حضرت بیخود کا رنگ دوسرا تھا۔ گھنے پھندنے کی ترکی ٹوپی، جاڑے میں روئی کا فرغل، گرمیوں میں ٹخنوں سے نیچی اچکن، سیدھا پاجامہ اور بوٹ یا پمپ پہنتے تھے۔ شگفتہ مزاج اور باتونی اتنے کہ مبالغہ آرائی میں بھی باک نہیں تھا۔ ان کی غزل بڑی مرصع اور مضمون آفریں ہوتی تھی۔ پڑھنے کا



