تین سال قبل ایران نے پاکستان پر ایک میزائل داغا۔ پاکستان نے جوابی میزائل وہیں داغا جہاں چاہیے تھا۔ پتا چلا کہ ایران میں وہ مرنے والے ”بلوچ مسنگ پرسنز“ تھے۔ وہ دہشت گرد جن سے بے شعور صحافی، احمق سیاستدان اور خود ساختہ دانشور بھنگڑا ڈال کر اظہار یکجہتی کیا کرتے تھے۔ جعفر ایکسپریس کوئٹہ یرغمال بنائی گئی تو ریاست نے کارروائی کی۔ 33 دہشت گرد مارے گئے۔ وصولی کے لیے لاشیں کوئٹہ میں رکھی گئیں۔ یا للعجب! پولیس مقابلے میں ہلاک دہشت گرد لانگو کی بیٹی ماہ رنگ بلوچ بھی حاضر تھی: ”بی بی لاشیں تو ورثا لے سکتے ہیں، آپ کون“؟ بولی ”یہ ہمارے مسنگ پرسن ہیں“ اسلام آباد میں ان دہشت گردوں سے اظہار یکجہتی والے صحافیوں اہل سیاست اور دانشوروں کا مقام اب آپ خود طے کریں۔ ان نادان دوستوں سے بی ایل اے کے دہشت گرد دشمن بھلے جن سے ہم لڑ سکتے ہیں لیکن ان سے نہیں۔۔ لاہور: پاکستان ٹیسٹ سکواڈ کا اعلان آج کیا جائے گا اب مجھے پھر وہی درجہ سوم سیاست دان شیخ مجیب الرحمن یاد آگیا۔ 28 ملک دشمن بنگالی افسران اور اس سرغنہ کے خلاف شواہد کے ساتھ مقدمہ چلا تو غنڈوں نے جج پر حملہ کر دیا۔ ایک وزیر کے گھر دھاوا بولا گیا۔ یہ ایک عام سا فوجداری مقدمہ تھا جس میں شیخ مجیب کی قیادت میں بنگالی افسران بھارت سے مل کر ملک توڑنا چاہتے تھے۔ لیکن بنگالی چھوڑیں مغربی پاکستان کے نادان سیاست دانوں نے اس “سیاستدان” کو رہا کروایا، اسے ملکی اور پھر عالمی رہنما بنایا اور ملک ٹوٹ گیا۔ ملزمان اگرتلہ سے اظہار یکجہتی کرنے والے ان نادان معززین کو بھی ملک توڑنے والوں کا ساتھی کیوں قرار نہ دیا جائے؟ آیت اللّٰہ خامنہ ای کے جنازے پر ایرانیوں کو روتا دیکھ کر حیرت ہوئی: ڈونلڈ ٹرمپ تقسیم ہند پر کشمیری راجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو عوام نے بغاوت کر کے کچھ علاقے آزاد کرا لیے۔ بھارت یہ مسئلہ اقوام متحدہ لے گیا۔ وہاں طے ہوا کہ رائے شماری ہو گی تاکہ کشمیری پاکستان یا بھارت کے حق میں رائے دیں۔ بھارت مکر گیا۔ عالمی سطح کے اس دہکتے الاؤ پر بھارت نے مزید تیل یوں ڈالا کہ مقبوضہ حصہ بھارت میں ضم کرکے آزاد کشمیر پر بھی دعوی کر دیا۔ وہاں سے فوج نکالنے کا مطالبہ بھی کیا۔ کیا پھر وہ خاموش بیٹھ گیا؟ مطالعے سے دور اور گلیوں سڑکوں کے سیاست دان، صحافی اور دانشور کیا جانیں: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا ،لاکھوں سوگواروں کی شرکت قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے؟ اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام. پھر بھارت نے سوشل میڈیا, متکبر تارکین وطن اور سرمائے کے بل پر چھ سال خوب کام کیا۔ لوہا گرم ہو گیا تو متکبر کشمیری تارکین وطن کے توسط سے چند تاجروں سے معصوم سے مطالبات کرائے جو مان لیے گئے تو تاجروں نے مسئلہ کشمیر کی بنیاد پر یہ ضرب لگائی: ”اسمبلی سے مہاجرین کی نشستیں ختم کی جائیں“۔ پھر اس ٹولے نے انوکھا مطالبہ کیا: ”آزاد کشمیر سے پاکستان فوج نکالے. بھارت سے ہم نمٹ لیں گے“۔ پھر کشمیر بند کر کے راولاکوٹ میں خونی دھرنا دیا گیا۔ چار بیگناہ پولیس اہلکار مار دیے گئے۔ ملٹری ہسپتال پر حملہ کیا گیا۔ آئی جی پولیس کے بقول ایک زخمی کا سینہ چیر کر مثلہ کیا گیا، میت پر کھڑے ہو کر وحشیانہ رقص کیا گیا۔ یہ پولیس اہلکار بھی کشمیری تھے لیکن کسی سیاستدان، صحافی یا دانشور نے لواحقین سے اظہار ہمدردی تک نہیں کیا۔ مراکش کی ٹیم کینیڈا کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پہنچ گئی سیاست و ریاست کا فرق مٹانے والے ملک کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ الحمدللہ کسی کشمیری رہنما نے فسادیوں کی تائید نہیں کی۔ سردار عتیق نے تو یہ تک کہہ دیا کہ کٹھمنڈو سے برازیل تک کسی ملک میں فوج اور ریاست کے خلاف دشمن کی بولی بولنے پر جو نرم ترین سزا ہو بھلے وہی دے دو، لیکن انہیں ہرگز نہ چھوڑا جائے۔ ریاست و سیاست کا فرق مٹا کر فسادیوں کے ہمدرد یہ تو سوچ لیتے کہ عام سے تاجروں کی گرفتاری پر ایک ایک کروڑ روپے کا اتنا بڑا انعام آخر کیوں ہے جو ٹی ٹی پی اور داعش رہنماؤں کے لیے ہوتا ہے۔ پردے کے پیچھے آخر کوئی تو ہے، کون؟ وہی جو مجرمین اگرتلہ کے پیچھے تھا۔ وہی جو ایران سے ملے مرداروں کی نسبت سے ہے۔ وہی جو جعفر ایکسپریس کے “مسنگ پرسن” سے متعلق ہے۔ یہ سوچ کر سیاست کریں کہ ریاست ہے تو سیاست ہوگی۔ امریکا ایران جنگ بندی ہوچکی، اب ضروری ہےکہ امن کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں: وزیراعظم کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل نکتہ ہے۔ رائے شماری ہونے پر اہل کشمیر کو پاکستان یا بھارت کے لیے رائے دہی کا حق ہوگا۔ خود مختار کشمیر کا بھارتی نعرہ اس قضیے میں تو ہے ہی نہیں جسے نہ کبھی مقبوضہ کشمیر نے مانا، نہ آزاد کشمیر نے۔ بھارتی فنکاری سے آج اسے کچھ پذیرائی ملی ہے تو یہ پرکاہ جیسا نہیں ہے۔ کٹھ پتلیاں پردے کے پیچھے مداری کے اشارے پر دلفریب رقص کرتی ہیں۔ تماشائی سمجھتے ہیں کہ وہ خود حرکت کرتی ہیں۔ انہی پتلیوں نے گنگا جہاز اغوا کر کے مشرقی اور مغربی پاکستان کے مابین فضائی ٹریفک بند کرائی تھی۔ یوں ہمارا مشرقی حصہ عملاً مغربی پاکستان سے جدا ہو کر رہ گیا تھا۔ تمام کشمیری سید علی گیلانی کی قیادت میں بیک آواز ہو کر عشروں سے نعرہ زن ہیں: ”ہم ہیں پاکستانی، پاکستان ہمارا ہے“ رہا اکا دکا پتلی تماشہ تو مداری سے گزارش ہے کہ ہمارے بچے مت ورغلاؤ، کھل کر کہو کہ تم کیا کہلوانا چاہتے ہو۔ یہ بتا دو گے تو دونوں کشمیروں میں دسیوں ہزار شہداء کے باغیرت لواحقین میں سے کوئی ایک بھی تمہیں قبر کی جگہ نہیں دے گا۔ بلوچستان حکومت کا شاہراہوں کی سکیورٹی کیلئے نئی فورس کے قیام کا فیصلہ مثلہ کرکے پولیس اہلکار شہید کرنے والے، ملٹری ہسپتال پر حملہ آور اور ”کشمیر سے فوج نکالو“ کا بھارتی نعرہ لگانے والے کسی رعایت کے لائق نہیں. انہیں نہ پہچاننے والے خود کو اہل سیاست و صحافت یا اہل دانش کہیں تو ان کی عقل پر تف ہے۔ کیا یہ لوگ اپنی اولاد کے بارے میں بتا سکتے ہیں کہ موبائل اٹھائے اس کے نادیدہ روابط کہاں کہاں ہیں؟ اور ماں کا رونا یوں ہوتا ہے”نہ جی، میرا بیٹا تو سات پانیوں میں دھلا پوتر بیٹا ہے“. .. .. . لیکن فکر نہ کریں, ہر باشعور کشمیری کا کہنا ہے کہ فسادیوں کے خلاف قانون کو اپنا راستہ بنانے دیا جائے۔ تاہم میری گزارش یہ ہے کہ سیاست، صحافت اور دانش میں بکھری فسادیوں کی ”ماؤں“ کو بند کمرے میں اولاد کے کرتوت دکھائے بتائے جائیں۔ ماؤں کو “اولاد” سے سوال جواب کا موقع دیا جائے۔ تب شاید ان کی مائیں کچھ سمجھ سکیں۔ یہ فسادی کسی رعایت کے لائق نہیں ہیں۔ سردار عتیق نے کیا خوب کہا ہے کہ کٹھمنڈو سے برازیل تک کے کسی ملک میں غدار کی جو نرم ترین سزا ہے، بے شک وہی دے دی جائے لیکن انہیں چھوڑا ہرگز نہ جائے۔



