی ایک پیٹی اور ایک پشاوری کْلّہ رکھا ہوتا تھا،جسے حسب فرمائش تصویر کو مزید پرکشش اور معنی خیز بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔فوٹوگرافر کسی شکار کے قابو آتے ہی اسے پکڑ کرکرسی پر بٹھاکر اس کی گردن دبوچ کر سیدھی کرتا اسے کچھ ضروری ہدایات دیتا جس میں سب سے اہم تو یہ ہوتی تھی کہ جب تک وہ نہ کہے اس نے ساکت رہنا ہے اور اس عمل کے دوران بالکل حرکت نہیں کرنی ہے، پھر وہ خود فوراً لپک کر کیمرے کے پچھلے دروازے سے اپنا سر اندر گھسیڑ کرسر پر سیاہ برقعہ اوڑھ لیتا اور کوئی پندرہ منٹ بعدپسینے میں شرابور ایک ”نام نہاد تصویر“‘ لیے باہر نکلتا۔اس دوران اس کا گاہک اسی طرح تن کر بیٹھا رہتا جس طرح اس کو شروع میں سمجھا دیا جاتاتھا۔وہ ہاتھ پیر اور آنکھیں بھی بڑی احتیاط سے ہلاتا تھامبادا تصویر خراب ہوجائے، حالانکہ اس کی تصویرتو کوئی 10 منٹ پہلے ہی کھنچ گئی ہوتی تھی۔جب بھیگی بھیگی سی تصویر اس کے ہاتھ میں تھمائی جاتی تو وہ کچھ دیر تک حیران اور پریشان سا ہو کر اْسے تکتا رہتا اور پھر وہ پہلا سوال یہی کرتاتھا کہ ”یارا اور تو سب کچھ ٹھیک ہے لیکن اس فوٹو میں خود میں کہاں ہوں؟“ اَب کیمرے والا لاکھ قسمیں کھا کھا کر اسے یقین دلاتا کہ ”غور سے دیکھو،یہ کْلے والا بھلا کون ہے، تم ہی تو ہو“۔بس ایسی ہی ہوتی تھی اس کی فوٹوگرافی،جسے دیکھ کر یہ احساس تو ہوتا تھا کہ وہاں یقیناً کوئی ذی روح ہے،مگرکون ہے؟ اسکا علم نہیں تھا۔اس مسئلے کو سلجھانے کے لیے اس کا ہر وقت کسی نہ کسی گاہک سے جھگڑا چلتا رہتا تھا،جس سے ہم بڑا محظوظ ہوتے تھے اور اسی کو دیکھنے جاتے تھے۔10میں سے شاید ایک آدھ فرد ہی اس کے کام سے سے مطمئن ہو کر جاتا تھا۔“(جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ سندھ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر طیبہ ظریف راولپنڈی ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر مقرر

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments