76.3 F
Pakistan
Sunday, June 14, 2026
HomeBreaking Newsامتحانات کے لئے فوج طلب

امتحانات کے لئے فوج طلب

تعلیمی دور میں امتحانات تو سب دیتے ہیں۔ کچھ پرچے سخت ہوتے ہیں تو کچھ امتحانات میں اساتذہ طلبہ پر سختی کرتے ہیں۔ اس بات سے تو سب اتفاق کریں گے مگر کیا دنیا میں کوئی ایسا بھی ملک ہو سکتا ہے جہاں کالج کے امتحانات فوج کی زیر نگرانی کرائے جائیں گے۔ جی ہاں یہ بات درست ہے اور بات ہے ہمسائے ملک بھارت کی جہاں کا تعلیمی نظام اس قدر بوسیدہ ہو چکا ہے کہ وزیر، سفیر سے لڑ لے تمام تعلیمی ادارے اور طلبہ سب کا اس پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت کا سب سے بڑا تعلیمی امتحان نیٹ جو طلبہ و طالبات کالج میں دیتے ہیں یونیورسٹی، میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالجز میں داخلے کے لئے اس میں ایسی خرابیاں سامنے آئی ہیں کہ پورا تعلیمی نظام کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ نیٹ کا امتحان یعنی قومی ایڈمیشن ٹیسٹ بھارت میں لازمی ٹیسٹ ہے اور اس کے لئے طلبہ سال بھر محنت کرتے ہیں تاکہ اپنا مستقبل کسی اچھی یونیورسٹی میں سنوار سکیں۔اسی نیٹ ٹیسٹ کے پرچے دو ماہ پہلے آوٹ ہو گئے تھے جن پر دلبرداشتہ ہو کر کچھ طلبہ نے اپنی جان لے لی تھی۔ پھر بھی حکومت وقت نے کوئی سخت فیصلہ نہیں کیا۔ بھارت میں المشہور کاکروچ جنتا پارٹی کا قیام بھی اسی تناظر میں ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے بھارتی نوجوانوں کو کاکروچوں سے تشبیہ دی اور بس پھر بھارت کے ہر کونے سے کاکروچ نکل آئے احتجاج کرنے۔ اس وقت بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کو نوجوان نسل کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اور علاوہ ازیں کاکروچ جنتا پارٹی کے وزیر تعلیم کے خلاف دو متاثر کن احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کا بانی ابھی جیت دپکے امریکہ سے بھارت آ کر تعلیمی نظام کی خرابیوں کے خلاف تحریک چلا رہا ہے۔ اس تحریک میں ہر عمر کے طلبا شامل ہیں اور کلائمیٹ ایکٹیویسٹ سونم وانگ چوک بھی پیش پیش ہیں۔ بھارتی طلبہ کاکروچ جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نئی دہلی اور مہاراشٹرا کے شہر پونے میں دو مظاہرے ہو چکے ہیں مگر وزیر موصوف ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ امتحانی پرچے آوٹ ہونا، طلبہ کا جان سے جانا، کروڑوں طلبہ و طالبات کا مستقبل داو پر لگ جانا اور اس سب میں وزارت تعلیم کی خاموشی بھارتی طلبہ کو اشتعال دلوانے کے لئے کافی ہے۔بھارتی جنتا پارٹی نے بھاجپا راج میں ایک اور فیصلہ کیا ہے۔ وہ یہ کہ اب جلد نیٹ کے امتحانات منعقد کروائے جائیں گے اور امتحانی پرچے امتحانی مرکز تک لے جانے کے لئے بھارتی فضائیہ کے جہاز استعمال ہوں گے۔ امتحانی مراکز کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ بس اب بھارتی فضائیہ کے جنگی جہاز گھن گرج کرتے ہوئے نرے کاغذات سکولوں کالجوں میں لے کر جائیں گے۔ یہ ہے بھاجپا کے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی تعلیمی پالیسی جس پر ہنسی سے زیادہ غصہ آ رہا ہے اور یہ غصہ بھارت کی نوجوانوں نسل کر رہی ہے۔ یہی نہیں بھارتی ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اعلان کیا کہ نیٹ کے امتحان کے لئے پنجاب بھر میں طلبہ کی سہولت کے لئے مفت بس سروس چلائی جائے گی۔انہی دنوں بھارتی وزارت تعلیم نے سی بی ایس سی کا پرچہ آن لائن لیا اور اسکا چیکنگ کا سسٹم بھی آن لائن پورٹل پر متعارف کروایا۔ جو پہلے ہی دن کام کرنا چھوڑ گیا۔ متعدد طلبہ نے آن لائن پورثل میں بے ظابطگیوں کی نشاندہی کی۔ ایک طالب علم جس نے وزارت تعلیم کے ناقص پورٹل کی ویڈیو بنائی تھی اسے تو فل پروٹوکول میں بھارتی پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی میں مدعو کیا گیا تاکہ وہ تعلیمی ویب پورٹل کی حقیقت بیان کر سکے۔ اس کے بعد وزیر تعلیم، وزارت تعلیم اور بی جے پی سرکار کے پاس کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں ہے۔ بھارتی حکومت کو اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے فوری طور پر تعلیمی ڈھانچے میں اصلاحات لانی چاہیے۔یہ حال ہے بھارت کے سب سے بڑے امتحان کا اور گاوں کھیتوں اور دیہات کے سرکاری تعلیمی اداروں کا کوئی حال ہی نہیں ہے۔ کبھی سرکاری سکولوں میں طلبہ کے کھانے میں سانپ نکل آتے ہیں تو کبھی سکولوں کو ہندو مسلم فسادات کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ بھارت میں ریاستی سطح پر بھی تعلیم کا برا حال ہے۔ایسی بری تعلیمی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بھارت کے پاس کوئی حکمت عملی موجود نہیں ہے۔ اور تشکیل دینے سے بھی قاصر ہیں۔ جہاں مفت بسیں چلانے اور ماہر تعلیم کے بجائے طلبہ سے مشورے ہوں گے وہاں یہ سیاسی نعرہ بھی دم توڑ جاتا ہے کہ پڑھے گا بھارت تو بڑھے گا بھارت۔ کیونکہ بھارتی نظام تعلیم تعلیم دینے سے ہی قاصر ہے۔ انہی حالات و واقعات کی وجہ سے بھارتی نوجوان سڑکوں پر کیڑے مکوڑوں کی طرح احتجاج کر رہے ہیں اور بھاجپا حکومت تعلیمی میدان میں جنگی جہاز اتار رہی ہے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments