جب بھی ہم انڈا توڑتے ہیں تو اکثر زردی کے ساتھ ایک سفید رنگ کا لچکدار تار یا دھاگے جیسی چیز لٹکی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے لوگ اسے دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے خون کی رگ سمجھتے ہیں، کچھ کا خیال ہوتا ہے کہ انڈا خراب ہو چکا ہے اور کچھ لوگ تو اسے جراثیم یا گندگی سمجھ کر پورا انڈا ہی پھینک دیتے ہیں۔ لیکن سائنس اور ماہرین صحت کے مطابق، یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ انڈے کے اندر نظر آنے والی یہ سفید تار نہ صرف صحت کے لیے بالکل محفوظ ہے بلکہ یہ انڈے کے تازہ ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ اس سفید دھاگے کو سائنسی زبان میں ’کلازا‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ہر انڈے کے اندر قدرتی طور پر بنتی ہے اور اس کا ایک اہم کام ہوتا ہے۔ یہ کوئی گندگی یا بیماری نہیں ہے بلکہ یہ اسی پروٹین سے بنا ہوتا ہے جس سے انڈے کی باقی سفیدی بنتی ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ یہ پروٹین بہت زیادہ گاڑھا اور آپس میں جڑا ہوا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک رسّی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ قدرت نے ہر انڈے کے اندر ایسے دو دھاگے رکھے ہوتے ہیں جو زردی کو دونوں طرف سے جکڑ کر رکھتے ہیں۔ اس سفید تار کا کام انڈے کے اندر بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ زردی کو انڈے کے بالکل بیچ میں سنبھال کر رکھتا ہے تاکہ وہ ہلنے جلنے پر انڈے کے چھلکے سے ٹکرا کر ٹوٹ نہ جائے۔ یہ بالکل ایسے ہی کام کرتا ہے جیسے کسی جھولے کو دونوں طرف سے رسیوں سے باندھ دیا جائے تاکہ وہ اپنی جگہ قائم رہے۔ جب تک انڈا دکانوں پر یا سفر کے دوران ہلتا جلتا ہے، یہ دھاگہ زردی کو محفوظ رکھتا ہے۔ یہ سو فیصد کھانے کے قابل ہے اور اس میں وہی غذائیت ہوتی ہے جو انڈے کی سفیدی میں پائی جاتی ہے۔ اس کا انڈے کے ذائقے پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور پکنے کے بعد یہ عام سفیدی کے اندر ہی گھل مل جاتا ہے، جس کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سفید تار جتنا زیادہ موٹا اور واضح نظر آئے گا، انڈا اتنا ہی زیادہ تازہ ہوگا۔ جیسے جیسے انڈا پرانا ہوتا جاتا ہے، اس کی سفیدی پتلی ہونے لگتی ہے اور یہ سفید تار بھی کمزور ہو کر غائب ہو جاتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کو انڈے میں یہ تار نظر آئے تو خوش ہو جائیں کہ آپ کا انڈا بالکل تازہ ہے۔ اگر پھر بھی کسی کو اسے دیکھ کر اچھا نہ لگے، تو وہ انڈا پکانے سے پہلے چمچ یا کانٹے کی مدد سے اسے آسانی سے نکال سکتا ہے، لیکن صحت کے لحاظ سے اسے نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ صحت کے لیے کسی بھی طرح نقصان دہ نہیں۔
انڈے میں موجود سفید تار صحت کے لیے مفید ہے یا نقصان دہ؟
RELATED ARTICLES



