شہبازشریف کی حکومت نے سالانہ بجٹ پیش کردیا ہے ۔بجٹ میں حکومت(ملک) چلانے کے لیے آمدن اور اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے جو سال کے آخر تک تبدیل ہوکر کئی نئی شکلیں اختیار کرجاتا ہے کوئی ہدف پورا ہوتا ہے اور بہت سے رہ جاتے ہیں کچھ ایک بہت زیادہ اور توقعات سے بھی بڑھ کر کارکردگی دکھاجاتے ہیں ۔یہ بجٹ بھی ویسا ہی ہے جیسے عمومی بجٹ ہوتے ہیں ۔کچھ چیزیں اچھی ہیں ۔جیسا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کی گئی ہے جس سے ان کی آمدن میں کچھ بچت ہوجائے گی اور مہنگائی سے مقابلے کی ہمت ملے گی ۔بجٹ کی آمد سے دودن قبل اور ایک دن بعد استاد محترم سہیل وڑائچ صاحب نے دو کالم تحریر کردیے ہیں ۔دونوں کا نشانہ حکومت اور شہبازشریف ہیں۔ ان کی تحریرکردہ ”آکاشکوانی “کے مطابق بجٹ کے بعد یعنی آج سے ہی حکومت کے چل چلاو¿ کا آغاز ہوجانا ہے تو اب بجٹ آچکا تو آپ سمجھ لیں کہ حکومت کے جانے کا بقول سہیل وڑائچ صاحب آغاز ہوچکا ہے۔سہیل صاحب میرے استاد ہیں ۔ میں یہ جملہ بطور طنز یا احتراماً نہیں لکھ رہا بلکہ وہ سچ میں ہمیں پڑھاتے رہے ہیں ۔ سن دوہزار میں وہ پنجاب یونیورسٹی میں بطور وزٹنگ استاد ہمیں فیچر رائٹنگ پڑھانے آتے تھے ۔ہم ان کے سنڈے میگزین میں طویل شخصی انٹرویوز پڑھ کر متاثر ہوتے تھے ۔ٹی وی آیا تو انہوں نے وہی فیچر انٹرویوز کا پروگرام شروع کرلیا جو ہنوز جاری ہے۔انہوں نے عمران خان صاحب کے آغاز کے ماہ میں ہی ایک کالم لکھ دیا تھا کہ ” یہ کمپنی نہیں چلے گی “ اب وہ کمپنی نہیں چلی لیکن اس کمپنی کے بند ہونے میں ڈھائی تین سال لگ گئے تھے اب وہ چاہیں تو اُس حکومت کے جانے کا کریڈٹ بھی لے سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے کالم میں کمپنی کے بند ہونے کی تاریخ تو نہیں لکھی تھی وہ دس سال بعد بھی ختم ہوتی تو کریڈٹ انہی کاہی ہوتا کہ وہ تو دس سال پہلے کہہ چکے تھے کہ اس کمپنی نے نہیں چلنا۔اب کی بار انہوں نے تاریخ کی نشاندہی کی ہے فرمایا کہ ”اگرچہ حکومت اپنے عروج کے نصف النہار پر ہے بظاہر سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے مگر اس عروج کے بعد جولائی سے اس کا زوال شروع ہوجائے گا۔“انہوں نے حکومتیں جانے کی پہلے تین وجوہا ت لکھیں اور بعد میں ان تینوں وجوہات کے موجود نہ ہونے کی بات بھی لکھ کر اپنے کہے کی تردید کی اور پھر ایک چوتھی وجہ بتائی کہ حکومت معاشی اور سیاسی وجہ سے بھی بدل سکتی ہے ۔اب سیاسی وجہ کی وضاحت انہوں نے یوں کی ہے کہ حکومت نہ کوئی سیاسی بیانیہ بناسکی ہے اور نہ ہی گراس روٹ لیول پر سیاسی جگہ بناسکی ہے ۔عرض ہے کہ حکومت ن لیگ کی ہو ، پیپلزپارٹی کی ہو یا پھر بیانیے بنانے کے ماہرین ”صاف چلی شفاف چلی “ والے حکمران ہوں ۔مرکز میں جو بھی حکومت ہوگی اس کا سیاسی بیانیہ نہ بنے گا نہ چلے گا اور اتنا ہی بنے گا جتنا موجود ہ حکومت کا ہے ۔پاکستان ایک مشکل حکومتی بندوبست کا نام ہے ۔یہاں مسائل زیادہ اور وسائل کم ہیں ۔ہر کوئی کمانا چاہتا ہے لیکن ڈھنگ سے کام نہیں کرنا چاہتا۔آبادی کا بم ٹک ٹک کررہا ہے اور اوپر سے کسی بھی حالت میں مطمئن نہ دکھائی دینے کے رویے ہر وقت عوام کو شاکی بنائے رکھتے ہیں ۔پنجاب میں کسانوں کو اب اربوں روپے کے بلاسود قرضے مل رہے ہیں ۔ کسان کارڈ کے ذریعے کھاد اور بیچ مل رہا ہے ۔کسان کی آڑھتی سے جان چھڑوائی گئی ہے ۔کسان اپنے قرضے واپس بھی باقاعدگی سے کررہے ہیں ظاہر ہے کمارہے ہیں تو قرض واپس کررہے ہیں نا؟ لیکن کسانوں کی تنظیموں والے ہر وقت” مارے گئے لٹے گئے “کا ورد کرتے ہیں ۔پنجاب میں گنے کے کاشتکاروں کو اس سال پچانوے فیصد ادائیگیاں مکمل ہیں لیکن ہمیں کوئی کلمہ شکر نہیں ملے گا ۔سہیل وڑائچ صاحب نے کوئی سال پہلے ایک کالم لکھا تھا جس میں کسی بیرون ملک میں ایک اوورسیز کو فیلڈ مارشل کے قریب بیٹھے دور سے دیکھنے اور پھر دور سے ہی ان کے درمیان گفتگو کا اندازہ لگاکر کہانی بیان کردی تھی ۔اس کی آئی ایس پی آر کے ساتھ ساتھ اس گفتگو کرنے والے نے بھی تردید کردی تھی جس کے بعد وڑائچ صاحب نے ایسا ہی شکوہ نما کالم لکھا تھا جیسا موجودہ کالم میں حکومت کے جانے کی نوید سناکر کل ایک اور طنزیہ کالم لکھا ہے ۔ میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ وڑائچ صاحب بڑے شاطر ہیں ۔ انہوں نے سرد گرم چکھا ہوا ہے ۔انہوں نے آمروں سے لے کر ہر سیاستدان اور ارب پتیو ںکے دسترخوان سے کھایا ہوا ہے ۔وہ ہر حکومت کے بارے میں ایسا ایک کالم لکھ چھوڑتے ہیں کیونکہ یہاں لکھنا ہے وہاں وہ خود ہی مدارالمہام ہیں ۔ خود ہی ایڈیٹر اور خود ہی لکھاری ہیں ۔جیسے خود ہی وکیل اور خود ہی جج ہو۔تاکہ جب بھی حکومت جائے تو ا سکا کریڈٹ لے سکیں ۔کیونکہ پاکستان جیسے ملک میں حکومتوں کے گلے میں ہار کبھی بھی نہیں پڑتے۔اگر حکومت نہ جائے تو یہ کہہ دیں کہ وہ تو میرا تجزیہ تھا جیسا اس کالم میں بھی لکھا ہے کہ ان کا تجزیہ ہے خبر نہیں اور تجزیہ تو حالات کے ساتھ بدل جاتا ہے ۔اب یہ والا کالم ” خبردار ،ہوشیار ،تیار “بھی پیشگی کریڈٹ کے لیے لکھ رہے ہیں یا پھر یہ ان کاناہموار تجزیہ ہی ثابت ہوگا ۔اس کا انتظار کرلیتے ہیں کیونکہ جولائی کا مہینہ شروع ہونے والا ہے ۔ہاں کچھ حقائق کا تجزیہ کرلیتے ہیں ۔وہ لکھتے ہیں کہ صنعتکار بہت ناراض ہیں اور صنعتیں ساری بند پڑی ہیں ۔یقینا کچھ صنعتیں بند بھی پڑی ہوں گی لیکن اقتصادی سروے میں کہانی کچھ الگ ہے ۔بڑی صنعتوں کی شرح نمو ساڑھے چھ فیصد رہی ہے ۔اگر ساری صنعتیں ہی بند پڑی ہیں تو یہ گروتھ کیسے آگئی ہے؟ ٹیکسٹائل میں بڑھوتری ہے اور اسی گروتھ کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ بھی بڑھی ہے تو اگر بند فیکٹریوں سے مال بن کر ایکسپورٹ ہورہا ہے تو یہ معجزہ ہے اور ہمیں تو ایسے معجزوں کی بہت ضرورت ہے۔ باقی رہی بات بقول ورائچ صاحب صنعتکاروں کے رونے کی تو ہم نے انہیں کسی بھی حکومت میں خوش نہیں دیکھا وہ خوش صرف اپنے تنہائی کے لمحات میں ہوتے ہیں یا جب آپس میں ایسوسی ایشنز کے اجلاسوں میں بیٹھ کر منافع گنتے ہیں ۔ہاں اجلاسوں کے درمیان جو وقت کیمروں کے سامنے ہوتا ہے اس میں باقاعدہ رونے کی ایکٹنگ ہوتی ہے ۔اس کلاس نے روتے روتے اپنے اثاثے اربوں سے کھربوں کرلیے ۔اپنی ہاو¿سنگ سوسائٹیاں کھڑی کرلیں لیکن شکر کا کلمہ نصیب نہیں ہوا تو یہ نصیب کی بات ہے ۔کمال ہے کہ صنعتیں بند ہیں اور صنعتکاروں کے گروپ نے پاکستان کی قومی ایئر لائن خرید لی اور اب وہ اس کو چلا بھی رہے ہیں ۔وہ کونسی بند صنعتیں ہیں جوبند ہوکر بھی اتنا پیسا اگل رہی ہیں ؟۔انہوں نے کالم کا اختتام ان الفاظ میں کیا ہے کہ” مجھے کچھ کہنے کی بجائے اپنی آنکھ کا اقتداری دھندلا پن دور کریں کیوں کہ نقارہ اب بس بجنے کو ہی ہے“ حکومت کے گرجانے کا کوئی جمہوری راستہ یا امکان تو موجود نہیں ہے۔ شہبازشریف صاحب خود چھوڑدیں تو الگ بات ہے لیکن وڑائچ صاحب استاد ہیں تو ہم دیکھ لیتے ہیں کہ جولائی کونسا دور ہے ۔۔کیوں استاد ۔۔؟



