64.5 F
Pakistan
Sunday, April 19, 2026
HomeEntertainmentطلبہ یاد کیا ہوا سبق کیوں بھول جاتے ہیں؟ وجہ جانیے

طلبہ یاد کیا ہوا سبق کیوں بھول جاتے ہیں؟ وجہ جانیے

بہت سے والدین اور اساتذہ اس کشمکش میں رہتے ہیں کہ بچہ گھنٹوں کتابوں کے سامنے بیٹھنے اور سبق یاد کرنے کے باوجود امتحان کے دوران سب کچھ کیوں بھول جاتا ہے؟ تعلیمی ماہرین اور سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ یہ مسئلہ ”یادداشت کی کمزوری“ کا نہیں بلکہ ”سیکھنے کے غلط انداز“ کا نتیجہ ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تر طلبہ رٹا سسٹم پر انحصار کرتے ہیں، جس میں متن کو بغیر سمجھے بار بار دہرا کر یاد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طریقے سے سبق وقتی طور پر تو یاد ہوجاتا ہے لیکن دماغ میں محفوظ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے امتحان کے وقت معلومات ذہن سے غائب ہو جاتی ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق، رٹا لگانا معلومات کو دماغ کے اس حصے میں رکھتا ہے جہاں ڈیٹا بہت جلد حذف ہو جاتا ہے۔ جب طالب علم بغیر سمجھے صرف الفاظ یا جملے یاد کرتا ہے، تو دماغ ان کے پیچھے موجود منطق اور تصور کو نہیں سمجھتا اوراسے “عارضی معلومات یا ”شور“ سمجھتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ معلومات طویل مدتی یادداشت کا حصہ نہیں بن پاتیں۔ 2026 میں مشہور سائنسی جریدے نیچر ریویو سائیکالوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جب بچہ کسی چیز کو سمجھ کر سیکھتا ہے تو دماغ میں نیورل نیٹ ورک مضبوط ہوتا ہے، جس سے معلومات طویل عرصے تک محفوظ رہتی ہیں اور آسانی سے یاد آ جاتی ہیں۔ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ جب دماغ کو یہ معلوم ہو کہ کوئی واقعہ ”کیوں“ اور ”کیسے“ ہوا، تو وہ اس معلومات کو ایک فولڈر کی طرح محفوظ کر لیتا ہے۔ 2025 کی ایک نفسیاتی تحقیق کے مطابق، سمجھ کر پڑھنے والے طلبہ نہ صرف سبق یاد رکھتے ہیں بلکہ اس علم کو نئی اور غیر متوقع صورتحال میں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ رٹّا سسٹم میں ایک اور بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں پرانی اور نئی معلومات کے درمیان کوئی مضبوط تعلق قائم نہیں ہو پاتا، جس کی وجہ سے یادداشت کمزور پڑ جاتی ہے۔ سبق بھولنے کی بنیادی وجوہات سائنس دانوں نے سبق بھولنے کی تین بڑی وجوہات بیان کی ہیں: بنیادی تصور کا فقدان: اگر طالب علم کو بنیادی ڈھانچہ سمجھ نہیں آیا، تو اوپر کی معلومات ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ تعلق کا نہ ہونا: نیا سبق پچھلے علم سے جڑا ہوا نہ ہو تو دماغ اسے غیر ضروری سمجھ کر بھلا دیتا ہے۔ دباؤ اور اضطراب: امتحان کا خوف دماغ کے اس حصے کو سست کر دیتا ہے جو معلومات کی بازیافت کا ذمہ دار ہے۔ یادداشت کو فولادی بنانے کے سنہری طریقے ماہرینِ تعلیم نے طلبہ کے لیے درج ذیل مؤثر حکمتِ عملیاں تجویز کی ہیں: فعال مشق: کتاب بند کر کے اپنے الفاظ میں سبق کو دہرانے کی کوشش کریں۔ منطقی سوالات: پڑھتے وقت ”کیوں؟“ اور ”کیسے؟“ کے سوالات کریں، تاکہ دماغ کی جستجو برقرار رہے۔ موضوعات کی چھوٹے حصوں میں تقسیم: طویل ابواب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا اور بنیادی تصورات کو مضبوط کرنا بھی مؤثر حکمت عملی ہے۔ عملی مثالیں: نصابی باتوں کو روزمرہ زندگی یا عام مثالوں سے جوڑیں تاکہ وہ حافظے کا مستقل حصہ بن جائیں۔ سائنس یہ واضح کرتی ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف معلومات کا ذخیرہ کرنا نہیں بلکہ فہم و ادراک حاصل کرنا ہے۔ اگر طلبہ رٹنے کے بجائے سمجھ کر سیکھنے کی عادت اپنا لیں تو نہ صرف بھولنے کا مسئلہ کم ہو جاتا ہے بلکہ وہ زندگی بھر سیکھنے اور بہتر سوچنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لیتے ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments