چوپال سجی ہوئی تھی۔ نتھو، پھتو، چاچا عبدالرشید سمیت سب براجمان تھے ۔ چپ سائیں کھنگورا مارتے ہوئے آئے۔ سب احتراماً کھڑے ہوگئے۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کااشارہ کیا۔ چپ سائیں خود اخبار کے مطالعے میں مصروف ہوگئے۔۔ چوپال میں سکوت طاری تھا۔۔۔چاچا عبدالرشید نے بولنے کی اجازت چاہی۔۔۔ سائیں جی نے اخبار سائیڈ پر رکھااور گویا ہوئے ۔۔بتائیں بھائی عبدالرشید معاملہ کیا ہے؟۔۔۔ چاچا عبدالرشید بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔ میں گھر میں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں کچھ فکر مند ہوں۔۔ میرے بچوں کی یونیورسٹی اور کالج لائف مکمل ہونے والی ہے۔۔ وہ امتیازی نمبروں سے تعلیمی منازل طے کررہے ہیں۔ میں نے ان پر تعلیمی لحاظ سے کبھی پابندی نہیں لگائی او ر انہوں نے جو چاہا انہی مضامین میں تعلیم حاصل کی۔۔۔ چپ سائیں بولے۔۔۔ تو بھائی پریشانی کس بات کی ہے؟۔۔۔ اس پر چاچا عبدالرشید بولے۔۔۔ سائیں جی اصل مسئلہ یہ ہے کہ میں نے سنا ہے کہ اب ٹیکنالوجی اتنی ایڈوانس ہوجائے گی کہ انداز بدل جائے گا۔۔۔ اس پر چپ سائیں زیر لب مسکرائے اورگویا ہوئے۔۔۔ بھائی عبدالرشید۔۔۔فکر مندی کی کوئی بات نہیں ہے ۔ ۔ ۔ تعلیم ، ڈگری کبھی ضائع نہیں جاتی۔۔۔ آپ کے بقول آپ کے بچوں نے شوق سے تعلیم مکمل کی یعنی اپنی مرضی کے مضامین رکھے اور تعلیم حاصل کی۔۔۔بس ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ وقت کے حساب سے خود کو تھوڑا تبدیل کریں اورجدت پسندی کی طرف آئیں۔۔ اس سے ان کو ملازمت میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ کہوںگا کہ بھائیو! ۔۔۔بچوں کوتعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کو وقت کے ساتھ ساتھ ڈھالنا چاہئے۔۔چپ سائیں چپ کرگئے۔۔۔ توقف کے بعد گویا ہوئے۔۔۔ چوپال کے دوستو اور بچوں! ۔۔۔آج کے دور میں نوجوان کے سامنے سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں کہ ’’کون سی ڈگری حاصل کی جائے؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ ’’اپنی صلاحیت، شوق اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کو کس طرح ایک سمت میں لایا جائے؟‘‘ ماضی میں کہاجاتا تھا کہ اچھی ڈگری حاصل کریں، ملازمت تلاش کریں اور پھر اسی شعبے میں زندگی گزاریں ، پر اب مگر ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ تصوربدل گیا ہے۔چوپال کے بچوں اور بھائیو میں زندگی میں تجربے کی بنیاد پر بات کرنے کا قائل ہوں اور آج آپ کے لیے میرا سبق یہ ہے کہ آج کے طالب علم کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میری ڈگری ہی میرا مستقبل ہے بلکہ میرے نزدیک ان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ میں اپنی ڈگری کے ساتھ کون سی مہارت پیدا کر سکتا ہوں؟۔ ڈگری ایک کاغذ نہیں ہے۔بھائی عبدالرشید میں یہ کہوں گاکہ مستقبل انہی لوگوں کے لیے زیادہ روشن ہے جواپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بناتے رہیں اور دوسروں سے ذرا مختلف کرنے اور آگے بڑھنے کی لگن رکھیں۔تاہم یہ بھی قابل ذکر ہے کہ دوسروںسے مختلف کر نے اور سوچنے کی صلاحیت ہر کسی میں نہیں ہوتی ہے لیکن جو لوگ ایسا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں وہی زندگی میں آگے بڑھتے ہیں۔صاحبو! ۔۔۔کبھی یہ تصور تھا کہ اچھی یونیورسٹی سے اچھی ڈگری حاصل کی جائے تو مستقبل محفوظ ہے۔ والدین اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق بچوں کو اعلی سے اعلی تعلیمی اداروں میں داخل کراتے۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد ڈگری ہاتھ میں آئی اور ملازمت کا دروازہ کھل گیا۔تاہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج دنیا کی رفتار پہلے جیسی نہیں رہی۔ نئی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، آن لائن کاروبار نے کام کرنے کے طریقے بدل دیے ہیں۔ آج اعلی سے اعلی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبا سے انٹرویو میں یہ سوال کیاجاتا ہے کہ آپ نے کیا سیکھا ،اور ہماری آرگنائزیشن کو مزید بہتر کیسے کرسکتے ہیں ، اپنے آئیڈیاز شیئر کریں۔۔۔ دوستو! ۔۔۔یہ سوال اپنی جگہ لیکن نئے ٹیلنٹ کو کام کا موقع ملے تو ہی صلاحیتیں نکھر کرسامنے آئیں گی اورپھر تجربہ بھی ہوگا۔۔۔تعلیم کے بعد دفاتر میںکام ایک مکمل الگ تجربہ ہوتا ہے لیکن نئے لوگوں کو حوصلہ کرنا چاہئے اور ہمت سے مسائل حل کرنے چاہئیں۔دوستو! ڈگری تو صرف راستہ دکھا تی ہے، مگر سفر انسان کو خود کرنا ہے۔ یہ مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن ناممکن نہیں ہوتا ۔اس وجہ سے میں تعلیم حاصل کرنے میں شوق کو نظر انداز کرنے کا نہیں کہتا۔۔۔ اگر شوق اور مرضی کے مضامین منتخب کیے جائیں اوراس کے بعد مرضی کے شعبے میں ملازمت مل جائے تو یہ سونے پرسہاگے والی بات ہوگی۔۔بھائی عبدالرشید۔۔۔ آپ کی بات سے میں یہ اخذ کرتا ہوں کہ کسی کے گھر میں ڈاکٹر بننا عزت کی علامت تو، کسی کے ہاں انجینئر بننا کامیابی کا معیار ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہر نوجوان کی صلاحیت، طبیعت اور دلچسپی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ایک بچے کو جس میدان میں کامیابی مل سکتی ہے، ضروری نہیں کہ دوسرے کے لیے بھی وہی میدان بہترہو۔صاحبو! ایک بچہ موبائل اور کمپیوٹر میں زیادہ وقت گزارتا ہے تو اس کو اس فیلڈ کا ہی انتخاب کرنا چاہئے۔۔۔ مگر افسوس۔۔۔کبھی کبھار ایسا نہیں ہوتا۔۔۔خیر۔۔۔بھائی عبدالرشید، نتھو، پھتو اور دیگر دوستو! ۔۔۔میر ی بات کو ہمیشہ یاد رکھو بلکہ اپنے بچوں کو بھی بتائو۔۔۔ ٹیکنالوجی علم کا متبادل نہیں،یہ تو صرف ایک سیڑھی ہے ۔اگر طالب علم صرف ٹیکنالوجی پر انحصار کرے اور سوچ کا تخلیقی عمل ترک کر دے تو وہ ایک مقام پر کامیابی کی منازل طے نہیں کرپائے گی اور ترقی کا عمل رک جائے گا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مستقبل کا کامیاب فرد وہ نہیں جو صرف جدید ترین ٹیکنالوجی سے واقف ہو بلکہ وہ سمجھ بوجھ سے اپنی انسانی صلاحیتوں کو بھی مضبوط رکھے اور ترقی کی منازل طے کرتا جائے۔صاحبو! مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا بدل رہی ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم بدلتی ہوئی دنیا کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں یا نہیں۔بھائیو اور دوستو! اصل سوال یہ بھی ہے کہ کیا طلبا کو تحقیق، تخلیق اور تجربے کے مواقع ملتے ہیں؟۔تعلیم کا مقصد صرف ملازمت کاحصول نہیں ہونا چاہئے ۔ تعلیم انسان کو ایسا فرد بناتی ہے جو سوال کر ے اور دلیل کو سمجھے۔بھائی عبدالرشید بحیثیت والدین بچوں کے مستقبل کا فیصلہ صرف ذاتی خواہشات کی بنیاد پرنہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔دوستو! ڈگری ہمیں بتاتی ہے کہ ہم نے کیا پڑھا، لیکن شوق بتاتا ہے کہ ہم کس طرف جانا چاہتے ہیں۔منزل تک پہنچنے کے لیے مسلسل سیکھنے کی عادت اور ٹیکنالوجی پرعبور بھی انتہائی ضروری ہے ۔چوپال کے بچوںاہم بات ہر وقت کچھ نیا سیکھنے کی جستجو ہے۔ڈگری کے ساتھ شوق،اور تیسری بات ٹیکنالوجی پرعبور۔۔۔یہ وہ مثلث ہے جو نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھولتی ہے اور نئے راستے دکھاتی ہے۔چپ سائیں نے بات کا اختتام علامہ اقبالؒ کے شعر پرکیادیار عشق میں اپنا مقام پیدا کرنیا زمانہ، نئے صبح وشام پیدا کررہے نام اللہ کا!
’’ڈگری، شوق اور ٹیکنالوجی‘‘
RELATED ARTICLES



