84.1 F
Pakistan
Tuesday, June 30, 2026
HomeBreaking Newsکربلا والوں کا غم

کربلا والوں کا غم

آج محرم الحرام کا چودھواں دن ہے۔ تاریخ عالم میں یہ مہینہ شہدائے کربلا سے منسوب ہو چکا۔ اسی مناسبت سے ہر شخص اپنی اپنی بساط کے مطابق کربلا والوں کا غم مناتا ہے۔ محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی جہاں تمام مکاتب فکر واقعہ کربلا کے حوالے سے مجالس اور محافل کا انعقاد کرتے ہیں وہیں شعر و سخن سے وابستہ حلقے بھی مسالمے منعقد کرتے ہیں جن میں شعرا کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے اور سیدنا امام حسینؓ، ان کے خانوادے اور رفقا کی عظیم شہادت کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی بہت سی محافل مسالمہ ہوئیں اور ان کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ہم خود بھی ایسی محافل کی کئی بار میزبانی کر چکے ہیں لیکن اس بار کچھ نجی نوعیت کی مصروفیات کے باعث کسی محفل مسالمہ میں بھی شرکت نہ ہو سکی جبکہ دل بہت بے قرار رہا کہ کہیں نہ کہیں اپنی حاضری لگوائی جائے اور شہدائے کربلا کو نذرانہ عقیدت پیش کیا جائے۔ سو مسالمے میں عدم شرکت کے سبب بہتر یہی سمجھا کہ اپنا کلام اپنے کالم کے ذریعے ہی قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ جس روز اس کالم کی باری تھی اس روز یومِ عاشور کے باعث اخبار کی چھٹی تھی سو یہ بروقت آپ تک نہ پہنچ سکا۔ خیر اب بھی دیر نہیں ہوئی اور غمِ حسین کا سلسلہ تو جاری ہے۔حسینیت بلا شبہ مزاحمت کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ ایک ایسا استعارہ جس پر کسی کا اختلاف نہیں۔ مزاحمت کرنے والے اس استعارے کو اپنا کر اپنی جدوجہد کو جواز فراہم کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا نے یقینا تمام عالم پر اپنے گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے پر لکھا بھی بہت گیا ہے اور آج بھی لکھا جا رہا ہے۔ نثر ہو یا شاعری ہر دو اصناف میں طبع آزمائی کرنے والے واقعہ کربلا کو یاد کرنے میں اپنا حصہ ضرور ڈالتے ہیں۔ شاعروں نے اس واقعے پر بہت لکھا ہے اور حسینیت کے استعارے کو بہت خوبی سے استعمال کیا ہے بلکہ بعض شعرا نے تو لکھا ہی صرف اس ایک واقعے پر ہے اور یہی لکھا ہوا رہتی دنیا تک ان کی پہچان بن گیا۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے بھی زندگی میں امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں دو اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں ایک کلام لکھنے کی سعادت حاصل ہو چکی ہے۔ سو یہ تمام کلام آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ پہلے کلام کا عنوان ہے “سلام”، ملاحظہ فرمائیں: ہزاروں لاکھوں سلام تم پر امام عالی مقام تم پرسلام بھیجے زمانہ ساراطلوع سے تابہ شام تم پر فدا ہمارے ہیں جان و دل بھیاے سبطِ خیرالانعام تم پرنثار اپنی سبھی عبادت رکوع، سجدہ، قیام تم پرازل کے دن سے کھڑا ہوا ہےصداقتوں کا نظام تم پر کتاب لکھوں میں کوئی ایسیشروع تم سے، تمام تم پر رواں نہ ہوتی تھی طبع اس کیکھلا ہے سلمان خام تم پر دوسرے کلام کا عنوان ہے “نواسہ اپنے نانا کے حضور”۔ پیش خدمت ہے: میں کر کے آیا ہوں حجت تمام نانا جانقبول کیجیے میرا سلام نانا جانمیں آپ کا ہوں نواسا بھی اور پیارا بھیاور اس سے بڑھ کے ہوں ادنیٰ غلام نانا جانیہ آپ ہی کی محبت کا فیض ہے مجھ پرزمانے بھر کا ہوا میں امام نانا جانمرے گھرانے پہ لازم حفاظت اس کی تھیخدا کا آپ جو لائے نظام نانا جاندیارِ مکہ سے آیا میں سوئے کرب و بلاپیام آپ کا کرنے کو عام نانا جانمیں ساتھ لایا تھا اپنے رفیق اور عیالہوئے ہیں دین پہ قرباں تمام نانا جاناور اب آخر میں پیش خدمت ہے جناب علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کلام۔ اس کا عنوان ہے “درِ دیارِ آگہی”۔ عنوان ہی اس کلام کی ردیف بھی ہے۔ اسے پڑھنے سے پہلے اگر عنوان کے معنی سمجھ لیے جائیں تو کلام کا لطف دوبالا ہو جائے گا۔ در دیار آگہی کی ترکیب دراصل اس حدیث مبارکہ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں “میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں”۔ سو در دیار آگہی سے مراد ہے شہر علم کا دروازہ تو پیش خدمت ہے درِ دیار آگہی: ہے کس قدر تو محترم درِ دیارِ آگہی! ابھی نہ جان پائے ہم در دیار آگہی! کرن پڑی جہاں جہاں بھی آفتاب علم کی تری چمک تھی ہم قدم در دیار آگہی! یہ انفرادیت بھی تیرا حصہ ہے کہ تو بنابرادرِ شہِ ا±مم، در دیار آگہی! جو ظلم تیرے بعد تیری نسل پر کیا گیا رہے گا تازہ اس کا غم، دردیار آگہی! امید ہے کہ آپ کو یہ کلام پسند آئے ہوں گے۔ میں نے تو “دیر آید درست آید” کے مصداق بس اپنی حاضری لگوائی ہے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments