75.3 F
Pakistan
Sunday, June 21, 2026
HomeHealthپی کے ایل آئی: 23 گھنٹے میں 10 بچوں کے جگر کی...

پی کے ایل آئی: 23 گھنٹے میں 10 بچوں کے جگر کی پیوندکاری کا ریکارڈ کیسے بنا؟

لاہور میں قائم پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (پی کے ایل آئی) سرجیکل ٹیم کے مطابق محض 23 گھنٹے اور 20 منٹ میں تین ڈونرز کی مدد سے 10مریض بچوں کے لیور ٹرانسپلانٹس مکمل کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ انتظامیہ نے یہ ریکارڈ درج کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق لاہور میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 14اگست 2015 کو ملک کے پہلے لیور ٹرانسپلانٹ ودیگر طبی سہولیات کے لیے پچاس ایکڑ پر پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیوٹیوٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ منصوبے پر دو سال میں مکمل ہونے کے بعد دسمبر 2017 میں پہلے مرحلے کا افتتاح کردیا گیا۔ منصوبے پر اس وقت تک 20 ارب روپے خرچ ہوئے۔ 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے ادارے میں زیادہ تنخواہوں پر ازخود نوٹس لیا۔ دوران سماعت ادارے کے سربارہ ڈاکٹر سعید اختر کی 12 لاکھ تنخواہ اور ان کی اہلیہ کی آٹھ لاکھ تنخواہ کے علاوہ منصوبے کی لاگت پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ یوں چار سال تک عدالتی کارروائی کے باعث اس ادارے کا انتظام اور کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔ شہباز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد 2022 میں اس ادارے کو دوبارہ فعال کرنے کے اقدامات کیے۔ چیئرمین شعبہ لیور ٹرانسپلانٹ سرجری پی کے ایل آئی، ڈاکٹر احسان الحق نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم نے 23 گھنٹے میں مسلسل کام کر کے نو بچوں اور ایک نوجوان یعنی 10 مریضوں کی ٹرانسپلانٹ سرجری کامیابی سے کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بڑے طبی آپریشن میں 120 رکنی میڈیکل ٹیم نے حصہ لیا۔ جبکہ ڈومینو لیور ٹرانسپلانٹ اور اے پی او ایل ٹی (APOLT) جیسے پیچیدہ طریقہ کار بھی استعمال کیے گئے۔ اس کے لیے صرف تین ڈونرز کے عطیے سے نو بچوں اور ایک بالغ مریض کی جان بچائی گئی۔ ان آپریشنز میں ایک نو ماہ کے بچے کا لیور ٹرانسپلانٹ بھی شامل تھا۔ ’جن مریضوں کے آپریشنز کیے گئے انہیں کچھ دن انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا اب وہ تمام مریض کامیاب علاج کے بعد صحت یاب ہو کر ہسپتال سے ڈسچارج ہو چکے ہیں۔ ’اس سے پہلے دنیا میں 24 گھنٹے میں پانچ لیور ٹرانسپلانٹ کا ریکارڈ تھا۔ لیکن اب ہم نے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ لہذا گنیز ورلڈ ریکارڈز کی تصدیقی ٹیم نے یہ کارنامہ درج کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ہم نے دستاویزات بھجوا دی ہیں۔ جن کا جائزہ لے کر ٹیم حتمی منظوری کے بعد گینز بک میں ہمارا ریکارڈ درج کر لے گی۔‘ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ میں مریضوں کو گردوں، جگر اور بون میرو ٹرانسپلانٹ سمیت متعدد پیچیدہ بیماریوں کا علاج ایک ہی جگہ دستیاب ہے۔ ادارے میں گیسٹروانٹرولوجی، ہیپاٹولوجی، یورولوجی، نیفرولوجی، آنکولوجی، کارڈیالوجی، نیورولوجی، کریٹیکل کیئر، پیڈیاٹرکس اور جدید روبوٹک سرجری جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پی کے ایل آئی اینڈ آر سی جنوبی ایشیا کا واحد سرکاری ہسپتال ہے جسے جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل (جے سی آئی) کی منظوری حاصل ہے، جو عالمی معیار کی طبی خدمات کا اعتراف سمجھی جاتی ہے۔ جگر کی پیوندکاری کے تین مراحل ہوتے ہیں، جس میں آپریشن سے پہلے سکریننگ کا مرحلہ، سرجری اور آپریشن کے بعد ‘پوسٹ میڈیکیشن’ شامل ہوتا ہے۔ (تصویر: پکسابے) سرجری ٹیم کے رکن پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل رشید نے بتایا کہ ’یہ 10 ڈومینو ٹرانسپلانٹ ہیں جن بنیادی طور پر مریض کے جگر میں مختلف قسم کی خرابیوں کا علاج ہوتا ہے۔ مریض کا جگر جسم میں کچھ چیزیں نہیں بناتا جس سے مریض کا رنگ پیلا ہونا شروع ہوجاتا اور گردوں میں پتھری بننا شروع ہوجاتی ہے۔ ’اس میں ایک مریض کے لیور کا جو حصہ خراب ہو اسے دوسرے مریض کے جگر کے بہتر حصے کے ساتھ تبدیل کردیا جاتا ہے۔ اس طرح کے 10 ڈومینو ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہیں۔ ’اب ہم سویپ ٹرانسپلانٹ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جس میں 10 مریضوں کے لیور ٹرانسپلانٹ کے لیے 10 ہی ڈونرز ہوں گے۔ یعنی ایک ہی وقت میں 10 مریض جن کا ٹرانسپلانٹ ہوگا اور 10 ہی ڈونرز جن کے اعضا حاصل کرنے کا آپریشن ہوگا۔‘ ڈاکٹر احسان الحق کے بقول: ’پاکستان میں گردوں، مثانے، پیشاب کی نالی اور جگر کے امراض ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ’یہاں 40 فیصد آبادی ان بیماریوں سے متاثر ہے اور روزانہ 300 سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں پی کے ایل آئی ملک بھر کے مریضوں کے لیے امید کی علامت بنا ہوا ہے۔ ’پہلے مریض انڈیا یا دوسرے ممالک میں لیور ٹرانسپلانٹ کے لیے جاتے تھے۔ لیکن اب نہ صرف چاروں صوبوں بلکہ دوسرے ممالک سے بھی مریض یہاں آتے ہیں۔ ہم 70فیصد مریضوں کا اعلاج مفت کرتے ہیں۔ ’پی ایل اے کی مہارت اور طبی سہولیات سے متعلق بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک ہمارے ساتھ ایم او یو سائن کر رہے ہیں۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) سرجیکل ٹیم کے رکن ڈاکٹرمحمد یاسر نے بتایا کہ ’یہ 10 ٹرانسپلانٹ اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ صرف تین ڈونرز کی مدد سے یہ ٹرانسپلانٹ مکمل ہوئے۔ ہم نے دو ماہ کی منصوبہ بندی میں یہ طے کیا کہ جن بچوں کے لیور یا گردے بہتر ہیں اور ان کے دوسروں سے بلڈ گروپ ملتے ہیں تو انہی کے لیور یا ایک گردہ دوسروں کو لگا کر آپریشنز کامیاب کیے۔ لہٰذا بچوں کو پیدائش کے بعد خیال رکھیں اور چیک اپ کرائیں اگر لیور، گردے یا جگر کا کوئی مسئلہ ہو تو فوری پی کے ایل آئی سے چیک کرائیں تاکہ انہیں ایسی طبی مدد کی ضرورت ہوتو فوری اس کا حل نکالا جاسکے۔‘ پی کے ایل آئی کی پارلیمانی ایکٹ کے تحت خودمختار ادارہ پی کے ایل آئی ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہے، جن میں پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ اسی تناظر میں حکومت نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر ایکٹ2019کے تحت اس ادارے کو قانونی اور انتظامی خودمختاری فراہم کی۔ ادارہ ایک خودمختار بورڈ آف گورنرز کے زیر انتظام کام کرتا ہے جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں، جو شفافیت، احتساب اور پیشہ ورانہ معیار کو یقینی بناتے ہیں۔ پی کے ایل آئی میں اب تک 50 لاکھ سے زائد مریضوں کو طبی خدمات فراہم کی جا چکی ہیں۔ مریضوں کے علاج پر 18 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔ ٹرانسپلانٹ پاکستان کڈنی سینٹر گردے سرجری پی کے ایل آئی لاہور کے چیئرمین شعبہ لیور ٹرانسپلانٹ سرجری ڈاکٹر احسان الحق نے بتایا کہ ’ہم نے 23 گھنٹے میں مسلسل کام کر کے نو بچوں اور ایک نوجوان کی کامیابی کے ساتھ سرجری کی۔‘ ارشد چوہدری اتوار, جون 21, 2026 – 07: 45 Main image:

پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ لاہور (ادارے کا فیس بک پیج)

صحت jw id: eW24b3f6 type: video related nodes: چلڈرن ہسپتال لاہور: خون کے کینسر کا ’پہلا کامیاب‘ بون میرو ٹرانسپلانٹ پاکستان میں صحت کارڈ پلس پر جگر کی پیوندکاری کا پہلا مفت آپریشن لاہور: غیر قانونی کڈنی سینٹر پر چھاپہ، سرغنہ ڈاکٹر کی تلاش جاری شیخ زید میں جگر کی پیوند کاری بند: ’غلط دوا آگئی تو ہمارا کیا قصور؟‘ SEO Title: پی کے ایل آئی: 23 گھنٹے میں 10 بچوں کے جگر کی پیوندکاری کا ریکارڈ کیسے بنا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments