63.4 F
Pakistan
Monday, November 2, 2026
HomeEntertainmentمیں واپس آؤں گا، کمرے کی تمام دیواریں غائب ہو گئیں، دور...

میں واپس آؤں گا، کمرے کی تمام دیواریں غائب ہو گئیں، دور تک کوئی درخت کوئی گھر نہیں، قدموں کے نیچے سے سیاہ ہاتھ نکلے۔۔ ایک نہیں، درجنوں

مصنف: ارشادالعصر جعفریقسط: 59زاور خاموش ہو گیا۔ وجود نے ہاتھ اٹھایا، فضا میں ایک تصویر نمودار ہوئی — ایک گھر، بارش کی رات، عورت بچے کو سینے سے لگائے، اور دروازے پر وہی نوجوان مرد جو پرانی تصویر میں تھا۔ زاور کی ماں اسے دیکھ کر رو رہی تھی۔ مرد نے کہا: “میں واپس آؤں گا۔” “تم واپس نہیں آ سکتے۔” “مجھے آنا ہوگا۔” “وہ تمہیں مار دے گا۔” مرد نے جواب دیا: “اگر میں نہ گیا تو وہ ہمارے بچے کو لے جائے گا۔”زاور نے تصویر میں موجود مرد کو دیکھا۔ “یہ میرے والد ہیں؟” انسانپ نے آہستہ سے کہا: “ہاں۔” زاور کے اندر جیسے برسوں سے بند ایک دروازہ کھل گیا۔ “وہ کہاں گئے تھے؟” “مجھے ختم کرنے۔” “تمہیں؟” “نہیں،” اس نے سیاہ وجود کی طرف دیکھا، “اسے۔” سیاہ وجود خاموش کھڑا رہا۔ “پھر کیا ہوا؟” “تمہارے باپ نے اسے شکست دے دی۔” “تو پھر وہ کہاں ہے؟” “وہ مر گیا۔” “کس نے مارا؟” انسانپ نے زاور کی طرف دیکھا۔ “تم نے۔”زاور کے چہرے سے خون اتر گیا۔ “میں؟” “ہاں۔” “میں تو بچہ تھا!” “اسی لیے تو،” انسانپ نے آنکھیں بند کر لیں، “تمہیں یہ یاد نہیں۔”سیاہ وجود نے پہلی بار مداخلت کی۔ “اسے سچ بتاؤ، آزر۔” انسانپ نے غصے سے اسے دیکھا۔ “خاموش!” “سترہ سال سے تم اسے بچا رہے ہو۔” “میں اسے بچاتا رہوں گا۔” “کس سے؟” سیاہ وجود کی آواز میں ہنسی تھی۔ “مجھ سے؟” وہ زاور کی طرف متوجہ ہوا۔ “یا اس حقیقت سے کہ تم خود وہ چیز ہو جس سے تم سب ڈرتے رہے؟” “میں انسان ہوں۔” “یہ تمہیں بتایا گیا تھا۔” “اور کیا حقیقت ہے؟” “تمہیں دکھاتا ہوں۔”اس نے انگلی اٹھائی۔ کمرے کی تمام دیواریں غائب ہو گئیں۔ زاور ایک وسیع، سفید میدان میں کھڑا تھا — دور تک کوئی درخت نہیں، کوئی گھر نہیں، صرف سفید زمین، اور اس کے وسط میں ایک چھوٹا بچہ، زمین پر بیٹھا، اپنے سامنے ایک چھوٹا سا سوراخ کھودتا ہوا۔ زاور نے قریب جا کر دیکھا۔ بچے نے زمین میں ایک چھوٹی سی لکڑی کی تختی دفن کی، جس پر ایک نام لکھا تھا۔ زاور جھکا، پڑھا: آزر۔بچے نے سر اٹھایا۔ وہ زاور کو سیدھا دیکھ رہا تھا۔ “تم دیر سے آئے ہو۔” “تم کون ہو؟” بچے نے مسکرا کر کہا: “میں وہ ہوں،” اس نے قبر پر ہاتھ رکھا، “جسے تم نے اپنے اندر دفن کیا تھا۔” زاور پیچھے ہٹا۔ “اب مجھے نکالو۔” اچانک زمین پھٹ گئی، اس کے قدموں کے نیچے سے سیاہ ہاتھ نکلے — ایک نہیں، درجنوں — جو اس کی ٹانگوں کو پکڑنے لگے۔ زاور چیخا۔ دور کہیں انسانپ کی آواز آئی: “زاور! آنکھیں بند کرو!”اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ اندھیرے میں انسانپ کی آواز اسے کھینچنے لگی۔ “تمہارا جسم ختم ہو گیا تھا۔” “پھر؟” “تمہاری ماں نے تمہیں واپس مانگا۔” “کس سے؟” انسانپ نے سیاہ وجود کی طرف دیکھا۔ “اس سے۔” سیاہ وجود نے ہنس کر کہا: “اور اس نے قیمت ادا کی۔” “کیا قیمت؟” “اپنی یادیں۔”زاور ساکت ہو گیا۔ “میری ماں نے مجھے واپس لانے کے لیے۔۔۔” “اپنی پوری زندگی بھلا دی۔” “اسی لیے وہ مجھے پہچان نہیں پاتی تھی؟” “وہ تمہیں ہر بار پہچانتی تھی۔” “پھر؟” “مگر اگلی صبح بھول جاتی تھی۔”زاور کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک ایک منظر روشن ہونے لگا — ماں اسے گلے لگا رہی ہے، ماں اسے کھانا کھلا رہی ہے، ماں رات کو اس کے بستر کے پاس بیٹھی ہے، ماں اسے دیکھ کر رو رہی ہے، اور ہر صبح اسے دوبارہ دیکھ کر حیران ہو رہی ہے۔ زاور نے سر پکڑ لیا۔ “میں اسے ہر روز دوبارہ ملتا تھا۔۔۔” “اور وہ ہر روز تمہیں پہلی بار دیکھتی تھی۔”زاور زمین پر بیٹھ گیا۔ “یہ سزا کیوں تھی؟” “یہ سزا نہیں تھی۔” “پھر؟” “قیمت تھی۔”(جاری ہے)نوٹ: ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں زلزلے کے جھٹکے

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments