مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 128غار حرا جبل نور پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ نیچے آباد ی ”مسجد جن“ یہاں رسول پاک صلى الله عليه وسلم نے جنوں کو قرآن پاک کی تعلیم دی۔”مسجد فتح“ مکہ فتح ہونے پر یہاں جھنڈا لگایا گیا تھا۔”مسجد شجر“ درخت کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اشارہ کیا تو درخت خود چل کر آیا۔پھر واپسی ہوٹل ہوگئی۔30-4-2014. .. .. . مغرب اور عشاء کی نمازیں حرم میں ادا کیں۔2-5-2014. .. .. . شہر سے باہر نکلے تو ”مرخم کالج آف ٹیکنالوجی“پہاڑیاں اپنا تشخص کھوئی جا رہی ہیں اور نئی آبادیاں “Sky Srappers” اُن کو پیچھے سے پیچھے دھکیلتے جا رہے ہیں۔4-5-2014. .. .. . مکہ مکرمہ سے مدینہ منورّہ کا سفر 8-5-2014. .. .. . روم نمبر 310 میں قیام9-5-2014. .. .. . مسجد نبوی ؐ میں مغرب عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھتے رہے اور جمعۃ المبارک ادا کیا۔ مسجد میں ایک بڑا اجتماع ہوا۔10-5-2014. .. .. . وادیٔ جن دوبارہ گئے ندیم کے ساتھ۔کل 5فیملیز اور2 گاڑیاں۔ وہاں پہنچ کر ٹرمینل پر ڈیرہ ڈال دیا۔ ایک لڑکا گم ہوگیا۔ تلاش جاری رہی پھر دوسرا لڑکا گم ہوگیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ کرایہ پر دور جہاں روشنیاں بلنک کرتی ہیں خود ہی جا کر موٹر بائیک کرایہ پر لے کر چلانے کے لیے چلے گئے۔ بڑی دوڑ دُھوپ کے بعد معّمہ حل ہوا اور وہ ملے۔ جان میں جان آئی تو کھانے کی بساط بچھا دی۔ سب نے دل کھول کر پیٹ کی حوصلہ افزائی کی۔ واپسی پر جاتے ندیم نے دکھائی کہ نیوٹرل گیئرمیں گاڑی آگے کو سلوپ ہونے کے باوجود پیچھے کی طرف جاتی ہے۔ اور آتے ہوئے بھی نیوٹرل گیئر میں بھاگتی جارہی تھی۔ 110-100 کی سپیڈ پکڑ گئی۔ مسجد قبلتین میں نماز عشاء ادا کی۔ پھر مدینہ منورہ جا کر ریسٹورنٹ سے کونز لے کر کھائیں۔ ندیم کا لڑکا یہ کونز لے کر آیا۔ پھر ہمیں ہوٹل پر چھوڑا۔ مدینہ منورہ میں دوبارہ ایک ہفتہ بھی قیام کے دوران زیاہ سے زیادہ وقت حرم نبوی صلى الله عليه وسلم میں گذرا۔ نوافل درود و سلام اور روضہ رسولؐ پر حاضری دی۔ آخری دن جن اصحاب نے دعا کے لیے کہا تھا سب کا نام لے لے کر سلام پہنچایا اور دعائیں کیں کہ یا اللہ سب کی دعائیں قبول فرما اور میری حاضری بھی قبول فرما اور میری جھولی اپنی رحمتوں سے بھر دے۔ 12-5-2014. .. .. . واپسی جدہ ائیرپورٹ سے سوار ہو کر لاہور انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اُترے۔ سبھی احباب ائیرپورٹ پر لینے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ سب سے ملے اور پھر اُن کی معیت میں گھر پہنچے۔ چوہدری غلام حسین صاحب 1953ء میں جب میں ”لینڈ ریکلیمیشن پنجاب“ میں بطور ”ریسرچ اسسٹنٹ“ بھرتی ہوا تو لمبے قد متناسب جسم کلین شیو چوہدری صاحب پہلے سے موجود تھے۔ حسِّ مزاح لیے چوہدری صاحب دوستوں کی محفل میں ایک خوشگوار اضافہ ہوا کرتے تھے۔ جہاں تک دفتری کام کا تعلق تھا تو اُن کا ریسرچ کے شعبہ میں عبور حاصل تھا اور شاید ہی کبھی شکایت کا موقع دیا ہوگا۔ساری سروس لاہور میں واقع کینال بنک چو بچّہ پُل لیبارٹری میں ہی پوری کی اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔کیلکولیٹیڈ ذہن کے مالک، روپیہ، پیسہ سوچ بچا رکر کے خرچ کرتے اور فضول خرچی سے ہمیشہ پرہیز کیا۔ خوش پوش تھے اور کبھی بغیر شیو کیے دفتر آتے نہ دیکھا۔ وقت پر شادی کی اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزاری۔ اللہ تعالیٰ نے 2ہونہاربیٹوں سے نوازا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد دفتر کے ریٹائرڈ سینئر سٹیزن کے باقاعدہ اجتماع ہوا کرتے تھے۔ وہ اس کے ممبر تھے اور وہ وہاں خورونوش کے سامان سے لدے پَھندے پہنچا کرتے اور باقاعدہ حساب کتاب رکھتے اور سبھی سے وصولیاں کرتے۔ یہ کام اُنہوں نے دس بارہ سال کیا ہوگا لیکن کبھی بھی ماتھے پر شکن نہ آیا۔ بڑے ہی تحمل مزاجی سے یہ کام سر انجام دیتے رہے اور مجلسوں میں شامل ہو کر اپنی حسِ ظرافت سے محفل کو گل و گلزار بناتے رہے۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کے ونگز کو بارز کی حدود سے دیس نکالا دیاجانا چاہیے،وکلاء کو پوری آزادی ہے کہ سیاست میں حصہ لیں لیکن بار کے پلیٹ فارم سے نہیں
یہ کام اُنہوں نے دس بارہ سال کیا ہوگا لیکن کبھی ماتھے پر شکن نہ آیا،تحمل مزاجی سے سر انجام دیتے رہے اور حسِ ظرافت سے محفل کو گل و گلزار بناتے رہے
RELATED ARTICLES



