پاکستان کے جنوب میں مزدور آم کے درختوں پر چڑھ کر سخت دھوپ میں تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ وہ تازہ توڑے گئے آم نیچے کھڑے مزدوروں کے تھیلوں میں پھینک رہے ہیں۔ پاکستان میں آم کا موسم پوری طرح شروع ہو چکا ہے لیکن اس بار معمول سے بہت کم پھل منافع بخش برآمدی منڈی تک پہنچ سکے گا۔ سندھ میں آم کا موسم جون میں شروع ہوتا ہے، جہاں آم کے تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سال برآمدات کم از کم 30 فیصد گر سکتی ہیں۔ اس کی وجوہات میں خلیجی ممالک سمیت اہم منڈیوں میں مانگ میں کمی اور ترسیل کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ شامل ہیں۔ ان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ یوں بھی ہوا کہ مہنگائی کے باعث ملک کے اندر بھی آم کی فروخت کم ہے۔ آموں کے اہم مرکز ٹنڈو الہ یار میں محمد شکیل کے سندھڑی آم کے باغ ہیں۔ آم کی یہ قسم صوبہ سندھ کے نام سے منسوب ہے اور اپنے بھرپور ذائقے اور رس دار گودے کے لیے مشہور ہے۔ محمد شکیل کو خدشہ ہے ان کا کاروبار اتنی آمدن نہیں دے سکے گا کہ باغات کے ٹھیکوں کی پیشگی لاگت پوری ہو سکے۔ چار جون، 2026 کی اس تصویر میں آم کے باغ کے مالک علی پلھ پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع ٹنڈو الہ یار میں ایک باغ میں توڑے گئے آم دکھا رہے ہیں (اے ایف پی) ان کے بقول کچھ لوگوں نے تو اپنے معاہدے ختم کر دیے۔ ’اتنا زیادہ نقصان ہوا ہے کہ ٹھیکے دار اپنی پیشگی رقم تک چھوڑ کر چلے گئے۔‘ پھلوں کا بادشاہ جنوبی ایشیا میں آم کو ’پھلوں کا بادشاہ‘ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں آم کی دو درجن سے زیادہ اقسام پیدا ہوتی ہیں، جن سے عام طور پر ہر سال بین الاقوامی فروخت میں تقریباً 11 کروڑ ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا آم برآمد کرنے والا ملک ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والی مشکلات نے پاکستانی معیشت کی جغرافیائی اور سیاسی کمزوری کو واضح کر دیا ہے۔ یہ معیشت بڑی حد تک زرعی شعبے پر انحصار کرتی ہے، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے دباؤ میں ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے چیف پیٹرن وحید احمد کے بقول ’آم کی تقریباً 80 فیصد برآمد خلیجی خطے، ایران اور افغانستان کو ہوتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ میں انہی تمام خطوں کو تنازعات نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ وحید احمد کے مطابق اس سال آم کی مجموعی برآمدات گذشتہ سیزن کے مقابلے میں تقریباً 30 ہزار ٹن کم ہو کر 80 ہزار ٹن تک رہنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا ’افغانستان کی سرحد بند ہے، ایران میں جنگ ہے۔۔۔ پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ ہے۔‘ وحید احمد نے اس ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی روکنے کے ابتدائی معاہدے کا خیرمقدم کیا مگر ان کے مطابق صورت حال اب بھی غیر یقینی ہے۔ یہ معاہدہ اس سال کے تقریباً تین ماہ طویل آم سیزن کے لیے بہت دیر سے سامنے آیا۔انہوں نے کہا ’اصل چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔‘ چار جون، 2026 کی تصویر میں پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کے باغ میں ایک مزدور کو آموں کا معیار جانچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی) ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے تجارت بھی رکی ہوئی ہے اور سامان سے لدے سینکڑوں ٹرک کئی ماہ سے بند سرحدی گزرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے سمندری تیل تجارتی راستے کے ارد گرد لگنے والی متبادل بندشوں نے توانائی کی قیمتیں بڑھا دیں، جس سے مال برداری کے اخراجات بھی تیزی سے اوپر چلے گئے۔ وحید احمد کے مطابق گذشتہ سال 25 ٹن آم کے ایک کنٹینر کی ترسیل پر تقریباً 1400 ڈالر خرچ آتا تھا۔ انہوں نے کہا ’اسی مال برداری کا خرچ اس سال بڑھ کر چھ ہزار سے سات ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’روٹی یا آم؟‘ یہ امید بھی دم توڑ گئی ہے کہ برآمدات میں کمی سے بچ جانے والے آم اگر مقامی منڈیوں میں زیادہ مقدار میں پہنچیں تو بیرون ملک فروخت کے نقصان کا کچھ ازالہ ہو سکے گا۔ وجہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران کئی اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں اور گھریلو صارفین پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک مصروف کھلی منڈی میں خریدار محمد اشہد حیرت انگیز طور پر سستے آم دیکھ رہے تھے۔ اس وقت آم تقریباً 200 پاکستانی روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جو گذشتہ سال کی قیمت کا تقریباً نصف ہے۔ محمد اشہد نے کہا ’گذشتہ چند برسوں کے مقابلے میں اس بار آم بہت سستے ہیں کیوں کہ ہماری برآمد رک گئی ہے۔‘ ’میں ہر جگہ دیکھ رہا ہوں کہ بہت اچھے آم موجود ہیں لیکن لوگ پھر بھی انہیں خریدنے کے قابل نہیں۔‘ ایک سرکاری سروے کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد تین ماہ میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد تک پہنچ گئی جب کہ جولائی سے فروری کے عرصے میں یہ شرح 5. 5 فیصد تھی۔ فروٹ ایکسپورٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ شکیل نے بھی مقامی فروخت کو پہنچنے والے دھچکے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا ’مقامی منڈی میں قیمت کم ہے لیکن ہر کوئی آم خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ ملک کی حالت دیکھیں، اخراجات بڑھ رہے ہیں۔۔۔ آمدن کم ہے۔ لوگ پہلے اپنی روٹی خریدیں یا ہمارے آم؟‘ آم برآمد پھل پاکستانی کاشت کار تاجر آم کے تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سال آم کی برآمد کم از کم 30 فیصد گر سکتی ہے۔ اے ایف پی اتوار, جون 21, 2026 – 09: 00 Main image:
ایک آم فروش نو جون، 2023 کو راولپنڈی میں سڑک پر جا رہا ہے (اے ایف پی)
معیشت type: news related nodes: پھلوں کو خشک کر کے فروخت کرنے والی کوئٹہ کی ہنرمند گھریلو خواتین ایرانی سیبوں کی آمد سے کشمیری پھلوں کی صنعت میں مندی بلوچستان کا پھل ’شینے‘ جو تر اور خشک کھایا جاتا ہے رحیم یار خان: نیم کے بیکار پھل سے تیل نکالنے والے پاکستانی نوجوان SEO Title: ’لوگ پہلے اپنی روٹی خریدیں گے یا ہمارے آم؟‘ copyright: show related homepage: Hide from Homepage



