صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ہفتے کی رات ایک چوکی پر حملے کے نتیجے میں اب تک سات پولیس اہلکاروں کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ تین زخمی ہیں۔ بنوں پولیس کے ترجمان کاشف نے بتایا کہ فتح خیل چوکی حملے کے نتیجے میں منہدم ہو گئی اور کئی پولیس اہلکار ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ یہ چوکی بنوں کے منڈان تھانے کے حدود میں واقع ہے اور اس سے پہلے بھی اس تھانے اور اسی علاقے میں پولیس اہلکاروں اور پولیس وین پر حملے کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ حملے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے پہنچنے والے اہلکاروں پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ روئٹرز کے مطابق پولیس افسر سجاد خان نے کہا کہ بنوں شہر کے مضافات میں واقع چوکی پر تعینات 15 میں سے زیادہ تر اہلکاروں کے جان سے جانے کا خدشہ ہے اور یہ تنصیب مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے رات گئے بتایا کہ لڑائی جاری ہے اور نقصان کی مکمل تفصیل آپریشن ختم ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔ ایک اور پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’دہشت گردوں نے پہلے پولیس چوکی پر بارودی مواد سے بھری گاڑی سے حملہ کیا، پھر مسلح افراد نے احاطے میں داخل ہو کر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ ’دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مدد کے لیے گئے لیکن دہشت گردوں نے ان پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا اور کچھ جانی نقصان ہوا۔‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پولیس ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں نے اس حملے میں ڈرونز استعمال کیے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے بتایا کہ حملے میں ایک خودکش بمبار بھی شریک تھا۔ پولیس افسر زاہد خان نے اے پی کو بتایا کہ حملے کے فوری بعد کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور دھماکے کے اثرات سے قریبی کئی مکانات اور سکیورٹی چوکی منہدم ہو گئی۔ انہوں نے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا اور کہا کہ فائرنگ کا تبادلہ ابھی جاری ہے اور کچھ اہلکاروں کے زخمی ہونے اور ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ روئٹرز کے مطابق ریسکیو ایجنسیوں اور سرکاری ہسپتالوں کی ایمبولینسیں جائے وقوعہ پر بھیج دی گئیں اور حکام نے بنوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ اتحادالمجاہدین نامی عسکری اتحاد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ خیبر پختونخوا بنوں دہشت گردی بنوں پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں چوکی منہدم ہو گئی اور کئی پولیس اہلکار ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو اتوار, مئی 10, 2026 – 07: 45 Main image:
31 دسمبر، 2020 کو کرک میں ایک پولیس اہلکار تباہ حال عمارت کے باہر کھڑا ہے (اے ایف پی)
پاکستان type: news related nodes: ہنگو کے بازار میں مارٹر حملہ، بچوں سمیت چھ افراد چل بسے: پولیس خیبر پختونخوا میں ڈرون حملے، وزیر اعلیٰ کا احتجاج کا عندیہ بنوں میں دو مرتبہ بم حملوں کا ہدف بننے والے گھر کی کہانی بنوں دھماکے میں مکان منہدم ہونے سے پانچ افراد جان سے گئے SEO Title: بنوں چوکی پر کار بم حملہ، سات اہلکار جان سے گئے: پولیس copyright: show related homepage: Show on Homepage



