87.4 F
Pakistan
Friday, June 26, 2026
HomeLifestyleمیری تصویر، میری بات سے زیادہ اہم کیوں ہے؟

میری تصویر، میری بات سے زیادہ اہم کیوں ہے؟

سترہ جون 2026 کو میں اٹھاون برس کی ہوئی۔ سالگرہ کے دن ایک کام خودبخود ہو جاتا ہے— آدمی لوگوں کو ڈھونڈنے لگتا ہے۔ یادوں میں، اسکرین پر، دل کے کسی پرانے خانے میں۔ میں نے بھی ڈھونڈا۔ کچھ لوگ اس طرح غائب ہو گئے تھے جیسے زمین کھا گئی ہو— یاد آیا کہ وہ آسمان جیسے انسان اب اس فانی دنیا میں نہیں رہے۔ مردے پیغامات نہیں بھیجتے۔ کچھ اور لوگ تھے جو زندہ ہیں مگر جن سے رشتہ مر چکا ہے— یہ خاموش موتیں زیادہ اداس کرتی ہیں کیونکہ ان کا کوئی سوگ نہیں ہوتا، کوئی رسم نہیں، کوئی اعلان نہیں۔ اور پھر سوچا: اگر فیس بک نہ ہوتا تو کتنے لوگوں کو میری سالگرہ یاد ہوتی؟ میں نے اس دن فیس بک پر ایک پوسٹ لکھی، اپنی عمر کے بارے میں، اپنے سفر کے بارے میں، اس سوال کے بارے میں کہ میری میراث کیا ہے۔ ردعمل متنوع آئے۔ یہاں ضروری ہے کہ ان پیاری سہیلیوں، ان سابقہ سٹوڈنٹس اور کولیگز کا ذکر کروں جنہوں نے احترام اور خلوص سے اس سوال کا جواب دیا۔ بہت سوں نے “ایچ بی ڈی” لکھ دیا، مبارکباد کا مختصر ترین، مشینی ترین روپ، شاید پوسٹ پڑھے بغیر۔ کچھ نے طنز کیا۔ کچھ نے مشورہ دیا: مذہب پر توجہ دو، مرنے کے بعد کون پوچھتا ہے تمہیں؟ اور کچھ لوگوں نے— یہ سب سے قیمتی لمحہ تھا— اپنے ذاتی الفاظ میں بتایا کہ وہ مجھے کیسے یاد کریں گے، بغیر کسی رسمی لہجے کے۔ میں اس سالگرہ پر ایک ساتھ خوش اور اداس دونوں رہی۔ ساتھ ہی میں نے اکتوبر ۲۰۲۵ کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی، یعنی چند مہینے پرانی۔ تبصرے دیکھے تو ایک الگ ہی دنیا سامنے آئی: “اس پک میں تو آپ چالیس کی لگتی ہیں۔” “ماشاء اللہ، آپ تیس سے زیادہ کی نہیں لگتیں۔” “آپ کی یہی مثبت سوچ جوان رکھ رہی ہے۔ نماز پڑھیں، یوگا کریں، ہمیشہ خوش اور جوان رہیں گی۔” “آپ اب بھی بہت حسین ہیں۔” “اس عمر کی لگتی تو نہیں ہیں، بہرحال سالگرہ مبارک۔” “اپنے بارے میں اتنا سوچنا ضروری ہے کیا؟” “تازہ تصویر لگانے کی ہمت پھر بھی نہیں پڑی۔” میں یہ تبصرے اس لیے نہیں لکھ رہی کہ شکایت کروں بلکہ اس لیے کہ یہ اپنے آپ میں ایک دستاویز ہیں۔ ان میں سے ایک بھی یہ نہیں پوچھتا کہ آپ نے کیا لکھا، آپ کا قضیہ کیا ہے، آپ کی بات سے کسی نے کچھ سیکھا؟ سب کی نگاہ چہرے پر ہے، عمر پر ہے، جوانی یا اس کے بچھڑنے پر ہے۔ “اس عمر کی نہیں لگتیں” یہ تعریف نہیں۔ یہ پیغام ہے کہ آپ کی عمر قابلِ شرم ہے، مگر آپ خوش قسمت ہیں کہ چہرہ ابھی “قابلِ قبول” ہے۔ “اپنے بارے میں اتنا سوچنا ضروری ہے کیا؟” جب کوئی مرد اپنی زندگی اور تجربات پر لکھتا ہے تو اسے مفکر کہتے ہیں۔ جب ایک عورت اپنے ۵۸ سال پر غور کرے تو پوچھا جاتا ہے: اتنا سوچنا ضروری ہے کیا؟ یعنی عورت کا خود پر غور کرنا خودپسندی ہے، مگر مرد کی خودنوشت فلسفہ۔ زیادہ دکھ اور حیرت بھی تب ہوتی ہے جب اکثر خواتین ایسے تبصرے کرتی ہیں، مگر انٹرنلائزڈ مزوجینی سے کون واقف نہیں؟ اور “تازہ تصویر کی ہمت نہیں پڑی”— تصویر چند مہینے پرانی تھی، یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں، ہم سب کرتے ہیں۔ مگر یہ “جرم” بن گئی۔ “ہمت” کا لفظ یہاں بہت کچھ کہتا ہے— گویا عورت کی اصل عمر ظاہر کرنا جرأت کا کام ہے، اور چھپانا فطری۔ یہیں سے ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔ جب بھی میں میک اپ کے ساتھ کوئی تصویر پوسٹ کرتی ہوں، تبصروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ مگر جب میں بنگلہ دیش کی بستیوں میں دہائیوں سے پھنسے ہوئے بھولے بسرے پاکستانیوں کے بارے میں لکھتی ہوں، جہیز کے خلاف اپنی برسوں کی لڑائی کا ذکر کرتی ہوں، یا صنف کی بنیاد پر ٹیکس اصلاحات کی بات کرتی ہوں، خاموشی چھا جاتی ہے۔ وہی فیڈ، وہی لوگ، مگر سنّاٹا۔ کیا الگورتھم جنس پرست/سیکسیسٹ ہے؟ شاید۔ مگر الگورتھم تو اسی سماج کا عکس ہے جس نے اسے پسند اور ناپسند سکھائی ہے۔ ہمارا سماج بار بار یہ ظاہر کرتا ہے کہ عورت کا چہرہ قابلِ توجہ ہے، عورت کی سوچ نہیں۔ عمر بدلتی ہے، یہ نگاہ نہیں بدلتی۔ تو سوال یہ ہے کہ کس عمر میں ایک عورت سنجیدہ عوامی فکر کی حامل سمجھی جاتی ہے؟ کب وہ استاد، مفکر، کارکن، دانشور کے طور پر قبول کی جاتی ہے؟ جوانی میں نہیں، تب “ناسمجھ” ہوتی ہے۔ درمیانی عمر میں نہیں، تب “جذباتی” ہوتی ہے۔ اٹھاون سال میں بھی نہیں، کیونکہ ابھی بھی اس کی تصویر اس کے خیال سے زیادہ توجہ کھینچتی ہے۔ یہ صرف فیس بک کا مسئلہ نہیں۔ یہ اس پوری سوچ کا مسئلہ ہے جو عورت کو ہمیشہ دیکھنے کی چیز سمجھتی ہے، سننے کی نہیں۔ عمر پرستی، یعنی ایجزم، تنہا نہیں آتی؛ وہ صنفی تعصب اور طبقاتی ناانصافی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتی ہے۔ یہ سب مل کر طے کرتے ہیں کہ کس کی آواز سنی جائے، کیسے اور کس حد تک سنی جائے، کس کا تجربہ معتبر مانا جائے، اور کب، کہاں، کیسے اور کن عورتوں کو نظر انداز کیا جائے، غیر معتبر گردانا جائے۔ میں اپنی عمر کو چھپاتی نہیں، نہ اس سے اپنی قدر گھٹاتی ہوں۔ میرے اندر کئی لڑکیاں اور عورتیں ایک ساتھ رہتی ہیں۔ میں ایک ایج لیس اور جینڈر لیس وجود بھی بن جاتی ہوں۔ وہ بھی زندہ ہے، ادھ مُوئی، سسک رہی ہے— وہ بچی جو دردناک تجربات کی آنچ میں، جس میں چائلڈ ابیوز بھی شامل ہے، بڑی ہوئی؛ وہ نوجوان عورت جس نے ازدواجی زندگی اور کام کی جگہوں پر کچھ زیادہ ہی تذلیل اور ناانصافی سہی؛ اور وہ عورت جو آج جانتی ہے کہ تکلیف کو اپنی پہچان کا خاتمہ نہیں، سمجھ کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ یہ سب مل کر مجھے وہ بناتے ہیں جو میں ہوں— نہ کم، نہ زیادہ، بس مکمل۔ اپنے حساب سے، اور حساب میں میں کمزور ہوں۔ اور کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ کاش میں سادہ انداز میں لکھ سکتی، ایک ہی سطح پر رہ کر۔ جیسے: میرا کتا ہے۔ میرا کتا دو سال کا ہے۔ اس کا رنگ کالا ہے۔ میری گاڑی ہے۔ میری گاڑی پرانی ہے، لال رنگ کی ہے اور آٹومیٹک ہے۔ اسی طرح کے سیدھے، ایک تہہ والے جملوں میں زندگی بیان کر سکتی۔ لیکن میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ میری زندگی ایک تہہ میں رہنے سے انکار کرتی ہے۔ میں لکھوں بھی تو اس میں عمر بھی آ جاتی ہے، سیاست بھی، نسائیت بھی، ریاست بھی، سماجیات بھی، اور وہ ساری چیزیں جنہیں الگ الگ خانوں میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور شاید اسی لیے میرے لکھنے پر بھی وہی سوال اٹھتا ہے جو میری تصویر پر اٹھتا ہے: میں کیا دکھا رہی ہوں، یا میں کیا کہہ رہی ہوں؟ سترہ جون کو میں نے خود سے پوچھا: میری میراث کیا ہے؟ میں نے اے آئی سے بھی پوچھا۔ جو جواب ابھرا، وہ یہ تھا: خاموش موضوعات پر آواز اٹھانا، فراموش شدہ لوگوں کا ساتھ دینا، مشکل سوال پوچھنے سے انکار نہ کرنا۔ اور شاید یہ بھی کہ اپنی عمر کو، اپنے دکھ کو، اپنے تجربات کو کبھی نہ چھپانا۔ ہم سب روز تھوڑا تھوڑا مرتے رہتے ہیں— ہر وہ رشتہ جو ختم ہوتا ہے، ہر وہ خواب جو ادھورا رہ جاتا ہے، ہر وہ لمحہ جب ہم اپنی آواز دبا لیتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ مرنے کے بعد کون یاد کرے گا؛ اصل سوال یہ ہے کہ زندہ رہتے ہوئے ہم نے کیا کیا، کس کا ساتھ دیا، کس کو چھوڑ دیا۔ بعض معزز اور مشفق لوگ یہ مشورہ دیتے ہیں کہ میں کبھی کمیونٹی کے درد سے الگ ہو کر زندگی کے لمس کو محسوس کروں۔ اس کا کیا جواب بنتا ہے؟ میں جانوس ہوں؟ جانوس وہ رومن دیوتا تھا جو دو سمتوں میں بیک وقت دیکھتا تھا۔ زندگی گزاری ہے، گزر رہی ہے، مگر اس درد اور توہین سے آزاد ہو کر نہیں، بلکہ اس کے ساتھ، وقار کے ساتھ، حوصلے کے ساتھ، اپنی اقدار اور اپنے مورل کمپاس کے ساتھ۔ ہاں، میں اٹینشن اکانومی کو نہیں سمجھ سکی، اس لیے میری کاز سے جڑی تحریریں یا وی لاگز ویوز نہیں لے سکے۔ درد کو بیچنا ایک آرٹ ہے، اور وہ بھی بنا سرحد کے۔ جیسے آج کل کئی ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیں (سچے یا جھوٹے یا کمپرو مائزڈ) جہاں شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت انڈین گانوں کی دھن پر دیا جاتا ہے، اور ذاتی زندگی، بچوں کی تصاویر، ڈیجیٹل حفاظت اور قومی وقار کے اصول سب بالائے طاق رکھ دیے جاتے ہیں۔ شاید، شاید، شاید یہ مشاہدہ تلخ ہو، یہاں بے سروپا بھی لگے یا جھٹکا بھی دے، مگر زندگی کے سفر میں اسپیڈ بریکرز ہوتے ہیں۔ پاکستانیت میری پہلی اور آخری پہچان ہے، اور اس کے درمیان کئی شناختیں ہیں۔ میں تلخ ہوں۔ میں دودھ پتی نہیں، شوگر پاٹ نہیں، کالی کافی ہوں۔ مکرر: بہت تلخ ہوں۔ میں دودھ پتی نہیں، شوگر پاٹ نہیں، کالی کافی ہوں۔ اس لیے یہاں یہ ریکارڈ پر لانا ضروری جانتی ہوں کہ جن کو پاکستانی شہریت ورثے میں ملتی ہے، اور جو برباد ہو کر اس شہریت کے حامل ہوتے ہیں اور غیر مساوی شہری ہوتے ہیں، ان کے سوچنے اور محسوس کرنے کے انداز میں فرق ہوتا ہے۔ ہاں، ہم میں سے بھی اکثریت اپنی جڑوں سے کٹ رہی ہے، عقل اور دانش کے نام پر؛ یہ ان کی چوائس ہے۔ اور میں جانتی ہوں کہ کچھ لوگ اس مضمون کو بھی ڈرامہ، حد سے زیادہ ذاتی، بکواس یا منتشر خیالات کہہ کر رد کر دیں گے۔ مگر میں یہ خطرہ لے رہی ہوں۔ اور جب سچ مچ دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو چاہتی ہوں کہ کوئی یاد کرے: یہ وہ عورت تھی جس نے اپنی عمر کو، اپنی آواز کو، اپنی لڑائی کو کبھی نہیں چھپایا۔ جس کی تحریر، اس کی اپنی تھی۔

Read full story on Naya Daur Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments