65.6 F
Pakistan
Wednesday, October 7, 2026
HomeBreaking Newsخلائی معجزہ: مردہ ستارے کی راکھ سے جنم لینے والا عجیب و...

خلائی معجزہ: مردہ ستارے کی راکھ سے جنم لینے والا عجیب و غریب ’فینکس سیارہ‘ دریافت

کائنات میں ستاروں کی موت ہمیشہ اختتام نہیں ہوتی، بعض اوقات انہی کے چھوڑے ہوئے مادے سے نئے فلکیاتی اجسام وجود میں آ سکتے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات نے اب ایک ایسے سیارے کی نشاندہی کی ہے جو بظاہر ایک مرتے ہوئے ستارے کے بچے ہوئے مادے سے تشکیل پایا۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ سیارہ ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود ایک ایسے سیاروی نظام کا حصہ ہے جو اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ اس کی تشکیل اس ستارے کی موت کے بعد ہوئی جس کے گرد یہ اب گردش کر رہا ہے۔ محققین کے مطابق یہ سیارہ ایک ایسے ستارے کے آخری مراحل کے دوران خلا میں خارج ہونے والے مادے سے بنا جو سورج سے کچھ بڑا تھا۔ ستارے کی زندگی ختم ہونے کے بعد اس کا انتہائی کثیف باقی ماندہ حصہ ’وائٹ ڈوارف‘ یعنی سفید بونا بن گیا، اور یہی سفید بونا اب اس سیارے کے مدار کا مرکز ہے۔ اس دریافت کو ’فینکس سیارہ‘ کہا جا رہا ہے کیونکہ قدیم داستانوں میں فینکس ایک ایسا پرندہ تھا جو آگ میں جل کر اپنی راکھ سے دوبارہ جنم لیتا تھا۔ اسی طرح یہ سیارہ بھی اپنے میزبان ستارے کی موت کے بعد اس کے چھوڑے ہوئے مادے سے وجود میں آیا۔ اسے ’سیکنڈ جنریشن‘ یعنی دوسری نسل کا سیارہ قرار دیا گیا ہے۔ عام طور پر زمین جیسے پہلے درجے کے سیارے نئے بننے والے ستارے کے گرد موجود گیس اور گردوغبار کی ڈسک سے تشکیل پاتے ہیں، لیکن یہ سیارہ ایک ایسے مادے سے بنا جو ایک تباہ ہوتے ستارے نے اپنی زندگی کے اختتام پر خلا میں چھوڑا تھا۔ علمِ فلکیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ دریافت خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ اس بات کی نئی مثال پیش کرتی ہے کہ ستارے کی موت کے بعد بھی اس کے گرد نئے سیاروی نظام تشکیل پا سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف واروک، انگلینڈ کے فلکی طبیعیات کے ڈاکٹریٹ طالب علم اور تحقیق کے سربراہ جیمی ولیمز نے کہا کہ یہ سفید بونے کے گرد سیارے کی تشکیل کا پہلا معلوم نمونہ ہے۔ ان کی یہ تحقیق رواں ہفتے سائنسی جریدے ’نیچر آسٹرونومی‘ میں شائع ہوئی ہے۔ یہ سفید بونا زمین سے تقریباً 250 نوری سال دور ’سیٹس‘ نامی برج کے قریب واقع ہے۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، جو تقریباً 9. 5 کھرب کلومیٹر کے برابر ہے۔ نیا دریافت ہونے والا سیارے کا حجم مشتری سے کچھ زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ مشتری ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے سفید بونے کے گرد صرف 4. 4 دن میں ایک چکر مکمل کرتا ہے اور اس کا فاصلہ زمین اور سورج کے درمیان موجود فاصلے کا صرف 4 فیصد ہے۔ سفید بونا سیارہ انتہائی گرم ہے اور اس سے خارج ہونے والی شدید بالائے بنفشی شعاعیں سیارے کے بیرونی ماحول کو بتدریج خلا میں اڑا رہی ہیں۔ اس عمل کے دوران سیارے کے ماحول کا کچھ مادہ واپس سفید بونے کی جانب گرتا ہے۔ سیارے کی کیمیائی ساخت بھی اس کی غیر معمولی پیدائش کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ اس میں نیوبیئم، تانبا اور زنک جیسے عناصر زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔ محققین کے مطابق یہ وہ عناصر ہیں جنہیں بعض مرتے ہوئے ستارے اپنی زندگی کے آخری مراحل میں خلا میں خارج کرتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیارہ ستارے کے باقی ماندہ مادے سے بننے والی ایک ڈسک سے تشکیل پایا۔ ولیمز کے مطابق افسانوی فینکس اپنی ہی راکھ سے دوبارہ جنم لیتا ہے، جبکہ اس سیارے کے معاملے میں یہ اپنے مرتے ہوئے میزبان ستارے کی راکھ سے دوبارہ پیدا ہونے والے نظام کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے مطابق دوسری نسل کا سیارہ وہ ہوتا ہے جو اپنے میزبان ستارے کی موت کے بعد تشکیل پاتا ہے، اور اس معاملے میں ستارہ سفید بونا بن چکا ہے۔ اس تحقیق کے لیے ہبل، ٹی ای ایس ایس اور ایف یو ایس ای خلائی دوربینوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا۔ محققین اب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اپنے نتائج کی مزید تصدیق کرنا چاہتے ہیں۔ نیا دریافت ہونے والا گیس کا سیارہ زندگی کے لیے موزوں نہیں، تاہم سائنس دانوں کے مطابق دوسری نسل کا کوئی اور سیارہ مستقبل میں قابلِ رہائش بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر سفید بونے کے گرد ایک گیس کا دیو ہیکل سیارہ بن سکتا ہے تو ممکن ہے کہ وہاں چٹانی سیارہ بھی تشکیل پائے۔ محققین کے مطابق سفید بونے سیارے وقت کے ساتھ ٹھنڈے ہوتے ہیں اور جیسے جیسے ان کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے، ان کے ٹھنڈا ہونے کی رفتار بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی چٹانی سیارہ مناسب فاصلے پر تشکیل پائے تو وہ اربوں سال تک سفید بونے کے قابلِ رہائش علاقے میں موجود رہ سکتا ہے۔ اسی تحقیق کے ساتھ شائع ہونے والی ایک دوسری تحقیق میں بھی ماہرین نے ایک غیر معمولی فلکیاتی نظام کا مشاہدہ کیا ہے، جو زمین سے تقریباً 300 سے 500 نوری سال دور برجِ ثور میں واقع ہے۔ محققین نے کیلیفورنیا کی پالومر آبزرویٹری میں موجود زوِکی ٹرانزینٹ فسیلٹی کی مدد سے سورج کے حجم کا تقریباً 8 فیصد رکھنے والے ایک سرخ بونے ستارے کو دریافت کیا، جو ایک ’براؤن ڈوارف‘ یعنی بھورے بونے کے انتہائی قریب مدار میں گردش کر رہا ہے۔ بھورا بونا ایسا فلکیاتی جسم ہے جو ستارہ بننے کے لیے بہت چھوٹا، لیکن سیارے سے کہیں زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ اس بھورے بونے کا حجم مشتری سے تقریباً 30 گنا زیادہ اور اپنے ساتھی ستارے کے حجم کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ دونوں اجسام صرف 87 منٹ میں ایک دوسرے کے گرد ایک چکر مکمل کرتے ہیں اور ان کے درمیان فاصلہ زمین اور چاند کے درمیانی فاصلے کے نصف سے کچھ زیادہ ہے۔ محققین کے مطابق سرخ بونے کی کششِ ثقل بھورے بونے سے مادہ اپنی جانب کھینچ رہی ہے۔ سائنس دانوں نے ستارے کی سطح پر ایک گرم مقام بھی دیکھا جہاں بظاہر یہ مادہ آ کر جمع ہو رہا ہے۔ تحقیق کے سربراہ اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے فلکی طبیعیات کے گریجویٹ طالب علم ایرون ہاؤس ہولڈر کے مطابق یہ اس مظہر کا پہلا مشاہدہ شدہ نمونہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اجسام ایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ ان کا مکمل مدار سورج کے اندر سما سکتا ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments