76.8 F
Pakistan
Friday, July 3, 2026
HomeLifestyleکری سے فرار، نند کشور وکرم کی المناک یاداشتیں

کری سے فرار، نند کشور وکرم کی المناک یاداشتیں

اسلام آباد کا قدیم گاؤں جسے آج ’کری‘ کہا جاتا ہے، تقسیم سے پہلے کری شہر کے نام سے موسوم تھا۔ اس کے ساتھ شہر کا لاحقہ برسوں سے کیوں استعمال ہوتا آ رہا ہے؟ یہ تو کوئی نہیں جانتا تاہم یہاں پر ایک قدیم مسجد موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے شیر شاہ سوری نے بنوایا تھا۔ گویا اس مسجد سے ہی قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کری شہر تقریباً پانچ سو سال پرانا ضرور ہے۔ تاہم ایک ہندو روایت بھی کری سے منسلک ہے جو اس کی تاریخ کو ہزاروں سال پیچھے لے جاتی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ سملی دیوی جس سے محبت کے ایک داستان منسوب ہے، اس کے باپ کا پایۂ تخت مورگاہ راولپنڈی کے مقام پر تھا وہ اپنی نانی کوری کے پاس گئی ہوئی تھی کہ اسے کشمیر سے شکار کی غرض سے آئے ایک شہزادے سے عشق ہو جاتا ہے۔ اس عشق کا انجام وہی ہوا جو فلموں میں ہوتا ہے۔ سملی دیوی نے جب خودکشی کر لی تو اس کی یاد میں ٹوپی رکھ میں ایک سٹوپا بنایا گیا۔ یوں ٹوپ سے بنتا بگڑتا یہ نام ٹوپی رکھ مشہور ہو گیا جہاں آج کل ایوب پارک، راولپنڈی ہے۔ اسلام آباد کا سملی گاؤں اسی سملی دیوی کے نام پر ہے جہاں سملی ڈیم سے شہر کو پانی کی فراہمی ہوتی ہے۔ جبکہ کری گاؤں سملی کی نانی رانی کوری کے نام پر ہے۔ اس کوری گاؤں کے ارد گرد سی ڈی اے اور ڈی ایچ اے مل کر ایک ہاؤسنگ سکیم بنا رہے ہیں۔ یہاں کبھی ایک عالی شان مندر ہوا کرتا تھا جس کے ساتھ بارہ دری، کنواں اور ایک باغ بھی تھا۔ تقسیم کے فسادات میں مندر کا پورا کمپلیکس تو جلا کر راکھ کر دیا گیا لیکن بارہ دری بچ گئی جو اب زبوں حالی کا شکار ہے۔ تقسیم کے وقت یہاں سے ہندو سکھ بے دخل ہی نہیں ہوئے تھے بلکہ کئی ایک کو زندہ آگ میں جھونک دیا گیا تھا۔ کری ویلج میں واقع قدیم مسجد (تصویر: سجاد اظہر) اس حوالے سے ایک اہم گواہی نند کشور وکرم کی ہے جو 17 ستمبر 1929 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے اُردو اور فارسی میں ایم اے اور ادیب فاضل کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد وہ انڈیا کی وزارتِ اطلاعات سے منسلک ہو گئے۔ انہوں نے متعدد کتب تصنیف کیں وہ کئی رسائل و اخبارات سے بھی وابستہ رہے۔ ان کی ایک کتاب ’انیسواں اودھیائے‘2001 میں شائع ہوئی تھی جسے انہوں نے تجزیاتی ناول کا نام دیا۔ یہ دراصل ان کی زندگی کے اہم واقعات پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے راولپنڈی اور کری شہر میں تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات کا ذکر کیا ہے۔ وہ 90 سال کی عمر میں 27 اگست 2019 کو نئی دہلی میں انتقال کر گئے۔ کری تقسیم سے پہلے کیسا تھا؟ نند کشور وکرم ضلعی انتظامیہ راولپنڈی میں کام کرتے تھے۔ ان کی تعلیم راولپنڈی کے سناتن دھرم ہائی سکول، کری، گوجر خان اور کہوٹہ کے سکولوں میں ہوئی۔ اس لیے مرتے دم تک انہیں راولپنڈی سے خاصا انس رہا جس کا ذکر وہ اپنی تحریروں میں جا بجا کرتے نظر آتے ہیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وہ کہتے ہیں کہ راولپنڈی کی وہ گلی جہاں میرا بچپن گزرا ہے مجھے آج بھی تمام گلیوں سے زیادہ عزیز ہے۔ کری میں ان کا ننھیال کا مکان تھا اس لیے یہاں ان کا نہ صرف آنا جانا تھا بلکہ جب ان کی امی بیمار ہوئیں تو کچھ عرصہ وہ کری کے سکول میں بھی پڑھے۔ وہ لکھتے ہیں: ’یہ گاؤں جو کری شہر سے موسوم ہے راولپنڈی سے کوئی آٹھ میل کی دوری پر واقع ہے۔ یہاں سے دن کے وقت مری کی برف پوش پہاڑیاں بڑا دلکش منظر پیش کرتی ہیں اور جب ان پر دھوپ پڑتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ پہاڑیاں پتھر کی نہیں بلکہ چاندی کی بنی ہوئی ہیں۔ میں بچپن میں ان سیمیں پہاڑیوں کو پہروں دیکھنے میں مگن رہتا تھا۔۔۔۔۔ گو یہ میرا آبائی گاؤں نہیں تھا میرا ننھیال تھا تاہم میں اکثر اپنی ماں کے ساتھ یہاں آیا کرتا تھا اور کئی کئی مہینے یہاں رہا کرتا تھا۔ ہمارا ننھیال کا گھر کوری بازار کی بالائی گلی میں تھا جس کا نظارہ ہم مری جا کر بھی اپنے گھر کی بالکونی سے کر سکتے تھے۔۔۔۔اس قصبے کو گردو نواح کے گاؤں والے ’کری شہر‘ کے نام سے موسوم کرتے تھے حالانکہ وہاں شہر والی کوئی بات نہ تھی۔ بس ایک چھوٹا سا بازار تھا جہاں لوگ اپنی ضرورت کی اشیا خریدنے آیا کرتے تھے اور بڑی رونق رہتی تھی۔ اکثر سکول کے پاس کے کھلے میدان میں کھیل تماشے، دنگل اور سوانگ وغیرہ ہوتے رہتے تھے جنہیں ہم لوگ بڑے ذوق شوق سے دیکھا کرتے تھے۔‘ جب لال خان نے میری نانی کو کہا ’ماتا جی! اپنا انتظام کر لو‘ نند کشور وکرم فسادات کے وقت میٹرک کے امتحانات کی وجہ سے چھٹیوں پر تھے۔ راولپنڈی ضلع میں یہ فسادات 6 مارچ 1947 کو ہی شروع ہو گئے تھے۔ انہوں نے راولپنڈی شہر اور کری گاؤں میں جو کچھ ہوا اسے رقم کیا ہے کیونکہ اس کے چشم دید گواہ وہ خود ہیں یا پھر ان کے خاندان کے افراد ہیں جو ان فسادات کا براہِ راست نشانہ بنے۔ وہ لکھتے ہیں: ’مارچ 1947 کے فسادات میں یہ گاؤں جل کر خاکستر ہو گیا۔ ہندوؤں اور سکھوں کی آبادی یا تو یہاں سے بھاگ گئی یا بلوائیوں کے سفاک ہاتھوں سے لقمۂ اجل بن گئی۔ ایک دن ہمارے قریبی موضع موریاں کے ایک مسلمان لال خان نے جو ہماری گائیں چراتا تھا آکر میری نانی کو بڑی آہستہ آواز میں آنے والے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا: ’ماتا جی! اپنا انتظام کر لو اور اگر ہو سکے تو اپنا قیمتی سامان کسی محفوظ مقام پر پہنچا دیجئے۔‘ نند کشور وکرم 2019ء میں پاکستان آئے تو وہ راولپنڈی اسلام آباد بھی آ ئے، اس موقع پر وہ راولپنڈی اسلام آباد کے شاعروں عائشہ مسعود ملک، نصیر احمد ناصر، محبوب ظفر، جلیل عالیاور ڈاکٹر جنید آذر کے ہمراہ (تصویر: فیس بک پیج آنند کشور وکرم) لال خان کے انتباہ کے بعد نانی کی نیند حرام ہو جاتی ہے اور وہ جلد از جلد گاؤں آنے کا پیغام بھیجتی ہے اس وقت میری عمر کوئی سولہ سترہ برس کی تھی۔ پیغام ملنے کے کچھ دنوں کے بعد میں کوری گاؤں آتا ہوں تاکہ سامان پنڈی لایا جا سکے مگر سامان لے جانا کون سا آسان کام تھا اور پھر برسوں سے اکٹھا کیے گئے سامان میں سے کیا لایا جائے اور کیا چھوڑا جائے، اس کا فیصلہ بھی انتہائی مشکل کام تھا۔ آخر کچھ قیمتی سازو سامان تین چار ٹرنکوں میں بھر کر اور دو گدھوں پر لاد کر میں گدے والے کے ہمراہ منہ اندھیرے ہی گھر سے نکل کھڑا ہوتا ہوں اور سورج نکلنے سے پہلے ہی بندرالی کا علاقہ پار کر جاتا ہوں جسے ان دنوں بہت خطرناک خیال کیا جاتا تھا۔ ’گاؤں پنڈوریاں کے قریب پہنچتے ہی اچانک کورنگ ندی کی جانب سے ہاتھ میں ایک بڑی سی لاٹھی اٹھائے ایک لمبا تڑنگا مسلمان جاٹ آتا ہوا نظر آتا ہے جسے دیکھ کر میں سہم جاتا ہوں جیسے وہ مجھ سے میرا سامان چھین لے گا۔ پاس آ کر وہ رک جاتا ہے اور استفسارانہ لہجے میں گدھے والے سے پوچھتا ہے۔ ’کہاں لے جا رہے ہو؟‘ ’ان کے گھر کا سامان ہے‘۔ گدھے والا جواب دیتا ہے۔ تب وہ میری طرف منہ کر کے مخاطب ہوتا ہے۔’کیا گاؤں چھوڑ کر شہر بھاگ رہے ہو؟‘ ’نہیں‘ میں جواب دیتا ہوں ۔’میں شہر میں ہی رہتا ہوں اور وہیں دسویں میں پڑھتا ہوں۔ گھر سے کچھ ضرورت کا سامان لے کر جا رہا ہوں۔ لیکن جاٹ کے چہرے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی میری بات سے تشفی نہیں ہوئی اور وہ سمجھتا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔ تاہم وہ زیادہ بحث نہیں کرتا اور آگے بڑھ جاتا ہے اور میری جان میں جان آتی ہے۔ ان دنوں گاؤں میں نانی میری نو دس سال کی بہن سنتوش کے ساتھ اکیلی رہتی تھیں اور انہیں سوجھ نہیں رہا تھا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وہ کیا کریں اور کدھر جائیں۔ ایسے میں ماموں صاحب کے دوست میاں سید میر نے جو ہماری ہی دکانوں میں سے ایک کرائے پر لے کر دکان داری کرتے تھے آ کر نانی کو خطرے سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی قیمتی سامان یا زیور وغیرہ ہوں تو وہ انہیں حفاظت سے رکھنے کے لیے دے دیں۔ لیکن اس خوف و دہشت کے ماحول میں انہیں میاں سید میر کی پیشکش میں بھی شک و شبہ کی بو آئی اور انہوں نے ان کی پیشکش ٹھکرا دی۔ جب رات کو بلوائیوں نے آگ زنی اور قتل وغارت کا سلسلہ شروع کیا تو نانی میری کمسن بہن کے ساتھ اپنے پڑوسی وجے سنگھ کے گھر چلی گئیں۔ ’چلنے سے پیشتر انہوں نے ملحقہ گھر میں ہی رہ رہی ایک دور کی رشتہ دار خاتون جسے ہم سبھی ’مامی بھوپی‘ کہتے تھے، چلنے کے لیے کہا۔ مگر اس نے گھر چھوڑنے سے صاف انکار ہی نہیں کیا بلکہ غصے سے کہا ’تم نانی اور دوہتی کو ہی سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ تم ہی چلی جاؤ، میں نہیں جاتی، میں تو یہیں رہوں گی۔۔۔۔ اور بعد میں جب بلوائیوں نے مکان کو آگ لگائی تو سنا ہے کہ وہ چھت پر کھڑی ہو کر انہیں گالیاں دینے لگی جس پر انہوں نے اسے اٹھا کر جلتی آگ میں ڈال دیا۔‘ کری سے راولپنڈی تین دن کا ہولناک سفر ’نانی اور وجے سنگھ کے کنبے نے چھپ چھپا کر براستہ ترلائی راولپنڈی جانے کا پروگرام بنایا مگر ابھی وہ چھپتے چھپاتے بمشکل کوئی آدھے میل کی دوری پر واقع بارہ دری کے قریب پہنچے تھے کہ بلوائیوں نے ان پر حملہ کر دیا جس سے وجے سنگھ کی بارہ سال کی بچی موقع پر ہی ختم ہو گئی اور باقی لوگ زخمی ہوئے۔ نانی کے سر اور ہاتھ پر شدید چوٹیں آئیں۔ اس کے بعد بلوائی جب انہیں مار پیٹ کر چلے گئے تو وہ ترلائی جانے کی بجائے بندرالی کی طرف چل پڑے۔ ’اس وقت وجے سنگھ نے اپنی بیٹی پشپا کی لاش اپنے کندھے پر اٹھائی ہوئی تھی اور وہ سب زخمی حالت میں آہستہ آہستہ گرتے پڑتے کہیں پناہ کی تلاش میں آگے کی جانب بڑھ رہے تھے لیکن ابھی انہوں نے کوئی آدھے میل کی مسافت ہی طے کی تھی کہ انہیں سامنے سے دس بارہ بلوائی آتے ہوئے دکھائی دیے جو لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے لیس تھے اور لوٹ مار کے ارادے سے کہیں جا رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر وہ گھبرا سے گئے اور انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کا آخری وقت آہی گیا ہے مگر بلوائیوں کو ایسا محسوس ہوا جیس انہیں کوئی کھویا ہوا خزانہ مل گیا ہو لہذا ان میں سے ایک نے انہیں دور ہی سے لکارتے ہوئے کہا۔ ’ارے کہاں سے آ رہے ہو؟‘ سب سہم سے گئے ان سے کوئی جواب بن نہ پایا تب ایک بلوائی نے بڑی اونچی آواز میں کہا ۔’ختم کرو کافروں کو۔‘ خوف سے سب کے دل کی دھڑکن رک سی گئی اور وہ تھر تھر کانپنے لگے۔ تب ہی وجے سنگھ نے اپنے کاندھوں پر اٹھائی ہوئی اپنی بیٹی کی لاش دکھاتے ہوئے کہا: ’بھائی صاحب ہم تو پہلے ہی مارے ہوئے ہیں ہم پر رحم کرو، یہ دیکھو میری بیٹی کی لاش۔۔۔‘ لاش دیکھ کر ان بلوائیوں کی انسانیت جاگ اٹھی اور ان کا دل پسیج سا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ انہیں بغیر کچھ کہے سنے ان کے حال پر چھوڑ کر لوٹ مار کی غرض سے آگے بڑھ گئے۔ بلوائیوں کے جانے کے بعد وہ قریب کے گاؤں چک شاہ داد پہنچے جہاں انہیں ایک واقف کار برہمن کسان نے اپنی کوٹھڑی میں پناہ دی جو گاؤں سے باہر بالکل الگ تھلگ سی تھی اور جہاں وہ مویشی باندھتا تھا۔ وہ اس بد بودار اور تاریک کوٹھڑی میں دو تین دن تک بھوکے پیاسے چھپے رہے اور موت کے سائے ان کے سروں پر منڈلاتے رہے۔ تیسرے دن ملٹری کے جوان ٹرک لے کر گردونواح کے ہندو سکھوں کو نکالنے کے لیے وہاں آ پہنچے۔ انہیں دیکھ کر سب کی جان میں جان آئی۔ انہوں نے گاؤں کے تمام تباہ برباد افراد کو ٹرکوں میں بٹھا کر پنڈی میں بے خانماں لوگوں کی امداد و پناہ کے لیے قائم کردہ کیمپ میں پہنچا دیا۔‘ نند کشور وکرم کے ماموں جو خود بھی آزادی کی تحریک کے ایک رہنما تھے وہ جب اپنی ماں اور بھانجی کو جا کر اس کیمپ سے وصول کرتے ہیں تو ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں ان کی بھانجی شدید صدمے میں اور سہمی ہوئی تھی ایسے لگتا تھا کہ وہ برسوں کسی بیگار کیمپ سے نکل کر برآمد ہوئی ہوں۔ اگست میں پاکستان بن جاتا ہے مگر نند کشور وکرم کا خاندان اکتوبر میں ہی ہندوستان جانے میں کامیاب ہوتا ہے کیونکہ دونوں طرف سے آنے والی ٹرینیں لاشوں سے اٹی پڑی ہیں اس لیے حالات کے بہتر ہونے تک ان کا خاندان جانے کا رسک نہیں لیتا۔ انڈیا کے نامور نغمہ نگار اور شاعر آنند بخشی جو راولپنڈی میں پیدا ہوئے ان کے والدین کا تعلق بھی کری سے ہی تھا ان کے والد سگھر مل وید بخشی پولیس میں افسر تھے۔ راولپنڈی کے محلہ وارث خان سے کری روڈ شروع ہوتا ہے جو صادق آباد محلہ سے ہوتا ہوا اسلام آباد ایکسپریس وے کو کراس کرتا ہوا دس کلومیٹر بعد کری پہنچتا ہے۔ یہ تاریخی گاؤں اب اسلام آباد میں ہے جس کے اردگرد جدید ترین ہاؤسنگ سکیمیں بن چکی ہیں۔ اس قدیم گاؤں کے مکینوں کو گلہ ہے کہ انہیں ان کی آبائی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا۔ 78 سال پہلے بھی یہاں سے ایک خونچکاں نقل مکانی ہوئی تھی جس کے دھبے ان کے اباؤاجداد کے لباس پر ہیں۔ اسلام آباد راولپنڈی ہندو تقسیم ہند گاؤں انڈیا کے نامور نغمہ نگار اور شاعر آنند بخشی جو راولپنڈی میں پیدا ہوئے ان کے والدین کا تعلق بھی کری سے ہی تھا ان کے والد سگھر مل وید بخشی پولیس میں افسر تھے۔ سجاد اظہر جمعہ, جولائی 3, 2026 – 08: 00 Main image:

کری گاؤں میں تاریخی بارہ دری جو شکست و ریخت کا شکار ہے، کبھی اس کے ساتھ ایک وسیع مندر کمپلیکس اور باغ تھا جسے تقسیم کے وقت آگ لگا دی گئی تھی (تصویر: سجاد اظہر)

تاریخ type: news related nodes: کیا خانپور کا گاؤں گرم تھون، سینٹ ٹامس کے نام پر ہے؟ راولپنڈی کے وہ پانچ گھر جہاں قائد اعظم نے قیام کیا راولپنڈی کا کچہری چوک جو اب ’معرکۂ حق سکوائر‘ بن چکا ہے اسلام آباد میں پانی کا بحران، کیا دارالحکومت منتقل کرنا پڑے گا؟ SEO Title: کری سے فرار، نند کشور وکرم کی المناک یاداشتیں copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments