79.1 F
Pakistan
Monday, April 20, 2026
HomeBreaking Newsایران، امریکہ امن معاہدہ، فاتح صرف پاکستان !

ایران، امریکہ امن معاہدہ، فاتح صرف پاکستان !

پاکستان فاتح ہو گا۔ پاکستان کامیاب ہونے جا رہا ہے۔ نصرت پاکستان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔ پاکستان وہ کام کر رہا ہے جو 193 ممالک کی نمائندہ عالمی تنظیم اقوام متحدہ کو کرنا چاہئے تھا۔ اقوام متحدہ قائم ہی اس لئے کی گئی تھی کہ وہ ممبر ممالک کے درمیان معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹائے۔ جنگ و جدل کی صورت میں صلح و امن قائم کرے لیکن اقوام متحدہ ایران اور امریکہ کے درمیان 45 سالوں سے قائم جنگی فضا ختم نہیں کرا سکی۔ انقلاب ایران کے بعد 1979ءسے ہی امریکہ اس انقلاب اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کے خلاف ہے، اسے ختم کرنے اور نقصان پہنچانے کی کاوشیں کر رہا ہے۔ اس کام میں سلطنت برطانیہ کی ناجائز تخلیق کردہ ریاست اسرائیل بھی شریک ہے۔ امریکہ نے اپنے پروپیگنڈے کے ذریعے اقوام مغرب کے دلوں میں ہی نہیں دماغوں میں بھی بٹھا دیا ہے کہ ایران کی انقلابی حکومت بنیاد پرست اور دہشت گرد ہے۔ اقوام مغرب تھیوکریسی کے خلاف ہیں۔ وہ مذہب اور ریاست کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔ یہ سمجھ انہوں نے طویل جدوجہد کے ذریعے حاصل کی ہے۔ یورپ چرچ کے ماتحت چلتا رہا ہے۔ بادشاہیں چرچ کے تعاون اور چرچ کے زیر سایہ چلتی رہی ہیں۔ ایک عرصہ تک قائم اس اتحاد نے مفاد پرستانہ اور ظالمانہ حکمران کی شکل اختیار کر لی تھی۔ یہ ایک طویل تاریخی عمل ہے کہ کس طرح چرچ کو گرجہ گھروں تک محدود کر دیا گیا اور بادشاہیں ختم ہو گئیں اور پھر خالصتاً اور مذہبی جمہوری دور کا آغاز ہو ا۔ یورپ میں چرچ اور بادشاہ کے ملاپ کا دور تاریک دور اور ظالمانہ طرز حکمران جانا جاتا ہے۔ چرچ کی حکمرانی تھیوکریسی ایک ظالمانہ نظام کے طور پر مغرب کے ذہنوں میں رچا بسا ہوا ہے، اس لئے ایران میں آیت اللہ اور اس کے ادارے کی ریاست پر گرفت کو مغرب تھیوکریٹک حکمرانی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ولایت فقیہہ کا تصور خالصتاً شیعی تصور دین ہے، اس کا اسلام سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے۔ ایرانی طرز حکمرانی نہ صرف مغرب میں بلکہ عالم اسلام میں بھی قبولیت حاصل نہیں کر سکا ہے۔ ایران کی انقلابی حکومت ملاؤں اور ان کی ریپبلکن گارڈ (پاسداران انقلاب) کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ گزرے 45 سالوں کے دوران یہ حکومت امریکہ اور اقوام مغرب کے ساتھ لڑتی جھگڑتی رہی ہے ۔حالیہ جنگ کے دوران امریکہ و اسرائیل نے اسے تباہی و بربادی کی ممکنہ طور پر آخری منازل کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ایرانی معیشت مکمل طور پر تباہ و برباد ہو گئی ہے۔ حال ہی میں ایرانی حکومت نے ایک کروڑریال کا نوٹ جاری کیا ہے جس کے بدلے میں شاید 7یا 8 ڈالر ملتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران نے امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف جس ثابت قدمی کا ثبوت دیا ہے وہ حیران کن ہے۔ میزائل باری اور ڈرون حملوں کے ذریعے ریاست اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو جس طرح نشانہ بنایا گیا ہے اس سے اسرائیل اور امریکہ کی اسلحی و تکنیکی برتری کا پول بھی کھل گیا ہے۔ امریکہ جنگ نہیں ہارے گا۔ ایران اسے فتح یاب نہیں ہونے دے رہا ہے۔ پاکستان نے ثالث بن کر دونوں فریقین کو اسلام آباد میں ایک میز پر آمنے سامنے بٹھا دیا ہے۔ براہ راست مذاکرات کا ایک دور بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہوا تو فریقین نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ڈپلومیسی نے مذاکرات کے اگلے مرحلے کو ممکن بنا دیا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا ہے کہ ایران ڈیل ہوئی تو وہ اسلام آباد جائیں گے۔ پاکستان عالمی سفارت و سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ اسلام آباد معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان فریقین کا قابل اعتماد اور قابل بھروسہ ملک بن چکا ہے۔ ایرانی قیادت پاکستان پر اعتماد کر رہی ہے۔ وہ پاکستان کو اپنے قومی مفادات کا نگہبان قرار دے چکے ہیں۔ دوسری طرف امریکی قیادت پاکستان کو مذاکرات جاری رکھنے کا کہہ چکی ہے۔ پاکستان ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان بھی موثر پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ کیا یہ پاکستان کی ڈپلومیٹک کامیابی کی علامت نہیں ہے کہ پاکستان کی کاوشوں کے باعث ایران سعودی عرب جنگ نہیں ہوئی۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت اپنی ہوائی فورسز سعودی عرب منتقل کر کے سعودی عرب کو کسی ممکنہ اسرائیلی جارحیت سے محفوظ بنا ڈالا ہے۔ پاکستانی شاہین سعودی سرزمین پر اسرائیلی سرحدات کے ساتھ سینہ تانے کھڑے ہیں۔ یہ ایٹمی شاہین ہیں۔ زندہ و پائندہ ایٹمی میزائل ان شاہینوں کی دسترس میں ہیں اور کوئی بھی میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے سے پہلے 100 بار نہیں ایک ہزار بار سوچے گا۔ پاکستان اس سے پہلے دنیا کی سب سے بڑی جمہوری مملکت، ایٹمی طاقت کو ناکوں چنے چبوا کر اپنی عسکری برتری کا لوہا پوری دنیا سے منوا چکا ہے اور اب اسلام آباد معاہدے کے ذریعے ایران، امریکہ امن معاہدہ کروا کر اپنی سفارتی برتری بھی ثابت کرنے جا رہا ہے۔ پاکستان امن کا پرچارک ملک ہے۔ ہماری ریاستی پالیسی امن کے فروغ سے جڑی ہوئی ہے اور ایران، امریکہ مذاکرات کروا کر ہم پوری دنیا پر یہ ثابت کر رہے ہیں اور کر چکے ہیں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔ ایران امریکہ مذاکرات کا اگلا دور شروع ہونے کو ہے اور یہ حتمی ہو گا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ڈیل ہو جائے گی، کوئی فاتح نہیں ہو گا، کوئی مفتوح نہیں کہلائے گا۔ ہاں صرف اور صرف پاکستان فاتح ہو گا، ان شاءاللہ۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments