دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے ساتھ اب ’چیٹ جی پی ٹی‘ جیسے پلیٹ فارمز بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے تفتیش کا اہم ذریعہ بننے لگے ہیں۔ ملزمان کی جانب سے ان پلیٹ فارمز پر پوچھے گئے سوالات کو عدالتوں میں ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس نے صارفین کی پرائیویسی اور قانونی تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ریاست فلوریڈا میں دو طلبہ کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے کی گئی گفتگو عدالت میں بطور ثبوت پیش کی گئی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی سے سوال کیا تھا کہ اگر کسی انسان کو کچرے کے تھیلے میں ڈال کر پھینک دیا جائے تو کیا ہوگا اور پھر پوچھا کہ اس کا سراغ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی چیٹ ہسٹری تفتیشی اداروں کے لیے ’خزانے‘ سے کم نہیں کیوں کہ یہ ملزم کی ذہنیت، ارادے اور ممکنہ منصوبہ بندی کو ظاہر کرتی ہے۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ ان کی گفتگو خفیہ رہے گی، اسی لیے وہ براہ راست اور حساس سوالات پوچھ لیتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب چیٹ بوٹس کی گفتگو عدالت میں پیش کی گئی ہو۔ اس سے قبل لاس اینجلس میں آتشزدگی کے ایک کیس اور ورجینیا میں 2024 کے قتل کے مقدمے میں بھی اسی نوعیت کے ڈیجیٹل شواہد استعمال کیے جا چکے ہیں۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی یا دیگر اے آئی پلیٹ فارمز پر ہونے والی گفتگو کو وہی حیثیت حاصل ہے جو گوگل سرچ یا فون کال ریکارڈز کو حاصل ہوتی ہے، یعنی یہ کسی بھی شخص کے ارادوں اور ذہنی کیفیت کو ظاہر کر سکتی ہے۔ اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے بھی اس معاملے کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنی زندگی کے انتہائی ذاتی معاملات چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، لیکن اس گفتگو کو وہ قانونی تحفظ حاصل نہیں جو کسی وکیل، ڈاکٹر یا تھراپسٹ کے ساتھ بات چیت کو حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی قانونی معاملہ سامنے آئے تو کمپنی کو یہ ڈیٹا فراہم کرنا پڑ سکتا ہے۔ کئی قانونی ماہرین نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ اے آئی چیٹس میں پرائیویسی کی کوئی ضمانت نہیں۔ دوسری جانب تفتیشی ادارے نہ صرف صارفین کے سوالات بلکہ چیٹ بوٹس کے جوابات کا بھی جائزہ لینے لگے ہیں۔ فلوریڈا میں حکام نے اوپن اے آئی کے خلاف ایک مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کیا ہے، جس میں الزام ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے ایک مشتبہ حملہ آور کو اہم نوعیت کی رہنمائی فراہم کی۔ اسی طرح کینیڈا کے ایک اسکول میں فائرنگ کے متاثرین کے اہلِ خانہ نے بھی کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چیٹ بوٹ نے اس حملے میں معاونت فراہم کی۔ اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ کمیونٹی سیفٹی کو ترجیح دیتے ہوئے پرائیویسی اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ زیادہ تر افراد کبھی کسی مجرمانہ کیس کا حصہ نہیں بنتے، لیکن پھر بھی لوگوں کو چاہیے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ اپنی گفتگو میں احتیاط برتیں کیوں کہ یہ معلومات مستقبل میں عدالت تک پہنچ سکتی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق موجودہ قوانین ابھی اس تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کا ساتھ نہیں دے پا رہے اور مستقبل میں اس حوالے سے واضح ضوابط بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم فی الحال حقیقت یہی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی پر کی جانے والی گفتگو کسی بھی وقت عدالت میں بطور ثبوت پیش کی جا سکتی ہے۔
‘چیٹ جی پی ٹی’ سے کی گئی گفتگو قتل کیس میں اہم ثبوت بن گئی
RELATED ARTICLES



