مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 132عبد الرحمن طارقمؤخر الذّکر تمام صاحبان ”سوئل سیکشن“ سے تعلق رکھتے تھے لیکن عبد الرحمن طارق ”وائر سیکشن“ میں کام کرتے تھے۔ لمبا قد، اچھا کُھلتا رنگ، بھربھرا جسم، کفایت شعاری کا ”بابا آدم“ اُس کا ریگولر آنا جانا نہ ہوتا تھا۔ اُس کی وجہ اُن کا اِرادتاً، گھر پر ٹھہر جانا نہ تھا، بلکہ لفٹ کا نہ ملنا ہوتا تھا۔ ساری عمر سوائے آخری عمر کے جب بچّے جواں ہو کر ملازم ہوگئے، کار رکھنے سے پرہیز ہی کیا۔ لفٹ لینے کی بھی طارق صاحب کی چوائس محدود نہ تھی۔ سائیکل، ریڑھی، ٹانگہ، بس، ٹریکٹر، کار، ٹرک جو بھی سہولت سے جلد ازجلد مل جائے اُس پر چھلانگ لگائیں گے اور ڈرائیور سے ذرا جلدی کرنے کی درخواست کرنا ہرگز نہیں بھوُلتے تھے۔ کھانے کا خرچہ دینے سے بھی بعض دفعہ طرح دے جاتے تھے یہ کہہ کر بھئی کہیں بھاگے جاتے ہیں۔ دے لے کے ہی جان چھوٹے گی۔ویسے مجموعی طور پر ایک شریف النفس آدمی تھے۔ کسی سے عناد یا بغض نہ پالتے تھے۔اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ سفر نامہ ”آسٹریلیا کے رنگ“بیٹی اَسماء ناز اور اُس کے میاں ریحان لطیف نے رمضان سے پہلے آرزوئے مِلن کا ڈول ڈال دیا۔ وُہ یہ کہ امّی اور ابّو آسٹریلیا میں آکر روزے رکھیں۔ خلوصِ دِل سے کیے گئے بلاوے کو کون ٹالے۔ پاکستان میں گرمی کی ستم ظریفیاں اور طویل دنوں کی الف لیلوی داستانوں کی سی طولانیاں تو پہلے ہی محلِّ نظر تھیں۔ فوراً ہاں کردی۔ یہ سفر نامہ میں اُسی فیملی کے نام کرتا ہوں جس کو ایک آنکھ جھپکتے بھی اپنے آباء کو فراموش کرنا گوارا نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ اِس اہل خانہ پر دُنیاوی اور اُخروی نوازشات سے سایہ فگن رہے۔ 3 جُون 2015ء سورج دِن کو چاروں ”اور“ آگ برسا کر، تن جُھلسا کر، مغرب کی پنہائیوں میں گم ہو چکا تھا۔ ہم تھے کہ سارا سفری سامان باندھ چکے تھے اور سفری دستاویزات ہاتھ میں تھامے، بیٹے طارق کامران کے آتے ہی گاڑی میں سوار ہو کر آدھے گھنٹے میں علاّمہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ جا پُہنچے۔تھائی ائیر لائن کی بورڈنگ بھی کچھ ہی دیر میں کھُل گئی اور ہم اپنے کاغذات گیٹ پر دکھا کر اندر بورڈنگ کے مراحل طے کرنے لگے۔ پورٹر ہمارا سامان لیے قدرے تیزی سے بھاگ دوڑ کر رہا تھا تاکہ ہمیں فارغ کر کے کسی دُوسرے مسافر کا ہاتھ پکڑے۔ اب ہم ویٹنگ ہال میں جا بیٹھے۔ وہاں لگے ٹیلیویژن پر نشر ہونے والی خبروں پر کان دھرے تھے کہ بلاوا آیا تو جہاز میں جا سوار ہوئے۔ مقررہ وقت پر سڈنی ائیرپورٹ پر جہاز لینڈ کر گیا اور ہم کسٹم کلیئرنس کے بعد اپنا اپنا سامان اکٹھا کرنے لگے۔ ایک ٹرالی پر سامان رکھ کر باہر آئے ہمیں لینے کے لیے بیٹی اَسما ء ناز اور اُس کا خاوند ریحان لطیف اور بچّے صبیح اور عریشہ آئے ہوئے تھے۔ رشتوں کا تقّدس اِس ملاپ سے اُمڈ اُمڈ آیا۔ خوشیوں اور مَسرتوں کو دامن میں سمیٹے گاڑی میں بیٹھے اور ایک گھنٹہ کی مسافت پر 41-Rown Tree St. Quakers Hills جا پہنچے۔ سیر و سیاحت کے دوران جن مقامات تک رسائی ہوئی Luna Park Sydney، ہمالیہ ہوٹل، وزیر اعلیٰ کا افطار ڈنر، ایک فلم دیکھی “Inside Out” بلیک ٹاؤن ہسپتال میں بیگم صاحبہ کے علاج کے سلسلے میں بارہ گھنٹے گزارے، Lake Edge Park، عید بازار، Lakemha آسٹریلیا میں عید میلہ، Snowy Mountains کی سیر، سڈنی اولمپک پارک میں گزاری ایک سہ پہر، پاکستان کے یوم آزادی پر سڈنی میں شرکت۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ سابق انٹرنیشنل کرکٹر کے بیٹے پر اوباش نوجوانوں کا تشدد
خلوصِ دِل سے کیے گئے بلاوے کو کون ٹالے،لفٹ لینے کی چوائس محدود نہ تھی، طویل دنوں کی الف لیلوی داستانوں کی سی طولانیاں تو پہلے ہی محلِّ نظر تھیں
RELATED ARTICLES



