73.6 F
Pakistan
Sunday, April 26, 2026
HomeBreaking Newsآسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش

آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش

اکیسویں صدی کی شروعات ہی جنگوں سے ہوئی۔ امریکی جنگجوئی کا اصل ہدف تو صیہونی عزائم کی تکمیل میں مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدلنا تھا۔ بش نے چھوٹتے ہی افغانستان میں اسے صلیبی جنگ کا نام دیا تھا۔ وہاں ناکام رہے۔2021 ءکے بعد امریکہ اسرائیل نے 2023 ءسے فلسطین پر مکمل قبضے کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ اس اثنا، عرب بہار میں کئی عرب، شمالی افریقی ممالک کھدیڑے جا چکے تھے۔ شام جو گریٹر اسرائیل اور ہرمجدون (آرمیگیڈون) کے اعتبار سے اہم ترین تھا، اسے مطلوبہ منصوبے کے مطابق تباہ کھنڈر کیا جا چکا تھا۔ غزہ اور ساتھ ہی مغربی کنارے پر بھی زور آزمائی میں تمام امریکی، یورپی اسلحہ آزما لیا۔ اگلے مرحلوں میں لبنان اہم تھا۔ دنیا کا دھیان بٹائے رکھنا بھی لازم تھا۔ غزہ پر دنیا کو ’بورڈ آف پیس‘ ڈرامے میں الجھا دیا۔ اسرائیل وامریکہ کی اگلی مشترکہ جنگ جوئی ایران پر تھی۔ لگے ہاتھوں پھلتے پھولتے اہم ترین تیل اور اس کی مصنوعات سے مالا مال مسلم ممالک کی قوت پر ضرب بھی صیہونی قوتوں کا ہدف تھا۔ ایران پر حملے سے ایک تیر سے سبھی شکار مطلوب تھے۔ جواباً عرب ممالک زخمی کیے گئے۔ پورا خطہ درہم برہم ہو گیا۔ امریکہ کواپنے ہتھیاروں کی فروخت کا سنہرا موقع ہاتھ لگا۔ عرب ممالک میں سیاحت کی صنعت پر شدید ضرب لگی بشمول دیگر صنعتوں کے۔ امریکہ دوستی کا نشہ بھی کچھ ٹھکانے لگا۔ جانی مالی نقصان اس پر مستزاد۔ امریکہ اسرائیل نے حملہ تو ایران پر کیا تھا۔ مگر جوابی حملے میں تمام مسلم خلیجی ممالک اچانک، نہایت غیر متوقع ہمہ نوع نقصانات سے دوچار ہوئے۔ جو توجہ طلب ہے۔ اس قرض کو اتار کر اسرائیل (جس کے براہیمی معاہدے والے دوست زخم کھائے پڑے تھے!) سوئے لبنان چلا۔ شام پر تو اسرائیل کی مسلسل یک طرفہ چاند ماری جاری رہتی ہے۔ گولان کی پہاڑیوں پر چڑھا سوئے دمشق اس کی نظریں لگیں ہیں۔ کیونکہ بڑی جنگ تو وہیں ہوگی! 28 فروری تا 15 اپریل ایران پر اسرائیلی،امریکی حملے سے3375جان بحق اور 26500 زخمی ہوئے۔اسی دورن ایرانی حملوں سے خلیجی ممالک اور سعودی عرب کو جانی اور بہت زیادہ مالی نقصان پہنچا۔ایک ماہ کی جنگ میں عرب ممالک کو UNDP رپورٹ کے مطابق 194 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ سوڈان، یمن، لبنان میں بڑی آبادیاں متاثر ہوں گی۔ نیز تخمینہ یہ ہے کہ 40 لاکھ افراد خطِ غربت سے خطے میںنیچے جا پڑیں گے۔ 37 لاکھ بے روزگار ہوں گے۔ اندازہ لگائیے کہ جنگ کے اثرات، طوالت کے نتیجے میں تیل گیس کی برآمدات رکنے اور خلیجی ممالک میں توانائی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے پر بمباریوں کے نقصانات کا معاشی زلزلہ شدید ہوگا ۔ ایران، امریکہ مابین مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں شروع ہونا تھا۔ سنجیدگی کا عالم ٹرمپ سرکار کا یہ ہے کہ عین مذاکرات کے دہانے پر امریکہ نے ایرانی جھنڈا لگا کارگو جہاز ہرمز میں پکڑ لیا۔ ابھی یہ کہے امریکہ کو چند گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ مذاکرات کے لیے امریکی ٹیم پہنچ رہی ہے، کہ ایران کا حوصلہ آزمانے کو یہ اڑنگا لگا دیا۔ ایرانی بندرگاہوں پر محاصرہ تو تھا ہی۔ ایران نے اگر چہ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کر رکھا تھا۔ مگر اب ان دونوں وجوہات نے گلوب بھر میں ایران امریکہ مذاکرات فالٹ لائن پر جھٹکے دینے شروع کر دیئے۔ امریکی C-17 جہاز، (گلوب ماسٹر، جو افغانستان سے شکست کھا کر نکلنے والا معروف جہاز ہے ،عظیم الجثہ!) امریکی بلٹ پروف گاڑیوں، سازوسامان اور سیکورٹی ٹیموں کو لیے19اپریل سے نور خان ایئر بیس پر آئے کھڑے ہیں۔ انتظار میںکاروبارِزندگی کو بھی مسلسل تلپٹ ہے۔ اسلام آباد آنے والی کئی موٹر ویز پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بند ہیں۔ ہر طرف ٹرکوں،بسوں کی لمبی لائنیں لگی ہیں! امریکی، ایرانی وفد کے آنے، نہ آنے کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال اور گو مگو میں سبھی معلق ہیں۔ ٹرمپ کی الٹتی پلٹتی زبان ، جھوٹ اور دھوکا دہی ،غیر ذمہ دارانہ کار گزاریاں، بیزار کن ہیں۔ سفارتی ادب آداب تو موصوف کی لغت سے یوں بھی خارج ہیں۔ اسلام آباد میں ہوٹل بک کیے میزبان منتظر ہیں۔ 20 ہزار سیکورٹی افراد متعین ہیں۔ شہر دم سادھے بیٹھا ہے۔ میڈیا الرٹ جاری کرتا رہتا ہے ذو معنی، ایرانی وفد آ رہا ہے، شاید نہیں آ رہا۔ دنیا میں سرمایہ کار نظریں گاڑے بیٹھے ہیں۔ خود امریکہ اور ایران کے لیے جنگ بندی نہایت اہم ہے۔ مگر کمزوری کا تاثر دینے سے بچنے کو یہ باہمی زور آزمائی ہے اور دنیا مخمصے میں پھنسی بیٹھی ہے۔ ان کی لڑائی میں ہمارا نظام تعلیم ، تجارت، نظامِ زندگی معلق ہو چکا ہے۔ خلیجی ممالک کے نقصانات کی نوعیت دوسری ہے۔ ہمارے اپنے گوناگوں مسائل کی طرف پلٹنے کی مہلت ہی حکومت کو نہیں مل رہی۔ ثالثی میں ہم دوڑے پھر رہے ہیں کب سے! ان دونوں مذاکرات کاروں بیچ ،ہاں/نہیں رخنے کے ہاتھوں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔بالاآخر ایرانی وزیرِ خارجہ جمعے کو اسلام آباد پہنچے، لیکن فرمایا امریکہ سے ملاقات نہیں کرنی! ادھر کشنر اور وِٹکاف اسلام آباد آنے کو ہیں۔(عجب تماشہ ہے!) پیش رفت کی صورت میں نائب صدر وینس اور ٹرمپ بھی آ سکتے ہیں! گلوبل مارکیٹ بحران کا شکار ہے۔ ٹرمپ کی ٹرمپیا نہ حرکات کے ہاتھوں امریکہ نہ صرف بین الاقوامی طور پر ساکھ کھو بیٹھا ہے، بلکہ داخلی طور بھی انتشار کا شکار ہے۔ خود ٹرمپ کی اپنی پسندیدگی کی شرح 37 فی صد گری ہے۔اندریں حالات ٹرمپ نے پاکستان کا سہارا لیتے ہو ئے، جنگ بندی میں توسیع کر دی ہے تاآنکہ ایران اپنا جامع مو¿قف پیش کرے اور مذاکرات حتمی نتیجے تک پہیچ سکیں۔ ٹرمپ کا محبوب اسرائیل! دنیا کی توجہ بٹ گی¿۔غزہ کے عوام بدستور بھوک، امراض، بدلتے موسموں کی شدت، پسو، چوہوں، حشرات الارض،پھٹے خیموں کی بلاو¿ں میں گھرے بیٹھے ہیں! روزانہ 8-10 فلسطینی اسرا ئیل کے ہاتھوں شہید ہو رہے ہیں۔ امریکی عوام میں 60 فی صد اسرائیل کو ناپسند کرتے ہیں۔ دنیا بھر میںبھی اسرائیل کی ناپسندیدگی غیر معمولی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ میڈیائی قلابازیوں سے دنیا بھر کی عقل سے کھیلا نہیں جاسکتا۔ اب دنیا جلد یا بدیر حقیقت تک رسائی پالیتی ہے۔ یہود مخالف تعصب کا الزام ( Anti – Semitism) ایک مذاق بن چکا ہے۔ حال ہی میںکر یہہ صورت اسرائیلی آبادکار فوجی کی بھیانک تصاویر اور ویڈیو (لاایکسپریس ۔ اٹلی) جو دنیا بھر میں شدید نفرت کا نشانہ بنا، فلسطینی عورت کو ہراساں کرتا ہوا۔ وہ ضرب المثل ہے۔ فی نفسہ اتنی نحوست دنیا نے کبھی کسی انسانی چہرے پر نہ پائی ہوگی۔ اسے دیکھ کر قرآن میں ان کا تذکرہ اپنی ایسی ہی کرتوتوں کے عوض: ’بندر ہو جاؤ دھتکارے ہوئے۔‘ مجسم آن کھڑا ہوتا ہے۔ یہ ایک فرد کی نہیں ایک پوری قوم کی تاریخ کی نمائندگی کرتا چہرہ اور اعمال ہیں۔ غزہ پر جو گزری، (امریکہ اس ہولناک جرم میںبرابر کا شریک ہے بشمول اپنے بہت سے مزید اتحادیوں کے!) جابجا قید خانوں میں اور بر سر زمین آج بھی گزر رہی ہے، ہر حساس دل کا ناسور ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں پولیس اور سیکورٹی والوں کی تربیت ’موساد‘ ہی نے کی ہے۔ اب سمجھ آتا ہے کہ ایسا کیوں ہوگا کہ درخت اور پتھر پکار اٹھیں گے کہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہے! قرآن میں جہنم کے بعض نہایت ہو لناک مناظر اور جہنمیوں کی ضیافت کے سامان پر دل دہل جاتا تھا! اتنی شدت؟ آج اسرائیلی، امریکی وحشت، حکمرانوں کے جرائم، عوام الناس کو دیے گئے عذاب بھری زندگی کے جھٹکے، جنگوں، عقوبت خانوں میں ظلم کی لامنتہا داستانیں! درندگی، بے حیائی، معصوم بچوں، صنف ِنازک پر ڈھائی قیامتیں! اب سب سر کی آنکھوں نے دیکھ لیا۔ قیامت آنی ہی چاہیے۔ جزا و سزا ناگزیر ہے۔ لمحہ لمحہ اللہ کے ہاں محفوظ ہے۔ اللہ کی سائنس جامع، مکمل، شفاف، حساب کتاب اربوں کھربوں انسانوں کا رکھتی ہے۔ وہ دن آکر رہے گا جب سارے بھید کھل جائیں گے۔ ذرہ برابر نیکی جزا پائے گی۔ ذرہ برابر بدی چھپی نہ رہ سکے گی الا ماشاءاللہ! ہاں پوپ لیؤ شاباش! امر بالمعروف نہی عن المنکر مسلمان بھول گئے۔ حق گوئی ہمارے ہاں گونگی ہو گئی۔ لیؤ نے ٹرمپ اور افریقی ممالک کے وسائل لوٹنے والوں، بدعنوان مغربی و مقامی حکمرانوں کے لتے لیے! سبحان اللہ! سید نا عیسیٰ علیہ السلام کو تو آنا ہے۔ یہودی ان کے بھی بدترین دشمن تھے اور ہیں۔ ان کے آنے پر ہمارے اور آپ کے محبوب نبی ؑ اللہ. .. .روح ؑاللہ! ہم، آپ ایک ہوں گے۔ حق پرست عیسائی حقیقت جان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ وہ دن تو آنا ہے جسے روکنے کی کوشش میں دجالی قوتیں کذب و افترا، دھوکا دہی، جنگ بازی کے طوفان اٹھا رہی ہیں۔ ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا. .. .جب دنیا عافیت کا گہوارہ بنے گی۔ باذن اللہ! آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوشاور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments