وزارت تجارت کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت نے وفاقی کابینہ کی منظور کردہ پالیسی کے مطابق پانچ سال تک پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد میں دلچسپی رکھنے والے درآمد کنندگان کی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ممکنہ درآمد کنندگان کی رجسٹریشن کرے تاکہ ایک جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جا سکے اور شعبے میں ریگولیٹری نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ نئے طے شدہ معیار کے تحت صرف وہ کمپنیاں کمرشل درآمد کی اہل ہوں گی جو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت رجسٹرڈ ہوں۔ واحد ملکیت میں ہو جبکہ غیر رجسٹرڈ اداروں کو اس اسکیم سے خارج کر دیا گیا ہے تاکہ شفافیت اور کاروبار کی باقاعدہ حیثیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہدایت نامے کے مطابق کمپنی کے میمورنڈم اور آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن میں واضح طور پر موٹر گاڑیوں، سسٹمز یا پرزہ جات کی درآمد کو بنیادی کاروبار کے طور پر درج ہونا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کے پاس درست نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) ہونا ضروری ہے اور انہیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ فعال سیلز ٹیکس فائلر ہونا چاہیے۔ تمام کمرشل درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ درآمد شروع کرنے سے قبل ای ڈی بی سے باضابطہ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔ اگرچہ کم از کم ادا شدہ سرمایہ کی حد وفاقی کابینہ طے کرے گی، تاہم کمپنیوں کو اپنی سرمایہ کاری کی تفصیلات سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں ظاہر کرنا ہوں گی۔ مالی شفافیت اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے تمام درآمدی لین دین، بشمول بیرونِ ملک گاڑیوں کی خریداری اور ڈیوٹی کی ادائیگی، پاکستان کے منظور شدہ بینکنگ چینلز کے ذریعے کرنا لازمی ہوگا۔ پالیسی کی ایک اہم شق صارفین کے تحفظ اور درآمد شدہ گاڑیوں کے طویل مدتی استعمال سے متعلق ہے۔ درآمد کنندگان کو لازمی ہوگا کہ وہ خود یا شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں بعد از فروخت سروس نیٹ ورک قائم کریں، جس میں تھری ایس سہولیات (سیلز، سروس اور اسپیئر پارٹس) شامل ہوں۔ ان مراکز میں تربیت یافتہ ٹیکنیشنز، جدید ڈائیگنوسٹک آلات اور اصل پرزہ جات کا مناسب ذخیرہ موجود ہونا چاہیے۔ درآمد کنندگان کو یہ تحریری ضمانت بھی دینا ہوگی کہ گاڑی کی متوقع عمر تک ملک بھر میں اصل اسپیئر پارٹس کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ بڑے درآمد کنندگان مشترکہ سہولیات بھی قائم کر سکتے ہیں۔ معیار اور قواعد کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے گاڑیوں کی شپمنٹ سے قبل ای ڈی بی سے منظور شدہ اداروں سے پری شپمنٹ انسپیکشن (پی ایس آئی) لازمی ہوگا، جو اس بات کی تصدیق کرے گا کہ گاڑی 30 ستمبر 2025 کے حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق ہے۔ پاکستان پہنچنے کے بعد ہر گاڑی کی دوسری انسپیکشن ای ڈی بی کے مقرر کردہ مرکز پر کی جائے گی، جس کا خرچ درآمد کنندہ برداشت کرے گا، تاکہ اصل حالت کی تصدیق ہو سکے۔ کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026



