65.6 F
Pakistan
Wednesday, November 4, 2026
HomePoliticsمصدقہ و غیر مصدقہ معلومات

مصدقہ و غیر مصدقہ معلومات

تحقیق کے کچھ ایسے شعبے بھی ہیں۔ جن کا ذکر نصاب میں نہیں ملتا۔اور تحقیق کی کچھ ایسی جدید اور خودمختار اصناف بھی ہیں۔جن سے شاید بڑے بڑے تحقیقی ادارے بھی ناواقف ہیں۔ مثلاً ایک تحقیق وہ ہوتی ہے جس کے لیے کتابوں اور حوالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری وہ جو انٹرویوز اور مشاہدات کے ذریعے مکمل ہوتی ہے۔ لیکن ایک تیسری قسم بھی ہے جسے ہم ”گلی محلے کی زبانی تحقیق“ کہہ سکتے ہیں۔ یہ تحقیق اتنی وسیع، ہمہ گیر اور تیز رفتار ہوتی ہے کہ اس کے سامنے جدید ترین ڈیٹا بیس بھی پانی بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔اس شعبے کے محققین کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے پاس نہ کوئی دفتر ہوتا ہے، نہ کوئی فائل، نہ کوئی رجسٹر۔ مگر انہیں پورے محلے کا مکمل ڈیٹا ازبر ہوتا ہے۔ کس گھر میں کتنے بچے ہیں۔ کس کی بیٹی کی شادی کب ہوئی۔ کس کے بیٹے نے کس مضمون میں داخلہ لیا۔ کس کے گھر مہمان آئے۔ کس کے ہاں رشتہ آیا اور کس کا رشتہ واپس چلا گیا۔ حتیٰ کہ بعض محققین کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فلاں گھر میں آج سالن کیا پکا تھا اور اس میں نمک کتنا تھا۔ یہ مواد سوشل میڈیا سے بھی مل جاتا ہے۔تاہم وسیع تناظر میں یہ معلومات کہاں سے آتی ہیں۔اس بارے تحقیق تاحال جاری ہے۔ان محققین کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ یہ اپنے حاصل کردہ ڈیٹا کو مناسب مواقع پر استعمال کرنا بھی جانتے ہیں۔ کسی کی خوشی میں شرکت ہو یا کسی کی پریشانی میں ہمدردی کا اظہار، ان کے پاس گفتگو کا ایسا ذخیرہ ہوتا ہے کہ سامنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ انہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا۔ بعض اوقات تو متعلقہ فرد کو بھی اپنی زندگی کے بعض گوشوں کا علم انہی محققین کی وساطت سے ہوتا ہے۔اس تحقیق کی ایک ذیلی قسم بھی ہے جس کے ماہرین پہلی ملاقات ہی میں اپنا تحقیقی کام شروع کر دیتے ہیں۔ ابھی آپ نے سلام دعا مکمل کی نہیں ہوتی کہ سوالات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔آپ کے کتنے بچے ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ شادی شدہ ہیں یا ابھی پڑھ رہے ہیں؟ کس اسکول میں پڑھتے ہیں؟اب بندہ حیران ہو کر سوچتا ہے کہ جناب والا! ابھی تو ہماری پہلی ملاقات ہے۔ آپ نے تو تعارف سے پہلے ہی میری اگلی دو نسلوں کا مستقبل جاننے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ آخر میرے بچوں کے تعلیمی، معاشی اور ازدواجی معاملات سے آپ کی تحقیق کا کیا تعلق ہے؟لیکن ان محققین کا عجب عالم ہے۔ یہ بہت وسیع القلب لوگ ہوتے ہیں۔ اپنی زندگی کے معاملات سے زیادہ دوسروں کی زندگی کے معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہیں اپنی پریشانیوں سے فرصت ملے،نہ ملے۔دوسروں کے حالات پر نظر رکھنے کے لیے وقت ہمیشہ دستیاب ہوتا ہے۔مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی تحقیق میں تصدیق کا مرحلہ بالکل اختیاری ہوتا ہے۔ کسی نے کچھ کہا۔ کسی نے کچھ سنا۔ کسی نے کسی سے سنا۔ اور بس خبر مستند ہو گئی۔ حوالہ پوچھنے کی جسارت نہ کیجیے گا۔ کیونکہ ان کا سب سے مضبوط حوالہ یہی ہوتا ہے کہ ”مجھے کسی نے بتایا ہے اور وہ بھی بہت معتبر ذرائع سے۔“ اب ان معتبر ذرائع کی شناخت پوچھنا ایک الگ قسم کی بدتمیزی شمار ہوتی ہے۔ تحقیق کا یہ زاویہ بعض اوقات اس قدر آگے نکل جاتا ہے کہ اس کے لیے در در پھرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔یہ حضرات فون پر سند بھی چاہتے ہیں۔ معلومات جمع کرنے سے لے کر ان کی تصدیق اور ترسیل تک سب کچھ فون پر ہی طے پا جاتا ہے۔ بعض حضرات تو غیر تصدیقی طور پر دوسروں کو ڈرانے دھمکانے، اپنی بات منوانے اور اس بات پر مجبور کرنے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں کہ ان کی اور ان کے پورے خاندان کی عزت کی جائے۔ گویا عزت بھی اب باہمی احترام اور کردار سے نہیں، بلکہ فون پر طے ہونے والی دھمکیوں اور دباؤ سے حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کسی کے بچوں، گھر، شادی، آمدنی، تعلیم اور نجی معاملات کے بارے میں غیر ضروری تجسس کو اگر ہم تحقیق کا نام دینے لگیں تو پھر تحقیق اور مداخلت میں فرق ہی باقی نہیں رہے گا۔ مگر ہمارے ان محققین کا اصول ہے کہ معلومات کی ترسیل میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ تصدیق بعد میں ہوتی رہے گی۔ پہلے خبر آگے پہنچانا ضروری ہے۔تحقیق کی نظر سے آخر کو ہم نے دیکھااکثر ہیں مال والے کم ہیں کمال والے(سراج اورنگ آبادی)گذارش صرف اتنی ہے کہ اگر آپ کو تحقیق کا اتنا ہی شوق ہے تو دنیا میں بے شمار موضوعات موجود ہیں۔ کتابیں ہیں، تاریخ ہے، ادب ہے، سائنس ہے، معاشرتی مسائل ہیں۔ ان پر تحقیق کیجیے۔ مقالے لکھیے۔ کتابیں شائع کیجیے۔ کم از کم کسی کے گھر کے بچوں کی تعداد اور ان کے مستقبل کے منصوبوں کو اپنا تحقیقی موضوع بنانے سے گریز کیجیے۔اور ہاں، پہلی ملاقات میں کسی سے اس کے بچوں کی مکمل تفصیلات پوچھنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیجیے کہ شاید سامنے والا آپ کو اپنے خاندان کا محقق مقرر کرنے کا خواہش مند ہی نہ ہو،کیونکہ ہر وہ معلومات جو آپ کے علم میں آ جائیں۔ ضروری نہیں کہ وہ آپ کے علم میں رکھنے کے لیے ہی تھی۔آخر میں ایک چھوٹی سی گزارش ہے کہ تحقیق ضرور کیجیے۔ مگر پہلے یہ تصدیق کر لیجیے کہ آپ منصبِ دلبراں پر فائز بھی ہیں یا نہیں۔اور آپ کو دوسروں کی نجی زندگی میں اس حد تک دخل دینے اور ان کے معاملات کی تحقیق کرنے کا حق بھی حاصل ہے یا نہیں۔ کیونکہ ہر سنی سنائی بات حقیقت نہیں ہوتی۔ہر معلوم ہونے والی بات بیان کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ اور ہر شخص کی زندگی آپ کی تحقیق کا موضوع نہیں ہوتی۔ پنجاب حکومت کا ہتکِ عزت کے مقدمات کے لیے خصوصی سیل قائم

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments