دنیا بھر میں جنگ کو برا سمجھا جاتا ہے۔ یہ تباہی لاتی ہے۔ اگر امریکہ نے جاپان پر دو ایٹم بم نہ برسائے ہوتے تو شاید دنیا کو تباہی کا مطلب نہ سمجھ آتا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کچھ عرصہ خاموشی رہی۔ یہ اس لئے نہیں تھی کہ ان جنگوں میں شریک ملک تائب ہو گئے تھے بلکہ اس لئے تھی کہ طاقتور ملکوں نے ایک دوسرے کی تباہی کے بعد فیصلہ کیا کہ اب آئندہ کوئی ایسی جنگ شروع نہیں کی جائے گی جس میں امریکہ یا یورپ کی تباہی ہو لیکن ساتھ ہی کہیں یہ غیر تحریر شدہ فیصلہ بھی ہوا تھا کہ اب جنگ کو امریکہ و یورپ سے نکال کر ایشیا، افریقہ، عرب اور خلیج کی طرف لے جایا جائے گا تاکہ امریکہ اور یورپ کی اسلحہ انڈسٹری پھلتی پھولتی رہے اور ترقی کے لئے کوشاں ممالک ایک دوسرے سے دست و گریبان رہیں یوں وہ ترقی یافتہ ممالک کے سامنے کبھی نہ کھڑے ہو سکیں اور ان کے اسلحے کے مستقل خریدار بنے رہیں گے۔ اسلحہ سازی کی صنعت کو فروغ دینے اور ان کا مال فروخت کرنے کے لئے مختلف ممالک کو ایک دوسرے سے دور رکھنے اور لڑانے کے لئے بھی اربوں ڈالر مختص کئے جاتے رہے۔ عراق، کویت، مصر، شام، لیبیا، سوڈان، یمن، افغانستان اور ایران میں جو کچھ ہوا جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ آئندہ ہو گا وہ اسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ہے۔ اس ایجنڈے میں ایک نکتے کا اضافہ کیا گیا ہے، وہ ہے وسائل سے مالامال ممالک کو لوٹنا اور ان پر قبضہ کر کے اپنی تابعدار حکومتوں کو اپنی پسندیدہ شخصیات کے ذریعے کنٹرول کرنا جو اس ایجنڈے کا حصہ نہ بنے، اس کی حکومت کا تختہ الٹ دینا اور اگر پھر بھی کوئی نہ مانے تو اسے تختہ دار تک پہنچا دینا ، طے شدہ حکمت عملی نظر آتی ہے۔یہ حکمت عملی کوئی راز نہیں لیکن سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے کچھ اہم ملک اور اس سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اس مکروہ کھیل کا حصہ بننے کیلئے ہر زمانے میں بے تاب نظر آتی ہیں۔ ان کے دماغ میں یہ فتور ہوتا ہے کہ وہ ان طاقتوں کے ذریعے اقتدار میں آکر پھر اپنی ذہانت سے انہیں شکست دیتے ہوئے ان کے پنجہ استبداد سے آزاد ہو جائیں گے لیکن ایسا ہوتا نہیں۔گزشتہ پچاس برس میں اگر کسی ملک نے امریکی اور یورپی استعمار سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کی ہے تو وہ واحد اسلامی ملک ایران ہے، اس کے علاوہ تو سب امریکہ اور یورپ کے آلہ کار ہی بنے رہے۔ اب اس بات کے امکانات پیدا ہوئے ہیں کہ ایران کی ہمت اور بہادری سے متاثر ہو کر کچھ اور ممالک بھی حوصلہ کریں کیونکہ ایران نے دو ایٹمی قوتوں اور ان کے بغل بچوں کو شکست فاش دے کر ان کے ناقابل تسخیر ہونے کا فلسفہ آبنائے ہرمز میں غرق کر دیا ہے اور امریکہ جیسی بڑی طاقت کا صدر جنگ بندی اور اسرائیل کی جان بخشی کی بھیک مانگتا نظر آتا ہے۔ آج اس بلاجواز جنگ کو شروع ہوئے ساٹھ روز گزر چکے ہیں۔ اب امریکی آئین کے مطابق اسے پرکھا جائے گا۔ جنگ کے خلاف دنیا بھر میں رائے عامہ ہموار ہو چکی ہے، جس کا اثر امریکی کانگریس اور سینیٹ میں نظر آرہا ہے جہاں اب جائزے کے بعد اسے روکنے یا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس فیصلے پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہیں۔ ایران کو اس تاریخ کا انتظار تھا۔ اس نے میدان جنگ کے علاوہ سفارتی میدان میں بھی یہ جنگ جیتی ہے، اب دیکھنا باقی ہے ضمیر کے مطابق اور آئین و قانون کے مطابق کام کرنے کا حلف اٹھانے والے ضمیر کی آواز پر فیصلہ کرتے ہیں یا کہیں اور سے آیا ہوا فیصلہ سینے سے لگاتے ہیں۔متعدد مرتبہ اہم فیصلوں کے موقع پر دیکھا گیا کہ امریکی کانگریس اور سینیٹ میں ضمیر نام کی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ انہوں نے وہی کچھ کیا جو سی آئی اے اور پینٹاگون نے طے کیا یوں کیمیائی ہتھیار نہ ملنے کے باوجود عراق کو تاراج کرنے کے بعد اس کے تیل پر امریکی قبضہ موجود ہے۔ لیبیا میں انسانی حقوق ہر اعتبار سے محفوظ تھے مگر ان کو خطرے کا بہانہ بنا کر اسے تباہ کیا گیا۔ نائن الیون ایک فراڈ تھا، اس میں کوئی افغان یا کوئی مسلمان شامل نہ تھا لیکن معاملہ افغانستان کے وسائل کو لوٹنا تھا، یہاں دنیا کے سب سے بڑے لیتھیم کے ذخائر پائے جاتے ہیں، اس کی جغرافیائی اہمیت کے باعث امریکہ یہاں بیٹھ کر روس ، چین، بھارت، پاکستان، عرب اور خلیج ملکوں پر کنٹرول رکھنا چاہتا تھا لیکن افغانوں کی جرا¿ت و ہمت اور بہادری نے یہ خواب چکنا چور کر دیا۔ امریکہ آج بھی بگرام کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے، اس کے پہلے منصوبے کے مطابق ایران سے جنگ اسی اڈے سے لڑی جانا تھی۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے فرمائش کی تھی کہ اسے ہر قیمت پر بگرام کا اڈہ چاہئے۔ اس فرمائش کو پورا کرنے کا وعدہ کرنے کے بعد کچھ وقت مانگا گیا۔ پہلے امریکی منصوبے کے مطابق ایران پر حملہ 2027ءمیں کیا جانا تھا۔ امریکہ کا خیال تھا کہ اس وقت تک وہ بگرام میں اپنا ویسا ہی جنگی سیٹ اپ تیار کر لے گا جیسا اس نے ”الحدید“ اور بحرین میں تیار کیا تھا۔ اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری تھا کہ خطے میں دو جاری جنگوں میں پانسہ پلٹ گیا۔ روس نے یوکرین کو زیر کر لیا جبکہ حماس اور حزب اللہ نے اسرائیل کے بخیے ادھیڑ دیئے۔ اس موقع پر اسرائیل اور امریکی ایجنسیاں اکٹھے بیٹھیں۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ میں مشاورت ہوئی جس میں نیتن یاہو نے امریکی صدر پر زور ڈالا کہ اسے حماس اور حزب اللہ کا زور توڑنے کے لئے ایران پر فوراً حملہ کرنا ہے۔ ٹرمپ کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ ایران پر حملے کے بعد اس کے اتحادی روس اور چین کی توجہ ایران کی طرف مبذول ہو گی۔ یوں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو اس کا فائدہ ہو گا۔ نیتن یاہو نے امریکی صدر پر واضح کر دیا کہ وہ بگرام کی فتح تک انتظار نہیں کر سکتا، اسے ایک فوری کامیابی چاہئے جس کا فائدہ امریکہ کو بھی ہو گا۔ اس معاملے میں اسرائیل نے امریکہ کو دھوکا دیا اور بتایا کہ قریباً نصف صدی سے پابندیوں میں جکڑا ایران فقط تین روز میں فتح ہو جائے گا جس کے بعد وہاں اپنی پسند کی حکومت بنانے کے بعد اسرائیل ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گا۔ گریٹر اسرائیل کا خواب باآسانی پورا ہو جائے گا جبکہ ایرانی تیل مکمل طور پر امریکہ کے قبضے میں آجائے گا۔ ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ مشورہ سن کر امریکی صدر کی آنکھیں چمکنے لگیں ان کا اس وقت سنجیدہ مزاج اس تصوراتی فتح سے یکدم خوشگوار ہو گیا اور انہوں نے اس منصوبے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کو اس بات پر راضی کر لیا کہ ہم اس جنگ کی تیاری کرتے ہیں لیکن اس سے قبل جس آپریشن کی تیاری مکمل ہے اسے مکمل کرلیتے ہیں۔ یوں ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کا حکم دے دیا اور اس میں کامیابی کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ بس چند روز میں ایران ان کے قدموں میں ہو گا مگر ایسا نہ ہوا ایران کی حکمت عملی سے آج امریکہ اس کے قدموں میں ہے اور جنگ بندی کی بھیک مانگ رہا ہے۔ اب مذاکرات ایران کی شرط پر ہوں گے جبکہ روس اور چین گارنٹر ہوں گے، نوشتہ دیوار یہی ہے۔



